‫معزز چیف جسٹس کیا تاریخ کا پُلِ صراط پار کر پائیں گے؟‬

[pullquote]معزز چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ کیسے جج ہیں؟[/pullquote]

عزت مآب چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ کی شخصیت اور عہد پر اُنکی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ایک بھرپور فیچر آرٹیکل لِکھ سکتا تھا لیکن یہ میری دانست میں غلط ہوتا۔ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی ریٹائرمنٹ کی شام اُن پر لکھنے بیٹھا تو دو ہزار سے زائد لفظوں کا آرٹیکل لکھ دیا لیکن پھر دِل میں خیال آیا کہ ایک جاتے ہوئے بے اختیار شخص پر قلمی مشق کرکے کونسا ٹیپو سُلطان کہلاوں گا؟ اِس لیے وہ لِکھا ہوا آرٹیکل چھپنے کے لیے نہ بھیجا۔ مائی لارڈشِپ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ پر اُنکے عہد میں لِکھ رہا ہوں تاکہ سند رہے بقولِ شاعر

ہمیں کو جراتِ اظہار کا سلیقہ ہے
سدا کا قحط پڑا تو ہم ہی بولیں گے

سیاست، عدالت، آئینِ پاکستان اور تاریخ کا ایک ادنیٰ سا طالبعلم ہوں۔۔ پِچھلے کئی سالوں سے اہم مُقدمات کی تمام سماعتیں ذاتی شوق کی خاطر دیکھنے آتا ہوں، قلمبند کرتا ہوں اور کبھی کبھار اُن سماعتوں کا آنکھوں دیکھا احوال کسی ویب سائٹ کے لیے رقم کردیتا ہوں۔ مُقدمات کی سماعت کے دوران پسِ پردہ مُتحرک شخصیات کی سرگرمیوں پر بھی جِس حد تک مُمکن ہوتا ہے ذرائع سے معلومات اکٹھی کرتا ہوں اور پِھر اُن مُقدمات کے فیصلوں میں اپنے پاس پہلے سے موجود معلومات کو تلاش کرکے سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں کہ جو خاکہ میرے پاس پہلے سے موجود تھا اِس فیصلہ نے اُس میں رنگ بھرے یا نہیں؟ اور پِھر اُسی کو بنیاد بنا کر اپنے معزز ججز کے بارے میں تاثر قائم کرتا ہوں۔ مُقدمات کی سماعت سُن کر اور فیصلے پڑھ کر آئین و قانون کی سمجھ بوجھ بھی کُچھ بہتر ہوئی ہے لیکن سب سے دِلچسپ سماعت کے دوران ججز کے چہروں کے تاثرات کا مُشاہدہ ہوتا ہے۔ کیسے بعض اوقات ایک جج کے وکیل سے پوچھے گئے سوال کو ساتھی جج جواب آنے سے پہلے ریمارکس دے کر ڈی ریل کر دیتا ہے۔ یہ سب اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھنا ایک صحافی کے تجربہ میں اہم اضافہ ہوتا ہے۔ میں صحافت نوکری سمجھ کر نہیں کرتا بلکہ اپنے پروفیشن کے ایک ایک لمحہ کو انجوائے کرتا ہوں۔ یہ تھا میرا تعارف۔

ہم سب کی زندگی میں کُچھ نہ کُچھ اصول ہوتے ہیں جِن کی بنیاد ہماری نظریاتی وابستگی ہوتی ہے۔ جو لوگ نظریاتی بنیادوں پر زندگی جی رہے ہوتے ہیں وہ اپنی زندگی میں کُچھ اصولوں پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کرتے کیونکہ وہ اپنے ضمیر کو جوابدہ ہوتے ہیں۔ ضمیر کے بارے میں ویسے تو عطاالحق قاسمی نے کہا تھا کہ ضمیر کُچھ نہیں ہوتا صرف گناہ کی لذت کو کِرکرا کرتا ہے۔ لیکن ہم جیسے ضمیر کے تابع ہی زندگی گُزار دیتے ہیں اور ضمیر کے اسیر اِس لیے اپنے نظریات اور اصولوں سے انحراف نہیں کرتے کیونکہ کمبخت ضمیر عُمر بھر ایسے کیچوے لگاتا رہتا ہے کہ ساری زندگی سکون غارت رہتا ہے۔ ہاں بے ضمیر کو استثنیٰ ہے وہ بادبان کی مانند ہوا کے رُخ کے ساتھ بدلتے جاتے ہیں اور بظاہر اپنے خاندانوں کی زندگیاں بہتر کرجاتے ہیں مگر تاریخ میں وِلن قرار پاتے ہیں۔

معزز چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ جب سینئر جج سپریم کورٹ تھے تب سے اُنکی عدالت میں اہم مُقدمات کی سماعت دیکھنے کے لیے حاضر ہو رہا ہوں۔ کم از کم میں نے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کو کبھی برہم نہیں پایا اور نہ ہی اُنکو ایسے لہجے میں ریمارکس دیتے دیکھا کہ جو کسی بھی جج کے کنڈکٹ کے خلاف ہوں۔ جناب چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ مُقدمہ کی سماعت کو انتہائی باوقار انداز میں لے کر چلتے ہیں اور عموماً عام سائلین کے مُقدمات میں بھی سماعت طویل ہونے دیتے ہوئے درخواست گُزار کے وکیل کو دلائل کا مُکمل وقت دیتے ہیں اور انتہائی انہماک سے دلائل سُنتے ہیں جِس دوران اُن کے چہرے کے تاثرات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کسی نتیجے پر پہنچنے کے لیے مُقدمہ کا ہر پہلو سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں۔

[pullquote]کیا معزز چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی قانونی تشریح اور اطلاق میں تسلسل نہیں؟[/pullquote]


حال ہی میں معزز چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ صاحب نے فیڈرل جوڈیشل کمیشن سے خطاب میں فرمایا کہ ضمیر کے مطابق فیصلے کرنے سے جو سکون ملتا ہے اُس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ میں آج تک سمجھتا رہا معزز ججز آئین اور قانون کے مطابق فیصلے دیتے ہیں جِس میں اُنکے تجربہ اور حِکمت کا عمل دخل ہوتا ہے لیکن اب معلومات میں اضافہ ہوا کہ معزز ججز ضمیر کے تابع فیصلے بھی دیتے ہیں۔ جسٹس کھوسہ چیف جسٹس ہیں بائیس سال سے جج ہیں یقیناً درست کہہ رہے ہوں گے۔ اب میں سمجھنا چاہتا ہوں کہ دسمبر 2014 میں تحریکِ انصاف کے رہنما اسحاق خاکوانی بنام وزیراعظم نوازشریف کیس میں چیف جسٹس نے فیصلہ تحریر کرتے ہوئے آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ کو لاگو کرنے کرنے کی استدعا جِن دلائل کو بُنیاد بناتے ہوئے مُسترد کی وہ اُنکے ضمیر کی آواز تھی یا قریباً دو سال بعد اپریل 2017 میں پانامہ لیکس کیس میں جب اِسی آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ کا سابق وزیراعظم نواز شریف پر اطلاق کیا وہ ضمیر کے مطابق درُست تھا کیونکہ دونوں ہی مُقدمات میں سابق وزیراعظم نوازشریف کی پارلیمنٹ میں تقریر کو بنیاد بنایا گیا تھا۔ میں اپنی کم علمی کی وجہ سے یہ سمجھنے سے بھی قاصر ہوں کہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے الوداعی فُل کورٹ ریفرنس سے خطاب میں صدرِ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی زیرِ صدارت تمام اہم اداروں کے سربراہوں، پارلیمانی جماعتوں کی قیادت پر مبنی جو اعلیٰ سطحی اجلاس بُلا کر طرزِ حُکمرانی میں سب کی آئینی حدود طے کرنے اور ماضی میں کی گئی مُداخلت سے کمزور ہوتی گورننس سے سیکھنے کی جو تجویز دی تھی وہ اُنکے ضمیر کی پُکار تھی یا جب اِسی حُکمرانی کی حدود پر آنے والے سالوں میں بھی بلاشراکتِ غیر بالادستی مُستحکم رکھنے کے لیے مائی لارڈ شِپ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے ایک ساتھی جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف بظاہر بدنیتی پر مبنی ایک ریفرنس کو کاروائی کے لیے منظور کیا گیا وہ ضمیر کے تابع تھا۔

[pullquote]آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ پر کیا معزز چیف جسٹس کی سوچ تبدیل ہوئی؟[/pullquote]


معزز چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے دسمبر 2014 میں تحریکِ انصاف کے رہنما اسحاق خاکوانی بنام وزیراعظم نوازشریف کے فیصلہ میں آج سے 32 سال پُرانے اپنے لکھے ایک آرٹیکل کی رائے کو بنُیاد بنایا۔ 1988 میں تحریر کردہ معزز چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے آرٹیکل سے چند مُنتخب اقتباسات پڑھنے والوں کے سامنے اپنا نقطہِ نظر سمجھانے کے لیے پیشِ خدمت ہیں۔

‫“‬اگر کسی آئین کی دفعات کے ذریعے مطلوبہ یقین اور صراحت حاصل نہ ہو سکے اور اس آئین کی شوہ دفعات مزید ابہام اور غیر یقینی پیدا کردیں تو اس کا مقصد ہی ختم ہو جاتا ہے، ایسے ہی ایک آئینی ابہام کی مثال ہمیں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے 1973 کے آّئین کی دفعات باسٹھ اور تریسٹھ میں ملتی ہیں۔

آئین کے ترمیم شدہ آرٹیکل 62 میں ان جملوں اور اصطلاحات کا استعمال کیا گیا ہے جو نہ صرف شہریوں کے ذہن میں الجھن پیدا کرتی ہیں بلکہ ان کی تشریح وکلا اور عدالوتوں کے لیے بھی ایک ڈرائونا خواب بن سکتی ہیں۔

آئین کے آرٹیکل کی شق 62 ایف ون قانونی ابہام کو دعوت دیتی ہے۔ اس شق میں بیان کیا گیا ہے کہ کوئی شخص مجلس شوری کی رکنیت کے لیے اہل یا نااہل ہو گا اگر وہ: اگر وہ باشعور، پارسا، امین اور ایماندار ہو۔

کوئی شخص باشعور ہے یا نہیں اس کا فیصلہ اس کے ذہن کے جامع تجزیے پر منحصر ہے، ناں کہ انتخابی تنازعات میں الجھی عدالتوں یا انتخابی اتھارٹیوں کے محدود دائرہ کار پر۔

کسی بھی انسان کے شعور یا ہوش مندی کو ناپا نہیں جا سکتا۔ یہی معیار اس شخص کی ایمانداری اور شرافت کے لیے بھی ہے۔ یہ عوامل انسان کی ذہنی حالت سے وابستہ ہیں اور ان کو اس شخص کی زندگی کے تفصیلی تجزیے کے بغیر پرکھنا ناممکن ہے۔ مشہور محاورہ ہے کہ شیطان بھی انسان کے ارادے کو نہیں پہچان سکتا۔ تو قانون میں ایسی شقوں کو رکھنے کی کیا ضرورت ہے جن کا ثبوت تو کیا تعریف بھی نہیں کی جا سکتی۔

دیگر تقاضوں میں صادق اور امین ہونا بھی شامل ہے جو مکمل طور پر آنحضرت ص کی ذات مقدس کا حوالہ ہے۔ اس کے علاوہ آئین کی دفعہ 62 کی دیگر شقوں کے تقاضوں کو شائد اس لیے شامل کیا گیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنا سکیں کہ (صرف خدا اور اس کے رسول ص کے معیار پر پورا اترنے والے) خالص اور ایماندار مسلمان ہی منتخب ہو کر اسمبلیوں میں جا سکیں، تاکہ وہ خدا کی حاکمیت کو ایک مقدس امانت کے طور پر استعمال کر سکیں۔

لیکن کسی بھی ملک کا آئین مثالیت پسندی سے زیادہ عملی ہونا چاہئے۔ نبوت کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے اور اب ہم سب گناہ گار بشر ہیں۔ ہمارے ملک کا سیاسی میدان ان ہیوی ویٹس سے بھرا پڑا ہے جن کے سیاسی و سماجی اوصاف ان کے اخلاقی اوصاف پر بھاری پڑ جاتے ہیں۔ْ یہاں تک کہ ہمارے ملک کے رائے دہندگان نے بھی بارہا عملی حکمت کو مذہبی تطہیر پر ترجیح دی ہے۔ لہذا بنیادی قانون میں اس قسم کی غیرحقیقت پسند اور مبہم تقاضوں کی شمولیت اسے غیرعملیت پسند بناتی اور اسے اس تقدیس سے دور کرتی جس کا آئین مستحق ہے۔‫”‬

لیکن جِس طرح پانامہ لیکس بینچ کے سربراہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اپنے اختلافی نوٹ میں قطری خط کو نوازشریف کی پارلیمنٹ میں کی گئی تقریر میں بیان کردہ کہانی سے اخراج قرار دیا تھا ویسے ہی جب چیف جسٹس نے سابق وزیراعظم نوازشریف پر اپنے اختلافی نوٹ میں باسٹھ تریسٹھ لگایا وہ مُجھ جیسے ناسمجھ کو چیف جسٹس اصف سعید کھوسہ کے باسٹھ تریسٹھ پر 1988 میں لکھے آرٹیکل اور دسمبر 2014 میں اسحاق خاکوانی بنام نوازشریف کیس کے فیصلہ میں درج معزز چیف جسٹس کا اپنی آرا سے اخراج لگا۔ معزز چیف جسٹس نے پانامہ لیکس کے اپنے اختلافی نوٹ میں اِس کی وجہ بھی بیان کی اور لِکھا کہ جب تک یہ شِقیں آئینِ پاکستان کا حصہ ہیں مُلک کی عدالتوں نے اِن کے نفاذ حلف لے رکھا ہے۔

میں سوچتا ہوں کہ کیا مائی لارڈ شِپ نہیں سمجھتے تھے کہ پاکستان میں اپیل کے حتمی فورم سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان اگر باسٹھ تریسٹھ کی شِق کا اطلاق عوامی مُفاد کے آرٹیکل 184/3 کے تحت سُنے جانے والی درخواست میں کریں گے تو وہ قانون کا سِکہ رائج الوقت یعنی لا آف دا لینڈ کہلائے گا اور ایسی نظیر قائم ہوگی جو سادہ لفظوں میں دوزخ کے ایسے دروازے کھولے گی جِس میں جل کر سب پارلیمنٹیرینز بھسم ہوجائیں گے۔ مُجھے لگتا ہے کہ معزز چیف جسٹس آسف سعید کھوسہ کو بخوبی اِسکا اِدراق تھا اور اِس خدشہ کا اظہار انہوں نے پانامہ لیکس کیس کی ایک سماعت کے دوران اپنے ریمارکس میں کُچھ یوں کردیا کہ اگر صادق اور امین کے میزان پر مُنتخب نمائندوں کر پرکھنا شروع کیا تو پارلیمنٹ میں صرف جماعتِ اسلامی کے امیر سراج الحق ہی بچیں گے۔

معزز چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ دسمبر 2014 میں اسحاق خاکوانی بنام نوازشریف کیس کے فیصلہ تک تو اپنے بتیس سال پُرانے اصولی موقف پر قائم رہے اور یقیناً ضمیر مطمعن تھا تو معزز چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے باسٹھ تریسٹھ کی آئین میں موجودگی کے باوجود اِسکا اطلاق نہیں کیا لیکن پھر آپ ہی نے اِس صادق اور امین کی شِق کو پانامہ لیکس کیس میں استعمال کیا۔ اب میں سمجھنے سے قاصر ہوں کہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کا ضمیر اسحاق خاکوانی بنام نوازشریف کیس کا فیصلہ کرنے سے مطمعن ہوا یا پانامہ لیکس کا اختلافی نوٹ تحریر کرنے سے اُنکے ضمیر کو وہ قلبی سکون نصیب ہوا جِس کا ذِکر معزز چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے فیڈرل جوڈیشل کمیشن سے خطاب میں کیا۔

[pullquote]معزز چیف جسٹس آصف سعید کیا جسٹس قاضی فائز عیسٰی کے خلاف ریفرنس کو اداروں میں محاز آرائی نہیں سمجھتے؟[/pullquote]

اِسی طرح مائی لارڈ شِپ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے جنوری 2019 میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے فُل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ماضی میں کی گئی غلطیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنے ساتھی 16 ججز کی حمایت سے صدرِ پاکستان کی زیرِ صدارت اداروں، پارلیمانی سیاسی جماعتوں کے سربراہوں، بشمول مُسلح افواج اور خُفیہ اداروں کے سربراہان کے مابین ایک مُذاکرہ تجویز کیا تاکہ ایک میثاقِ حُکمرانی طے پاسکے۔ پاکستان کی سب سے بالادست آئینی عدالت کے سربراہ کی طرف سے یہ تجویز بظاہر آئین میں اداروں اور عہدیداروں کے طےشُدہ کردار کی حدود و قیود سے باہر تھی جو تمام آئین پسندوں کے لیے باعثِ تشویش تھی لیکن پھر سوچا جب اِس مُلک میں بہت کُچھ غیر معمولی ہورہا تھا تو جو ججز آئین کی تشریح کا حق رکھتے ہیں انہوں نے یقیناً بہت سوچ بچار کے بعد اپنی اِس تجویز کا کوئی آئینی راستہ نکالا ہوگا۔ قائرین کے لیے معزز چیف جسٹس آصف سیعد کھوسہ کے خطاب سے اِس تجویز کے کُچھ اقتباسات نقل کیے دیتا ہوں۔


‫“‬خواتین و حضرات
ہمیں تسلیم کر لینا چاہئے کہ ریاست کے تمام ستونوں کے مابین ایک عدم اعتماد کی فضا قائم رہی اور ہر ادارے کے پاس اپنے موقف پر قائم رہنے کی اپنی وجوہات تھیں۔

میری عاجزانہ رائے کے مطابق وہ وقت آ چکا ہے جب ہمیں اپنے سر جوڑ کر سچائی اور مفاہمت کی روح کو اپناتے ہوئے ان معاملات پر بات کرنی ہوگی جو اچھی طرز حکمرانی کے لیے خطرہ بنتے ہیں۔

آئیں کھلےذہن کے ساتھ اس پر بات کریں کہ عدلیہ، ایگزیکٹو اور مقننہ سے ماضی میں کہاں غلطیاں ہوئیں۔ آئیں اس پر بات کریں کہ ماضی میں کہاں ایک دوسرے کے دائرہ اختیار سے تجاوز کیا گیا، اور باہمی اتفاق کے ساتھ ان معاملات کے حل کی کوشش کریں۔

الفاظ کے ہیرپھیر اور شرمندی کا اظہار کیے بغیر مسلح افواد اور انٹیلی جنس اداروں کے کردار پر بھی بات کریں۔ سول بالادستی اور سولین حکام کا احتساب جمہوری استحکام کے لیے از حد ضروری ہے۔

آئیں اس پر بات کریں کہ احتساب کے ساتھ ساتھ سول بالادستی کا حصول جمہوریت کو عدم استحکام کا شکارکیے بغیر کیونکر ممکن ہے؟ اس کے ساتھ لاپتہ افراد اور جبری گمشدگیوں کے مسئلے کو بھی نہ بھولتے ہوئے اس کے آئینی اسکیم اور قومی یکجہتی پر بداثرات پر بھی بات کریں۔

تمام اسٹیک ہولڈرز کو یہ تسلیم کرنا چاہئے کہ فن حکمرانی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے جس کو چھن چھپائی کے کھیل کی نذر نہیں کیا جا سکتا اور کسی بھی آئینی جمہوریت میں قومی سلامتی کا حصول بنیادی حقوق اور شخصی آزادیوں کی خلاف ورزی کر کے مکن نہیں بنایا جا سکتا۔

ان انتہائی حساس اور نازک مسائل پرپرتشدد اور لاپرواہ رویہ اختیار کرنے کی بجائے ہمیں آئین و قانون کے دائرہ اختیار میں رہ کر حل نکالنے کی ضرورت ہے۔ اس لیے آئیے اور مل بیٹھ کر بات کیجیے۔

ہمیں چاہیے کہ بے مقصد بہتے اور تیرتے ہی نہ رہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ ماضی پر نظر ڈالیں، غلطیوں سے سبق سیکھیں اورکھلے ذہن کے ساتھ مستقبل کے اقدامات کو طے کر لیں، تاکہ یہ بے ہنگم بحری جہاز خودغرضی، تنگ نظری اور بے لگام جذبات کے طوفان میں نہ بہہ جائے۔ آئیے بنا کسی ہچکچاہٹ کے ان تمام حساس معاملات پر بات کریں۔ اگر ہم نے ترقی کرتے ہوئے آگے بڑھنا ہے اور جمہوری رویوں کو اپناتے ہوئے آئین کی حکمرانی ممکن بناتی ہے تو ان تمام حساس معاملات پر حوصلے مندی سے بات کرنی ہو گی۔

آئیں کھری اور سچی بات کرنے کا حوصلہ پیدا کریں، اور اپنے بانیان کی تقلید کرتے ہوئے اور آزادی سے متعلق ان کی سوچ کی بنیادوں اپنی قوم کی تعمیر نو کریں۔

لہذا میں اپنے ساتھیوں کی حمایت سے ایک ادارہ جاتی ڈائیلاگ کی پیشکش کرتا ہوں اور صدر مملکت سے درخواست کرتا ہوں کہ ایک وہ ادارہ جاتی اجلاس بلائیں اور اس کی خود صدارت کریں۔

میں سمجھتا ہوں کہ ہم اپنی قومی زندگی کے اس مقام پر ہیں ماضی کی غلطیوں کو کا بوجھ اٹھا تے ہوئے اور مستقبل میں ان غلطیوں کو دہرانے سے بچانے کے لیے ایک میثاق حکمرانی طے کرنا ہو گا۔

میری تجویز ہے کہ اس اجلاس میں پوری پارلیمانی، عدلیہ، عسکری اور انٹیلی جنس اداروں کی اعلی قیادت شامل ہو۔

صدر مملکت کی سرپرستی میں ان تمام اسٹیک ہولڈرز کی ایک میز پر ملاقات کا اہتمام کرتے ہوئے اس بات کی کوشش کی جانی چاہئے کہ اس کا مقصد ماضی کے زخموں پر مرہم رکھنا اور مستقبل کے ایک ایک قابل عمل ڈھانچے کے اہم نکات کو طے کرنا ہو، جس کے تحت تمام ریاستی ادارے اپنے اختیارات کو اپنی آئینی حدود میں استعمال کرسکیں۔ اس کوشش کا مقصد صرف آئین کی سربلندی، قانون کی حکمرانی اور جمہوریت کی مضبوطی ہو، اور ایک ایسا ماحول پیدا کیا جائے جس میں تمام ریاستی ستون اور ادارے کھلے دل کے ساتھ اس عظیم ملک کے شہریوں کے اصل مسائل کے حل کی طرف توجہ دے سکیں۔‫”‬

سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے فُل کورٹ ریفرنس میں معزز چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے میثاقِ حُکمرانی پر مُذاکرہ کی جو تجویز دی وہ اِس امر کی مظہر تھی کہ معزز چیف جسٹس کو احساس تھا کہ آئینِ پاکستان جسے حقِ حُکمرانی دیتا ہے اُس کے اختیارات میں مُداخلت ہورہی ہے اور شاید جانے انجانے میں عدلیہ اور افواجِ پاکستان کی طرف سے ماضی میں ایسی پیش قدمی ہوئی ہے جِس نے ایگزیکٹو کو حُکمرانی کے لیے حاصل اختیارات کو محدود کردیا ہے۔ اوپر درج فُل کورٹ ریفرنس سے خطاب کے مُنتخب متن سے تاثر ملتا ہے کہ شاید اداروں نے اپنے حُجم کی وجہ سے حاصل طاقت کی بنیاد پر حُکمرانی سے متعلقہ فیصلے بھی لینے شروع کردئیے جِس کی وجہ سے مُنتخب حُکمرانوں کی سویلین بالادستی کا آئینی تصور ایک مذاق بن کر رہ گیا ہے اور اب معزز چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نظامِ حُکمرانی میں توازن لانا چاہتے ہیں تاکہ مُستقبل کے لیے ایک ایسا میثاقِ حُکمرانی طے پاسکے جو عوام کی زندگی میں بہتری لائے اور سب اداروں بشمول مُنتخب ایگزیکٹو کا کردار بھی آئین میں دی گئی حدود کے مُطابق بنا سکے۔

[pullquote]جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس بھیجنے والے کون؟[/pullquote]

معزز چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے کم از کم جنوری 2019 تک یہی رائے تھی لیکن پھر جون 2019 میں بظاہر اِس رائے کا تسلسل ٹوٹ جاتا ہے جب صدرِ پاکستان سپریم جوڈیشل کونسل (جِس کے سربراہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ ہی ہیں) کو سُپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس کے کے آغا کے خلاف ریفرنس بِھجواتے ہیں۔ دونوں ججز پر بیرونِ مُلک جائیدادیں لینے اور ٹیکس گوشواروں میں ظاہر نہ کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے۔ ریفرنس دائر ہونے سے ٹھیک چار ماہ قبل جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیض آباد دھرنہ کیس کا فیصلہ دیا تھا جِس میں ریاستی اداروں، تین حاضر سروس جرنیلوں اور حُکمران تحریکِ انصاف سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے کردار پر سنجیدہ سوالات اُٹھائے گئے تھے اور ریاستی اداروں سے اپنے افسران کے خلاف کاروائی کا حُکم دیا گیا تھا۔ یہاں یہ قابلِ غور ہے کہ فیض آباد دھرنہ کے فیصلہ میں ایک حساس ادارے کے جِن افسران کے خلاف اُس ادارے کو کاروائی کا حُکم دیا گیا تھا۔ اُس ادارے نے اُن افسران کے خلاف کاروائی تو چھوڑئیے کِسی کو عہدے تک سے نہ ہٹایا۔ یہاں تک کہ فیض آباد دھرنہ کیس کے فیصلے پر نظرِ ثانی اپیل داخل کرنے سے تین روز قبل اُنہی تین میں سے ایک افسر کو ترقی بھی دی اور مزید آگے بڑھتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس دائر ہونے کے چند روز بعد اُسی افسر کو مُلک کے سب سے طاقتور خُفیہ ادارے کا سربراہ مُقرر کردیا۔
جی ہاں جس افسر کا نام ناں صرف فیض آباد دھرنہ میں تھا بلکہ دو ہزار اٹھارہ کے انتخابات میں اُنکے کردار پر اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے سنگین الزامات تھے اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق سینئر جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی طرف سے راولپنڈی بار کونسل سے خطاب میں اِسی افسر پر ملاقاتیں کرکے عدالتی فیصلوں پر اثر انداز ہونے الزامات کے بعد یہ افسر بظاہر متنازع ہوچُکا تھا۔ لیکن سپریم جوڈیشل کونسل نے اِن ملاقاتوں اور الزامات کے لیے عوامی فورم کے انتخاب پر سابق جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی پر تو برطرف کردیا لیکن اِن سنگین الزامات کی تحقیقات کسی نے بھی ضروری نہ سمجھیں۔ اور جہاں تک اُس افسر کے ادارے کا تعلق ہے وہ اُنکو ترقی پر ترقی دے کر پاکستان کی سب سے بڑی آئینی عدالت، سیاسی جماعتوں اور قوم کو واضح پیغام دے رہا ہے کہ وہ حلف کی خلاف ورزی اور ماورائے آئین کردار کے سنگین الزامات لگنے کے باوجود اپنے افسر کے ساتھ کھڑے ہیں۔

 

میری نظر میں فیض آباد دھرنہ کیس کا تاریخی فیصلہ تحریر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ضرور کیا لیکن یہ اب سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے اور اگر سپریم کورٹ کے فیصلہ کی طاقتور اداروں کی نگاہ میں یہ وقعت ہے تو پھر قانون اور آئین کی بالادستی کی خواہش میں اداروں کی کتنی سنجیدگی باقی رہ جاتی ہے؟ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سپریم کورٹ کے حُکم پر سوئس عدالت کو خط نہیں لکھتے تو سپریم کورٹ اِسے توہینِ عدالت گردانتے ہوئے مُلک کے آئینی چیف ایگزیکٹو یوسف رضا گیلانی کو پانچ سال کے لیے نااہل قرار دیتے ہوئے برطرف کردیتی ہے لیکن جب اِسی سپریم کورٹ کے فیض آباد دھرنہ کیس فیصلہ میں چارج شیٹ شُدہ افسران کو ترقیاں دی جاتی ہیں تو معلوم نہیں عدالت کو کیوں اپنی تذلیل محسوس نہیں ہوتی؟

سپریم کورٹ کو پاکستان کی آئینی اسکیم میں ریاست کے ایک ستون کی حیثیت حاصل ہے جبکہ جو ادارہ اپنے افسران کو ترقیاں دے رہا ہے اُس کو تو آئینِ پاکستان ریاست کے ستون کا مُقام بھی نہیں دیتا لیکن وہ ادارہ اپنے حُجم کی بُنیاد پر ریاست کے تمام فیصلوں اور امور پر بالادست بن گیا ہے مگر کسی کو تشویش نہیں ہورہی؟ 72 سال سے عوام کی حُکمرانی یرغمال بنی ہوئی ہے آخر کیوں؟ کوئی تو بتائے؟ مُجھ کم فہم کے ‫“‬ضمیر کو مُطمئن‫”‬ کرنے کے لیے کوئی تو جواب دے؟

جِس امریکی جنرل میکرسٹل نے عراق میں امریکی فوج کے خلاف جاری گوریلا جنگ کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکا اور اِسی کامیابی کی وجہ سے اُسے طالبان کی عسکریت پسندی کُچلنے کے لیے افغانستان میں تعینات کیا گیا تھا لیکن وہ امریکی صدر اوبامہ کی پالیسی پر ایک تنقیدی بیان دیتا ہے اور نتیجے میں امریکی صدر اوبامہ جون 2010 میں اُسے برطرف کردیتا ہے۔ امریکہ میں کوئی ماتم نہیں کرتا ہے کہ وہ عراق میں گوریلا جنگ کی سرکوبی کرنے والا ایک فاتح جرنیل تھا اور اب افغانستان میں بھی اِسی مِشن پر کامیابی سے عمل کررہا تھا اِسلیے ہمیں جنرل مکرسٹل کی ضرورت ہے۔ معلوم ہے کیوں نہیں بولتا؟ کیونکہ امریکہ میں کوئی بھی اپنے آئینی چیف ایگزیکٹو کے اختیارات اور رُتبے پر سمجھوتہ نہیں پسند کرتا جبکہ پاکستان میں اِس بات کی عوام اور سیاستدانوں میں سے کسی کو پرواہ ہی نہیں شاید سُپریم کورٹ میں آئین کے تحفظ کا حلف اُٹھانے والے ججز کے لیے بھی یہ اتنا اہم نہیں۔

بہرحال اپریل 2019 میں فیض آباد دھرنہ کیس فیصلہ پر نظرِثانی کے لیے حکومت اور ریاستی اداروں نے مِل کر آٹھ درخواستیں سپریم کورٹ میں دائر کردیں۔ لیکن اِن درخواستوں کو دو ماہ تک سماعت کے لیے مُقرر نہیں کیا گیا اور پھر جون 2019 میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس دائر ہوگیا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو سپریم کورٹ سے نکالنے کی یہ پہلی کوشش نہیں ہے۔ اِس سے قبل سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے دور میں بھی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بطورِ جج تقرری کو ایک مشکوک پیٹشنر ریاض حنیف راہی چیلنج کرچکا تھا۔ دِلچسپی کی بات ہے کہ حال ہی میں وفاقی وزارتِ قانون نے ریاض حنیف راہی کو مُلک سے سنگین غداری کے مُقدمہ میں مفرورسابق آمر جنرل ریٹائرڈ پرویز مُشرف کا وکیل بننے کے لیے رجوع کیا ہے۔

جی ہاں یہ وہی وزارتِ قانون ہے جِس کے وزیر سینیٹر فروغ نسیم آئین شِکن مفرور مُلزم آمر جنرل ریٹائرڈ پرویز مُشرف کے وکیل رہ چُکے ہیں اور یاد دلاتا چلوں کہ مارچ 2018 کے سینیٹ الیکشن میں بیرسٹر فروغ نسیم کے علاوہ ایم کیو ایم کے تمام سینیٹرز ہار گئے تھے۔ شاید ریاست نے مُستقل کی جو پیش بندی کررکھی تھی اُس میں نئے شریف الدین پیرزادہ یعنی بیرسٹر فروغ نسیم کی اشد ضرورت تھی اِس لیے تقسیم شُدہ ایم کیو ایم سے بھی اُن کی جیت یقینی بنائی گئی۔ اِسی طرح جِس عبدالوحید ڈوگر نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کی بُنیاد بننے والی شکایت درج کروائی اُس کا کردار بھی انتہائی مشکوک ہے۔ معزز چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ اگر واقعی جاننے میں دِلچسپی رکھتے ہیں کہ پاکستانی ادارے کیسے سازشیں کرتے ہیں اور مُنتخب حکومتوں کی بالادستی کو کیسے چیلنج کیا جاتا ہے تو صرف عبدالوحید ڈوگر کو اپنے چیمبر میں منگوا کر اپنی آنکھوں کے سامنے اُس سے تفتیش کروا لیتے دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جاتا۔ قارئین کو شاید لگے میں کوئی غیر آئینی تجویز دے رہا ہوں لیکن سپریم کورٹ میں ایسی نظیر موجود ہے جب سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے چیمبر میں ایک غیر مُلکی خاتون کے کیس کی سماعت شروع کردی تھی۔ اگر سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اپنے مُبینہ ‫“‬ذاتی مُفاد‫”‬ کی خاطر ایک غیر مُلکی حسینہ کے مقدمہ کی اِن چیمبر سماعت کرسکتے ہیں تو معزز چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ ‫“‬قومی مُفاد‫”‬ میں ایسا کرسکتے ہیں۔ بہرحال یہ تو جسٹس قاضی فائز عیسٰی کے خلاف ماضی میں بھی سرگرم رہنے والوں کا پسِ منظر ہے جو اِن کے موجودہ عزائم بھی واضح کرتا ہے۔

[pullquote]کیا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس بدنیتی پر مبنی نہیں؟[/pullquote]

پاکستان بار کونسل سمیت سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور پاکستان بھر کی تمام مُنتخب بار کونسل اِس ریفرنس کو بدنیتی پر مبنی قرار دے رہی ہیں لیکن پاکستانی اخبارات کے بڑے حصے میں اِن کی کوریج کو ثانوی حیثیت حاصل ہے اور ٹی وی چینلز پر تو تقریباً بلیک آوٹ ہے جبکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کی حمایت میں سرگرم ایک غیر مُنتخب اور مشکوک وُکلا ایکشن کمیٹی کے تمام اجلاس اور تقاریر ناں صرف ٹی وی چینلز پر لائیو نشر کئے جاتے ہیں بلکہ اخبارات میں بھی اُنہیں نمایاں کوریج دی جاتی ہے۔ وفاقی وزیرِ قانون فروغ نسیم بھی اچانک بار کونسلز میں رقم تقسیم کرنے لگ جاتے ہیں اور یہ وہ وہی طریقہ اپنایا جارہا ہے جو ماضی میں سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی تحریک کے وقت اُس وقت کے وزیرِ قانون بابر اعوان نے استعمال کیا تھا۔

یہ تمام واقعاتی شہادتیں شاید ابھی تک معزز چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی نظر سے نہیں گزری ہیں یا مُمکنہ طور پر اُنکو اہم نہیں لگیں۔۔ اُنہوں نے سپریم جوڈیشل کونسل میں پہلے سے موجود اٹھائیس شکایات پر کاروائی کی بجائے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسی کو دو شو کاز نوٹس جاری کردئیے ہیں جِن کا جواب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ 31 جولائی 2019 کو جمع کروا چُکے ہیں۔

[pullquote]کیا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کا نتیجہ طے شُدہ ہے؟[/pullquote]

میں شاید یہ فیچر کبھی نہ لکھتا لیکن اگست کے پہلے ہفتے میں ہونے والے واقعات نے مجبور کردیا کہ جو خبریں ذرائع سے آرہی تھیں اور اب تک جن کو ٹھوس دستاویزی شواہد نہ ہونے کی وجہ سے تحریر کرنے سے قاصر تھا وہ اب ریکارڈ پر لانا ضروری ہوگئی تھیں۔ اگست کے پہلے ہفتے میں دو بڑے واقعات ہوئے ایک چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف عددی اکثریت ہونے کے باوجود اپوزیشن کی تحریکِ عدم اعتماد ناکام ہوئی اور دوسرا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے خلاف ریفرنس سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا۔ یہ دونوں ایسی پیشرفت تھیں جنہوں نے میرے پاس موجود معلومات میں حقیقت کا رنگ بھرنا شروع کردیا۔ جولائی کے دوسرے ہفتے میں مُقتدر حلقے دعویٰ کررہے تھے کہ تین چیزیں یقینی ہیں ایک ‫“‬ہم‫”‬ صادق سنجرانی کو چیئرمین سینیٹ کے عہدے سے نہیں ہٹنے دیں گے اور دوسرا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو سپریم کورٹ میں نہیں رہنے دیں گے۔ تیسراآرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع ہوگی . اِنہی ذرائع کا دعویٰ تھا کہ صادق سنجرانی کے لیے نمبر گیم ہم بدل چُکے اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر بھی کام منشا کے مُطابق ہوگا۔ اب تک پہلے دو کام ہوچکے ہیں .

صادق سنجرانی کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد ناکام ہوئی تو مُجھے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس والا اسکرپٹ بھی جاندار لگنے لگا۔ ایک اور ذریعے کا کہنا تھا کہ ریفرنس آنے کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی ایک اعلیٰ آیئنی عہدیدار سے تلخ کلامی ہوئی۔ جبکہ ایک ذریعے کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایک اعلیٰ آئینی عہدیدار نے کسی شخص سے گفتگو میں کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ خود کو بڑا ‫“‬لیڈر جج‫”‬ سمجھتا ہے اِس سے ایک ایک پائی کا حساب لیا جائے گا۔ جبکہ ایک ذریعے نے یہاں تک دعویٰ کردیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے حدیبیہ پیپر مِلز ریفرنس ری اوپن کرنے کی نیب اپیل مُسترد کرتے ہوئے فیصلہ میں کُچھ ایسی باتیں تحریر کردیں جو چند آئینی عہدیداروں کو بہت ناگوار گُزری تھیں اور جب ریفرنس آیا تو انہوں نے دِل میں رکھی اِن باتوں کا حساب برابر کرنے کا موقع جانا۔ جب اِس زاویہ پر مزید کھوج لگایا تو ایک ذریعے نے اِن باتوں کی تردید کی اور بتایا کہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس قاضی فائز عیسٰی کے ذاتی تعلقات بہترین ہیں اور ریفرنس آنے کے بعد دونوں میں ایک انتہائی خوشگوار مُلاقات بھی ہوئی تھی جس کی ملاقات کی تصدیق بعد ازاں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سپریم کورٹ میں پیٹیشن سے بھی ہوتی ہے۔ جو سرکاری افسران اور اُن کے آلہ کار حکومتی شخصیات جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور سپریم کورٹ کے خلاف اِس سازش میں شریک ہیں کل وہ ایسی ہی افواہوں کی بُنیاد پر اِس ریفرنس کے فیصلہ کو کھوسہ بمقابلہ کھوسو بتا کر خود کو بری الزمہ قرار دینے کی کوشش کریں گے۔ اب سینہ بہ سینہ چلتی ایسی معلومات کو ریکارڈ پر لانا اِس لیے ضروری ہوگیا تھا کیونکہ اب کہانی ایک بدقسمت انجام کی سمت بڑؑھتی دکھائی دے رہی ہے۔

[pullquote]کیا میڈیا سمیت سب آوازوں کو سرنگوں کرنے کے بعد اب راستے کے آخری پتھر سُریم کورٹ کو زیرِ اثر لانے کی باری ہے؟[/pullquote]

پِچھلے دو سالوں میں پاکستان میں جو کُچھ ہوا ہے کم از کم میرے صحافتی کیرئیر کے دوران دوسری دفعہ رات کی تاریکی میں پہاڑی علاقے میں لڑی گئی جنگ جیسا ہے۔ پہلی مرتبہ سینئر صحافی اور معروف اینکر حامد میر پر جب کراچی میں قاتلانہ حملہ ہوا تو اُس کے بعد مُلک میں جو کُچھ ہوا، جِس جِس سیاستدان، عالمِ دین، صحافی، بزنس مین، جج، تاجر یونین رہنما اور سماجی کارکن نے جو جو پوزیشن لی ہمیں پتہ چل گیا کون لائن کے کِس طرف کھڑا ہے اور کِس کا قِبلہ کون ہے۔ اِسی طرح اب جو کُچھ ہورہا ہے وہ بھی رات کی تاریکی میں پہاڑی علاقے میں لڑی جانے والی جنگ کی مانند ہے جو فائر کرے گا اُس کا مورچہ فائر کی روشنی کی وجہ سے سب کو نظر آجائے گا۔ پِچھلے دو سالوں میں جِس کامیابی سے آئین میں ضمانت دی گئی شخصی آذادیوں، اظہارِ رائے کی آذادیوں اور بنیادی انسانی حقوق کو صلب کیا گیا ہے اور اِس میں جو سہولت کار بنے ہم اُن سب کو جانتے ہیں۔ ہم چیختے رہے چلاتے رہے لیکن کسی نے توجہ نہیں دی کسی نے نوٹس نہیں لیا اور نتیجہ یہ ہے کہ ہم صحافی اب عوام کو حقائق سے باخبر نہیں کررہے بلکہ صرف ریاستی یکطرفہ پروپیگنڈا کا آلہ بن کر رہ گئے ہیں۔ میڈیا کو سرنگوں کرنے کے بعد اب یہ طاقتور حلقے سپریم کورٹ کے دروازے پر دستک دے رہے ہیں اور شاید اب وہ لمحہ آن پہنچا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسٰی کے خلاف ریفرنس نے کم از کم جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی پوزیشن تو دِکھا دی تھی لیکن باقی 16 ججز کی پوزیشن ریفرنس کا فیصلہ دکھائے گا۔ لیکن یاد رکھئے یہ رات کی تاریکی میں پہاڑی علاقے میں لڑی جانے والی جنگ ہے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کا فیصلہ وہ فائر ہوگا جِس کی روشنی باقی 16 ججز کی پوزیشن آشکار کردے گا۔

[pullquote]کیا چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کا تابناک عدالتی کیرئیر گہنا سکتا ہے؟[/pullquote]

رات کی تاریکی میں بے نقاب ہوتی اِس پوزیشن پر ابھی تو شاید گُھٹن کے ماحول میں کوئی کُھل کر بات نہیں کرے گا لیکن مورخ ضرور اِس کو تاریخ کا حصہ بنائے گا۔ مُجھے خدشہ ہے کہ یہ بُحران معزز اور انتہائی قابل چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی میراث کو گہنا دے گا۔ معزز چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے کریڈٹ پر نوے کی دہائی سے زیرِ التوا ہزاروں کرمنل اپیلوں کو نمٹانے کا قابلِ تحسین کارنامہ ہے لیکن بدقسمتی سے مورخ اُنکو این آر او عملدرآمد کیس فیصلہ، پانامہ لیکس فیصلہ، جسٹس شوکت عزیز صدیقی برطرفی فیصلہ، احتساب عدالت نمبر دو کے جج ارشد ملک وڈیو اسکینڈل فیصلہ اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ریفرنس فیصلہ کے میزان پر تولے گا۔ مورخ معزز چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے عدالتی کیرئیر میں ڈھونڈے گا کہ انہوں نے کیا کبھی کسی بااثر ادارے کے افسر کے خلاف فیصلہ دیا؟ کسی بااثر سرکاری افسر کو گاڈ فادر لِکھا؟ کسی بااثر سرکاری افسر پر خلیل جبران کی نظم کی پیروڈی لِکھی؟ ججز سیاستدان نہیں ہوتے کہ اگر انہوں نے ہزاروں اپیلیں نمٹائیں تو عوام اُنکو ووٹ دے کر دوبارہ مُنتخب کریں گے۔ ججز اپنی میراث چھوڑ جاتے ہیں جِس کو مورخ اپنی مرضی سے دیکھتا ہے کہ جب کوئی بڑا چیلنج آیا تو اُس جج نے کیا راستہ چُنا تھا۔ تشویش کی بات ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب صحافیوں کو بدترین سنسرشِپ، شہریوں کو سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر آمرانہ پابندیوں کا سامنا ہے تو ہمارے حقوق کی مُحافظ عدلیہ سے کوئی آواز نہیں آرہی۔ ایک ریٹائرڈ برگیڈیئراسد مُنیر مارچ 2019 میں نیب کے انسانیت کی تذلیل والے حربوں سے تنگ آکر خودکشی کرلیتا ہے اور خودکُشی نوٹ میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے نام اپیل چھوڑ کر جاتا ہے کہ وہ نوٹس لیں اور نیب کو لگام ڈالیں لیکن معزز چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نیب کیسز میں ضمانت کے لیے ہارڈشِپ کا اتنا سخت معیار طے کردیتے ہیں کہ نیب مزید بےلگام ہوجاتا ہے اور وہ جِس کو چاہے انتہائی مضحکہ خیز الزام پر بھی گرفتار کررہا ہے۔ مورخ یقیناً انسانی حقوق کی پامالیوں کے اِس بدترین دور میں تمام اداروں کے سربراہوں اور حکومتی شخصیات کے کردار پر اپنا فیصلہ دے گا۔

ستر کی دہائی میں اندرا گاندھی نے بھارت میں ایمرجنسی لگائی تو بھارتی سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ کے ایمرجنسی کے حق میں اکثریتی فیصلہ سے صرف جسٹس شرما نے اختلاف کیا۔۔ آج جسٹس شرما کو پورا بھارت جانتا ہے لیکن باقی ججز کا نام آپ کو ریسرچ کرکے ڈھونڈنا پڑتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے قتل کیس میں استغاثہ اور دفاع نے کیا دلائل دئیے آج تک کسی نے وہ دلائل جاننے میں دلچسپی نہیں لی ہے۔ جو سب جانتے ہیں وہ یہی ہے کہ مورخ نے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کو عدالتی قتل قرار دیا۔ جسٹس مولوی مُشتاق کے بچے بھی ہوں گے، بہو بھی ہوں گی اور داماد بھی ہوں گے لیکن کیا وہ آج فخر سے بتا سکتے ہیں کہ اُن کے بزرگوں میں جسٹس مولوی مُشتاق صاحب گُزرے؟ ذوالفقار بھٹو کو بھانسی دینے والے بینچ کے ایک رُکن سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ نے تو اعتراف بھی کیا کہ اُن پر دباو ڈال کر سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کا فیصلہ لیا گیا۔ آج بھی جو مُہرے بن رہے کل بولیں گے بلکہ کُچھ تو ابھی بھی بہت کُچھ بول گئے ہیں۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کو 20 دسمبر 2019 کو ریٹائرمنٹ سے صرف چار ماہ قبل ریاست نے امتحان میں ڈال دیا ہے کہ وہ تاریخ میں جسٹس نسیم حسن شاہ کے جانشین کے طور پر اپنا نام چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں یا جسٹس کارنیلس کی روایت زندہ کرکے جانا چاہتے ہیں جو بننے کا خواب آج بھی ججز دیکھتے ہیں۔ کم از کم جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا داماد اُن پر فخر تو کر سکے گا لیکن مُجھے افسوس ہوگا اگر آنے والے کل میں اتنے قابل اور معزز چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے دونوں داماد اُنکا نام لیتے ہوئے خُدانخواستہ شرمائیں گے۔

[pullquote]ایڈیٹر نوٹ : [/pullquote]مضمون میں پیش کی گئی آراء صاحب تحریر کی اپنی معلومات ہیں . ادارے کا ان آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں . آئی بی سی اردو تمام موضوعات پر اخلاقی اور صحافتی دائرے کے اندر رہتے ہوئے آزادانہ بحث مباحثے کا کا پلیٹ فارم ہے . اس مضمون سے اگر کسی کو اختلاف ہے تو آئی بی سی اردو کے صفحات اس کے لیے بھی حاضر ہیں .

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے