مودی کا کشمیرسے ہزارسالہ غلامی کا انتقام (1)

ہندوستانی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں ایک صدارتی حکم اور پارلیمانی قانون کے تحت ریاست کے کشمیر کے ساتھ آئینی تعلقات کو ایک نئی جہت دے دی ہے، جس سے دنیا بھر میں ایک ہیجانی کیفیت پیدا ہو گئی ہے – اب ہر کوئی اپنی اپنی نا قص و کامل معلومات یا دلچسپی اور خواہش پر مبنی رائے قائم کرتا اور دیتا ہے اور اکثر آراء حقیقت کی عکاس نہیں ہو تیں – ریاست کے دونوں حصوں کی آئینی، جغرافیائی اور سیاسی حیثیت کا عینی گواہ اور طالب علم ہونے کی حیثیت سے میں قارئین کے لئے ہندوستانی اور ریاستی آئین کی روشنی میں تازہ ترین ترامیم اور قوانین کا خلاصہ پیش کرتا ہوں جس کی روشنی میں ممکن ہے معاملہ کی بہتر تفہیم ہو سکے-ہمارے لوگوں کا ذہن اس سلسلے میں واضح ہونا چاہیےتاکہ مخالف کے جھوٹے کیس کو اپنے سچے کیس سے ناکام بنائیں – گوکہ میں اس سے پہلے بھی بہت کچھ لکھ چکا ہوں ،یہ تحریر اس کے اعادہ کے علاوہ اس کی تفصیل سمجھی جائے – ہر مسئلے کے سمجھنے کے لئے فریقین تنازع کے کیس کو سمجھنے ، اس تنازع کے پس منظر اور زمینی حقائق کو جاننا ضروری ہے –

بر صغیر ہند، جو ہندو اکثریتی علاقہ تھا ، بالواسط ہاور بلاواسطہ تقریبآ ایک ہزار سال مسلمانوں ، اور وہ بھی غیر ہندی مسلمانوں کا غلام رہا اور ہم برصغیر کے مسلمان آج تک بابر، اکبر ، غوری پر ہی فخر کرتے ہیں ،جن کو ہندو اپنا دشمن سمجھتے ہیں – اس کے ایسٹ انڈیا کمپنی کے زریعہ سلطنت انگلشیہ کے زیر نگین آنے کے بعد ، ہندوؤں نے انگریزوں سے مل ملا کے پر پرزے نکالنے شروع کیے – دونوں میں قدر مشترک یہ تھی انہوں زمام اختیار و اقتدار مسلمانوں سے لیا تھا، اس لئے انتقام کا نشانہ بھی مسلمان ہی بنے – جب انگریزوں نے اپنے قدم جماکے ظلم کےنئے انداز اپنانے شروع کیے،اس کے ہندو مسلمان دونوں شکار ہونے لگے، جس وجہ سے وطن پرستی کی لہر میں غیر ملکی حکمرانوں کے خلاف دونوں کی سوچ ہم آہنگ ہوگئی لیکن انداز اپنا اپنا تھا -مسلمان بہ یک وقت ہندوؤں اور انگریزوں کی چیرہ دستیوں کا شکار تھے، اس لئے انہوں اپنی فلاح و بہبود کے لئے مختلف اقدامات اٹھانے شروع کیے جو بالآخر سیاسی جماعتوں کی تشکیل پر منتج ہوئے- پہلے انڈین نیشنل کانگریس کے جھنڈے تلے جمع ہوئے ،لیکن اس میں ہندوؤں کی بالادستی کی وجہ مسلمانوں نے الگ ملک کے لئے آل انڈیا مسلم لیگ کے پلیٹ فارم تلے جمع ہونے کا فیصلہ کیا ، تاہم مسلمانوں کی بڑی اور با اثر جماعت و شخصیات کانگریس سے ہی وابسطہ رہیں ، جن میں جمعیت العلمائے ہند، مولانا ابو الکلام سر فہرست تھے –

ہندوستان دو قومی نظریہ کی بنیاد پر 1947 میں تقسیم ہوا اور پاکستان وجود میں آگیا ، لیکن ہندوستان نے سب سے بڑی مسلمان اکثریت والی ریاست جموں وکشمیر پر فوج کشی کر کے تقسیم ہند کے اصولوں کے مغائر اس کے دوتہائی حصے پر قبضہ کر لیا – فرقہ پرست ہندوؤں کو مسلمانوں کی ہزار سالہ غلامی نہ بھولی – پاکستان اور ہندوستان میں بسنے والے مسلمانوں کا خون چوس کر اکھنڈ بھارت بنانے کے خواب نے ان کو بے چینی میں مبتلا کر رکھا – مشرقی پاکستان میں حکومت پاکستان کی بے تدبیر یوں نے ہندوستان کو اس پر فوج کشی کا موقعہ میسر کیا اور پاکستان کے اس حصے کو 1971 میں کاٹ کر بنگلہ دیش بنادیا گیا-اندراگاندھی نے سقوط ڈھاکہ پر اپنی تاریخی تقریر میں یہ زہر آلود جملہ کہا : “ آج ہندوستان کی غلامی کی ایک ہزار سالہ تاریخ اور دو قو می نظریہ بحر ہند میں غرق ہو گیا “۔

یہ ہندوستان کے ہر ہندو لیڈر کا خواب ہے، جس کی تکمیل مودی نے کشمیر کی مسلم شناخت مٹا کر ، ہزاروں بے گناہ مسلمانوں کا قتل عام کرکے ، اب اس سنت پر سارے فرقہ پرست ہندؤوں کو مسلمانوں کو “ شد ھی “ بنانے ، نہ ماننے پر نازیوں جیسا سلوک جاری رکھنے پر لگا دیا ہے – ان فرقہ پرستوں کی سوچ نہ صرف مسلمانوں کے خلاف بلکہ عیسائیوں، سکھوں اور ہر غیر ہندو کے خلاف وہی ہے جو ہٹلر کی یہودیوں کے خلاف تھی اور یہ سوچ دنیا بھر کے غیر ہندؤوں کے خلاف ہے- اس پر دنیا بھر میں آگہی کروانے کی ضرورت ہے – مودی ذاتی طورپر کالی دیوی کا پجاری ہے جس کی پیاس انسانی خون مانگتی ہے – سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ کے طور بی جے پی کے مسخرے چٹخارے لے کے اس کا مقصد ’’کشمیر میں گھر بنائیں گے اور کشمیری گوری لڑکی سے شادی کریں گے‘‘ بتلاتے ہیں – یہ بات کسی معمولی آدمی نے نہیں بلکہ ریاست ہریانہ کے بی جے پی کے چیف منسٹر نے بھری مجلس میں کہی -مودی ، امیت شاہ اور اور ڈؤل کی ہندوتوا کی سخت گیر بنیاد پرست پالیسی سے مجھے اندیشہ ہے کہ ہندوستان میں رہنے والوں کے لئے گائے کا پیشاب پینا بھی لازمی نہ قرار دیں –

ہندوستان کی واحد مسلم اکثریت والی ریاست کے ہندو حکمران سے تقسیم ہند کے قانون کے اصولوں کے خلاف اپنے نام صرف تین امور پر الحاق کرایا جس میں دفاع، خارجہ اور مواصلات شامل تھے، حالانکہ مہاراجہ کشمیر نے اس سے پہلے پاکستان کے ساتھ’’ سٹینڈ سٹل معاہدہ ‘‘کر رکھا تھا، جس کے تحت مرکزی نوعیت کے تمام معاملات پاکستان کے اختیار میں آگئے تھے لیکن وقت کے حکمرانوں نے اس صورت حال کو سنبھال نہ سکے- معاملہ ہندوستان سلامتی کو نسل میں لے گیا، جہاں اس کا فیصلہ استصواب رائے کے ذریعہ ہونا قرار پایا ، جو ہنوز تشنہ تکمیل ہے – کشمیر کو اس وقت کے حکمرانوں ،لیڈروں اور اقوام متحدہ کے وعدوں کی باوجود حق خود اختیاری کے ذریعہ اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقعہ نہیں دیا، جس کے بر عکس ہندوستان نواز کشمیری لیڈروں کے ساتھ معاہدوں کے تحت کشمیر پر ہندوستانی آئین نافذ کیا گیا لیکن اس کے اندر ایک خصوصی دفعہ (370)کو شامل کرکے کشمیر حکومت کی مرضی اور مشورے سے ہندوستانی آئین کی صرف ان دفعات کا کشمیر پر اطلاق کا فیصلہ ہوا جس پر کشمیر حکومت متفق ہو – اس دفعہ کے تحت ہندوستان ریاستی حکومت کی مشاورت سے ہندوستانی آئین کے وہ دفعات کشمیر پر نافذ کر سکتا تھا جو مہاراجہ کے الحاق نامہ کے مطابق ہو ں اور اگراس سے ہٹ کے کسی دفعہ کے اطلاق کی ضرورت ہو، تو اس کا نفاذ ریاستی حکومت کی رضامندی کی تحت ہی کیا جا سکتا تھا – اسی دفعہ کے تحت درج ہے کہ یہ دفعہ اس وقت تک آئین میں موجود رہے گی جب تک کشمیر کی آئین ساز اسمبلی اس کو منسوخ کرنے کی سفارش نہیں کرتی- ریاست کشمیر کی آئین ساز اسمبلی ریاستی آئین مکمل کر کے اس دفعہ کی منسوخی کے بغیر 1958 میں تحلیل ہوگئی لہٰذا یہ دفعہ مستقل صورت اختیار کر گئی اور ہندوستان کے پاس اس کے علاوہ کوئی اختیار نہیں جو اس کو اس دفعہ کے تحت دیے گئے ہیں –

یہاں قارئین کی آگہی کے لئے یہ درج کرنا بھی ضروری ہے کہ ہندوستان کی آئین ساز اسمبلی میں ریاست کشمیر کے چار نمائندے تھے جن، کے اتفاق سے دفعہ 370 ہندوستانی آئین میں شامل ہوئی، جس کے تحت ہندوستانی آئین کے نفاذکی راہ ہموار کی گئی – ریاست کا اپنا آئین بھی ریاستی آئین ساز اسمبلی کی سفارش پر 1956 میں پاس ہوا اور 26 اگست 1957 کو نافذ ہوا ، تاہم اس کی دفعات 1 سے 8 تک 1956 میں آئین کے پاس ہوتے ہی نافذ کی گئی تھیں –
ہندوستانی آئین کا نفاذ 26 جنوری 1950 کو ہوا جس کے تحت اس وقت کشمیر پر ہندوستانی آئین کی دفعہ 370 کے تحت صرف دفعہ ایک (۱) کا اطلاق کیا گیا جس کے تحت کشمیر کو باقی ہندوستانی ریاستوں کی طرح اپنا حصہ قرار دیا گیا جبکہ کشمیر کو ڈوگرہ حکمران کے بنائے ہوئے 1939 کے آئین کے تحت مناسب رد و بدل کے ساتھ چلایا جاتا رہا –

دفعہ 370 کا اختصار یہ ہے کہ ہندوستان ریاست کشمیر میں آئین کی صرف ان دفعات اور ان قوانین کا نفاذ کر سکتا ہے جو مہاراجہ کی دستاویز الحاق میں شامل ہیں یا ان سے مطابقت اور مماثلت رکھتے ہوں- اگر اس سے علاوہ کسی آئینی دفعہ یا قانون کا اطلاق کرنا ہو تو اس کے لئے مقامی حکومت کی مشاورت اور منظوری لازمی ہے-ہر دو صورتوں میں آئین کی متعلقہ دفعات کو مناسب ترامیم ، اضافے یا کمی بیشی کے ساتھ نافذ کیا جا سکتا تھا – جس کا مطلب ہے ہندوستانی آئین کو کشمیر کی حد تک نافذ کرنے کے لئے پارلیمنٹ کی منظوری مطلوب نہیں تھی – یہ دفعہ عارضی تھی کیونکہ اس کی توثیق یا تنسیخ کا فیصلہ کشمیر کی آئین ساز اسمبلی نے کرنا تھا، جس کی سفارش کے مطابق صدر جمہوریہ ہند اسے ختم بھی کر سکتے تھے ، لیکن آئین ساز اسمبلی اپنی مدت مکمل کر کے ختم ہوگئی اور اس نے اس کو منسوخ نہیں کیا ، اس لئے یہ دفعہ اب ہندوستانی آئین کا مستقل حصہ بن گئی ہے – ہندوستان کے ساتھ ریاست کا رشتہ صرف اسی دفعہ کے تحت قائم ہوا ہے، اگر اس کے تحت دی گئی رعایات کو ختم کیا گیا تو ہندوستان کے ساتھ اس کا رشتہ بھی ختم ہو جا ئے گا –

(جاری ہے۔۔۔)

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے