متحدہ عرب امارات سعودی کشتی سے چھلانگ لگا چکا؟

چند روز قبل دبئی میں مقیم ولی عہد کے سابق ایڈوائزر ڈاکٹر عبدالخالق عبد اللہ نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ "یمن میں جنگ متحدہ عرب امارات کے لیے ختم ہوچکی ہے ” ۔ البتہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ان کا یہ ٹویٹ بطور ایک سرکاری فرد کے پوسٹ ہوا لیکن یہ امارات میں ایک نئے رجحان کی نشاندہی ضرور کرتا نظر آتا ہے – ایک ایسا رجحان جس نے یمن اور ایران کے ساتھ تعلقات پر نیا رخ اختیار کیا ہے ، ایسے میں اہم بات یہ ہے کہ کہ یہ نئے حالات اچانک پیدا ہوئے ہیں اور حال ہی میں ریاض اور ابوظہبی کے مابین اس حوالے سے کسی بھی ہم آہنگی کی کوئی بات نہیں ہوئی –

متحدہ عرب امارات نے یمن میں ایران اور اس کے پراکسیوں کو شکست دینے کے ارادے سے سعودی عرب اتحاد میں شرکت کی -اس لحاظ سے ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے ایک دوسرے سے قدم ملائے رکھا ۔ تاہم ، پچھلے دو ہفتوں کے دوران متحدہ عرب امارات کے اقدامات اس کے کردار اور صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ اس کی پالیسیوں کو لاحق خطرات اور انکو محفوظ رکھنے کی عکاسی کرتے ہیں۔

ابوظہبی کو اندازہ ہوچکا ہے کہ یمن میں جنگ فوجی طور پر ختم نہیں کی جا سکتی ، چار سال گزرنے کے بعد بھی جنگ ختم ہونے اور کسی گروہ کی جیت کا کوئی اشارہ نہیں ،لیکن اس سب کے باوجود متحدہ عرب امارات کی افواج کو یمنی قابض فوج سمجھتے ہیں اور ان کا یہ الزام ہے کہ وہ یمن کو دو الگ الگ اداروں میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں-

حوثیوں کے بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے امارات کے لیے مستقل خطرہ بن چکے ہیں ، جس کا ابوظہبی کوسعودی زیرقیادت اتحاد میں شامل ہوتے وقت ادراک نہیں ہو سکا تھا ۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ متحدہ عرب امارات نے امریکی ارادوں کو زیادہ واضح طور پر بھانپنا شروع کر دیا ہے ، ان کے لیے یہ واضح ہو چکا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا خاص طور پر اس وقت جب وہ دوبارہ انتخابی مہم کی تیاری کر رہا ہے، ایران کے ساتھ کسی بھی جنگ میں شریک ہونے کا ارادہ نہیں –

مزید یہ کہ ، متحدہ عرب امارات کے لیے ایران کی حمایت یافتہ ( دہشت گرد جماعت ) حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ کے اس انتباہ ، جس میں کہا گیا ہے کہ اس کی قیمت "شیشے کے شہروں” کو تہس نہس کرنے کی صورت میں ادا کرنی پڑے گی نے اماراتی رہنماؤں کو یمن سے انخلا اور ایران کے ساتھ تعلقات کو تیز کرنے پر مجبور کیا ہے۔

ہم ابوظہبی اور ریاض کے مابین ہم آہنگی کا درست لیول نہیں جانتے ہیں لیکن ہم یہ جانتے ہیں کہ سعودی عرب نے امارات کو یمن سے دستبرداری سے روکنے کی کوشش کی جس کا سعودی عرب کو بظاہر کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

متحدہ عرب امارات نے اپنی پالیسیوں اور معاہدوں پر پر نظر ثانی کرنا شروع کردی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ وہ آئندہ جنگ میں توپ کا گولہ نہیں بننا چاہتے ۔

توقع ہے کہ اس طرح کے آزادانہ اقدام سے سعودیوں کا ناراض ہونا یقینی ہے ۔ اگرچہ امارات کا یمن سے دستبرداری اور ایران سے مفاہمت تک پہنچنے کا فیصلہ حقیقت پسندانہ اور عقلی ہے اور ماضی میں بھی دولت مند امارت نے ایرانیوں کے لئے تجارتی آؤٹ لیٹ کی حیثیت سے کام کیا ہے-

مختصراً متحدہ عرب امارات کو یہ احساس ہو گیا ہے کہ سعودی کشتی اب زیادہ محفوظ نہیں ہے اور یہ لامحالہ ڈوب جائے گی، اسی صورتحال نے ابوظہبی کو اس کشتی کو خیر آباد کہنے پر مجبور کیا ہے۔

یہ حیرت کی بات نہیں ہوگی اگر بالآخر ریاض بھی اس معاملے میں امارت کی پیروی کرتے ہوئےیمن سے نکل جاتا ہے-

یہ مضمون معروف عربی جریدے ”الشرق” میں شائع ہوا جس کا ترجمہ الیاس بابر محمد نے کیا

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے