صحافت کے لیے ’’آزاد‘‘ ماحول کا بھارتی ڈھونگ

1990کی دہائی میں انٹرنیٹ کا استعمال شروع ہوا تو مجھ جیسے خوش فہم لوگ اس گماں میں مبتلا ہوگئے کہ ظلم اب دُنیا کے کسی بھی کونے میں ہو خلقِ خدا سے چھپایا نہ جاسکے گا۔ یہ دریافت کرنے میں بہت دیر لگی کہ ’’تازہ ترین خبر‘‘ کوفی الفور ناظرین وقارئین تک پہنچانے کے جدید ترین ذرائع نے دُنیا بھر کی حکمران اشرافیہ کوپریشان کردیا۔ہرریاست نے خواہ وہ چھوٹی ہو یا سپرطاقت والی شہرت کی حامل تہیہ کرلیا کہ جدید ترین ٹیکنالوجی کو اپنی پسند کا بیانیہ پھیلانے کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ ریاست کے وسائل کاروباری اعتبار سے کامیاب ترین میڈیا ہائوس کے مقابلے میں بھی کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔ریاستی بیانیوں کے فروغ کی جنگ میں لہذا ’’خبر‘‘بالآخر ہار گئی۔ ریاستوں کی بھرپور سرپرستی میں پھیلائے سرکاری بیانیے جیت گئے۔ ریاستی وسائل کے علاوہ نام نہاد ’’حب الوطنی‘‘ کے جذبات نے بھی ان بیانیوں کو طاقت ور ترین بنانے میں اہم ترین کردار ادا کیا۔

’’خبر‘‘ اور ’’ریاستی بیانیے‘‘ کے مابین جاری کش مکش کی شدت اور مایوس کن نتائج کو حال ہی میں مقبوضہ کشمیر پر مسلط ہوئے بلیک ڈائون کی واردات کا بہت غور سے مشاہدہ کرتے ہوئے میں نے گویا ایک بار پھر ’’دریافت‘‘ کیا ہے۔ ایمان داری کی بات یہ بھی ہے کہ مذکورہ واردات نے مجھے خوفزدہ کردیا ہے۔ ساری زندگی صحافت کی نذر کردیناواقعتا رائیگاں کاسفر محسوس ہونا شروع ہوگیا ہے۔ کالم نویسی کی افادیت پر بھی سوال اٹھانے کو مجبور ہورہا ہوں۔ایک بھارتی صحافی نے صرف انٹرنیٹ پر میسر ایک جریدے کے لئے بہت محنت سے سری نگر کے سفر کے بعد ایک داستان لکھی ہے۔اس کی بدولت علم ہوا کہ مقبوضہ کشمیر میں سمارٹ فونز،انٹرنیٹ حتیٰ کہ لینڈ لائن کے بغیر اپنے گھروں میں محصور ہوئے صحافیوں کو حقائق جاننے کے لئے بہت تگ ودو کرنا پڑرہی ہے۔ رات نوبجے کے بعد وہ گھروں سے نکلتے ہیں کیونکہ اندھیرا ہوتے ہی کرفیو میں ذرا ’’نرمی‘‘ آجاتی ہے۔چھپتے چھپاتے مریضوں کی تیمارداری کے نام پر ہسپتالوں تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔

وہاں جاکر دریافت کرنے کی کوشش ہوتی ہے کہ کون سے ہسپتال میں قابض افواج سے ہوئی جھڑپوں کی بدولت شدید زخمی ہوئے کتنے نوجوان اور خواتین وہاں لائے گئے ہیں۔مریضوں کے لواحقین یاعینی شاہدوں سے گفتگو کے ذریعے ’’خبر‘‘ مل جاتی ہے۔سوال اب یہ اٹھتا ہے کہ ’’خبر‘‘ کو ’’ہیڈآفس‘‘ تک کیسے پہنچایا جائے۔ انٹرنیٹ کی سہولت کے بغیر بیشتر صحافیوں نے اپنی لکھی خبروں کو Pen Drivesپر منتقل کرنے کا چلن اپنایا۔ یہ Drivesسری نگر سے دلی جانے والے مسافروں کے حوالے کی جاتی ہیں۔ ’’خبر‘‘ بھیجنے والے کو اگرچہ علم تک نہیں ہوتا کہ اس کی Driveمنزلِ مراد تک پہنچی یا نہیں۔اگرپہنچ بھی گئی تو اس کے اخبار یا ٹی وی چینل نے اسے چھاپنے یا نشر کرنے کا تردد کیا یا نہیں۔

مقبوضہ کشمیر پرمسلط اطلاعات تک رسائی کو ناممکن بنانے والی واردات کا توڑ ڈھونڈنے کشمیر ٹائمز کی مدیر انورادھا بھاسین نے ’’دُنیا کی (آبادی کے اعتبا ر سے) سب سے بڑی جمہوریت‘‘ کے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ بنیادی حقوق کی طلب گار انورادھا کی ’’مفادِعامہ‘‘ میں پیش ہوئی اپیل کی سرسری سماعت ہوئی۔ ’’منصفوں‘‘ نے مودی سرکار کی اس رائے سے اتفاق کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں حالات کو ’’پرامن‘‘ رکھنے کے لئے آئندہ چند دنوں کے لئے میڈیا پر نافذ ہوا بلیک آئوٹ ضروری ہے۔ ریاستی بیانیے کو ایک حوالے سے بھارتی سپریم کورٹ نے ’’آئینی اور قانونی‘‘ تحفظ فراہم کردیا۔اس ’’تحفظ‘‘ کے مقابلے میں ’’صحافت کے لئے آزاد‘‘ ماحول کا ڈھونگ بھی اپنی جگہ برقرار ہے۔ دلی سے صحافیوں کا ایک مخصوص گروہ سری نگر موجود ہے۔

وہ ’’برسرِزمین‘‘ موجود ’’حقائق‘‘ کو اپنی ’’خبروں‘‘ اور وڈیوز کے ذریعے بیان کئے چلے جارہا ہے۔ میڈیا پر ریاستی بیانیے کو فروغ دینے پرمامور ’’صحافی‘‘ انتہائی ڈھٹائی سے اپنے ٹویٹر اکائونٹس کے ذریعے بہت رعونت کے ساتھ یہ دعویٰ بھی کررہے ہیں کہ اگر آپ اپنے پیشے یعنی صحافت سے واقعتا مخلص ہیں تو ’’خبریں‘‘ حاصل کرنا اور انہیں اپنے اخبار یا چینل تک پہنچانا دشوار تو ہے مگر ناممکن نہیں۔ ’’اصل حقیقت‘‘ یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر سے کئی برسوں سے رپورٹنگ کرنے والے ’’صحافی‘‘ سست الوجود ہیں۔اپنی کاہلی کو میڈیا بلیک آئوٹ کا ’’بیانیہ‘‘ تراشتے ہوئے چھپارہے ہیں۔

مقامی صحافیوں کی اکثریت ویسے بھی ’’علیحدگی پسندوں‘‘ سے خوفزدہ ہے یا ان سے ’’لفافے‘‘ لینے کی عادی۔ بیشتر دلی سرکار کے خلاف لاعلاج تعصب میں بھی مبتلا ہیں۔سرکارکی پشت پناہی میں جدید ترین ذرائع ابلاغ کے ذریعے ہمیں ہر پل ’’باخبر‘‘ رکھنے کے دعوے دار جو بیانیہ پھیلارہے ہیں بھارتی قارئین وناظرین کی بے پناہ اکثریت کے دلوں میں موجود تعصبات کو بظاہر ’’ٹھوس‘‘ نظر آنے والے ’’ثبوت‘‘ فراہم کررہا ہے۔ بی بی سی واحد عالمی ادارہ تھا جس نے جھڑپوں کی فوٹیج حاصل کی۔

الجزیرہ کے لئے کام کرنے والے چند جی دار نوجوانوں نے آنکھوں کو بینائی سے محروم اور چہروں کو مسخ کرنے والی گولیوں کے استعمال کے ثبوت فراہم کردئیے۔ ان دونوں اداروں پر سوشل میڈیا میں مسلسل لعن طعن ہورہی ۔بھارتی ’’محبان ِوطن‘‘ کو اپنے وطن کے خلاف عالمی اور سامراجی قوتوں کی تیار کردہ ’’سازش‘‘ نظر آنا شروع ہوگئی ہے۔مقبوضہ کشمیر کے حالیہ واقعات کے تناظر میں ’’صحافت‘‘ کی زبوں حالی کو ذہن میں رکھتے ہوئے غوروفکر ضروری ہے۔ انتہائی دیانت داری سے بالآخر یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ سمارٹ فونز پر ابلاغ کی Appsکے سیلاب کے باوجود ’’معروضی حقائق‘‘ نامی شے کے بارے میں آگاہ رہنا اب ناممکن ہوگیا ہے۔کسی زمانے میں اخبار کے قارئین ’’معروضی ’’حقائق‘‘ سے آگاہی کے بعد اپنی رائے بنایا کرتے تھے۔ آزادانہ رائے بنانے کی اب بنیاد ہی موجود نہیں رہی۔ بیانیے ہیں۔

ان میں سے کسی ایک کو کوئی سوال اٹھائے بغیر تسلیم کرنا ہوگا۔ وسائل کی حقیقت کو ذہن میں رکھیں تو دُکھی دل سے یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ بالآخر ریاستی سرپرستی میں پھیلایابیانیہ ہی دیگر بیانیوں کے مقابلے میں حاوی رہتا ہے۔ریاستی بیانیے کی ’’جیت‘‘ تسلیم کرتے ہوئے ہمیں یہ بھی یادرکھنا ہوگا کہ 2003میں عراق پر جنگ مسلط کرنے کے بعد ہم جیسے کسی کمین صحافیوں کے لئے ’’آزادیٔ صحافت‘‘ کے حوالے سے قابل رشک شمار ہوتے ’’عالمی میڈیا‘‘ کے لئے امریکی افواج نے Embeddedصحافت کا چلن متعارف کروایا تھا۔ بصرہ سے بغداد کی جانب سرعت کے ساتھ پیش قدمی کرتی ہوئی افواج کے ہمراہ فوجی ہلمٹ اور گولیوں سے محفوظ بنانے والی جیکٹ پہنے صحافیوں کی ایک ’’بریگیڈ‘‘ بھی ہوا کرتی تھی۔ وہ ’’برسرِزمین حقائق‘‘ سے ہمیں آگاہ رکھتے ہوئے اپنی جان کو جوکھم میں ڈالتے نظر آتے۔

یہ دریافت کرنے میں بہت دیر لگی کہ ٹینکوں کی پیش قدمی کے بعد سکرینوں پر رونما ہونے والے ’’صحافی‘‘ درحقیقت ایک بے پناہ وسائل سے مالا مال سپرطاقت کا PR Brigadeتھے۔ہاتھی کے پائوں میں سب کاپائوںآجاتاہے۔امریکہ جیسی سپرطاقت نے Embeddedصحافت متعارف کروائی تو دُنیا بھر کی ریاستوں نے اس چلن کی اندھی تقلید کا وطیرہ اختیار کرلیا۔ ’’خبر‘‘ دُنیا کے ہر خطے میں ہارگئی۔ ریاستی بیانیہ ’’جیت‘‘ گیا۔ریاستی بیانیوں کی جیت نے بھی لیکن ’’استحکام‘‘ فراہم نہیں کیا۔

دُنیا کا نقشہ اٹھاکر بے ساختگی میں کسی بھی خطے پر زوم اِن کریں تو ہر سو انتشار اور افراتفری پھیلے نظر آرہی ہیں۔ایسی افراتفری 1940کی دہائی میں دو عالمی جنگوں کے اختتام کے بعد دیکھنے کو ملی تھی۔المیہ یہ ہے کہ موجودہ خلفشار کسی عالمی جنگ کے بغیر نمودار ہوا ہے۔ ’’فرد‘‘ کی ابتری کے اس عالم میں کوئی وقعت باقی نہیں رہی۔ اندھی نفرت وعقیدت میں بٹے ہجوم ہیں۔ ان میں سے کسی ایک کا حصہ بننے کو آپ مجبور ہیں۔ ’’انسانیت‘‘ نام تھا جس کا وہ شے ڈھونڈنے سے بھی نظر نہیں آرہی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے