کراچی کے کچرے پر سیاست، مصطفیٰ کمال کا معطلی کے بعد میئر سے استعفے کا مطالبہ

کراچی میں کچرا اٹھانے کے معاملے پر میئر نے ایک فلمی انداز میں مصطفیٰ کمال کو گاربیج پروجیکٹ ڈائریکٹر تعینات کرکے 24 گھنٹے میں ہی معطل کردیا جب کہ چیئرمین پی ایس پی نے عہدے کی معطلی کے بعد میئر سے استعفے کا مطالبہ کردیا۔

میئر کراچی وسیم اختر نے گزشتہ روز چیئرمین پی ایس پی مصطفیٰ کمال کو ایک نوٹی فکیشن کے ذریعے گاربیج پروجیکٹ ڈائریکٹر تعینات کیا تھا جس کے بعد مصطفیٰ کمال نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ وہ تین ماہ میں شہر کو صاف کریں گے اور ہر وقت کام کریں گے۔

مصطفیٰ کمال نے گزشتہ رات اصغر علی شاہ اسٹیڈیم میں کے ایم سی افسران کا اجلاس طلب کیا تھا تاہم کوئی افسران اجلاس میں شرکت کے لیے نہیں پہنچا جس پر اجلاس منسوخ کرنا پڑا۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ میئر کراچی ان کے باس ہیں اور باقی سب لوگوں کے وہ باس ہیں جب کہ انہوں نے چیئرمین ڈسٹرکٹ سینٹرل اور دیگر چیئرمینز کو ہدایت کی تھی کہ انہیں شہر کے معاملات پر بریفنگ دی جائے۔

[pullquote]مصطفیٰ کمال کو بد تمیزی پر معطل کیا: میئر کراچی[/pullquote]

مصطفیٰ کمال کو اختیارات سونپنے کے 24 گھنٹے بعد ہی میئر کراچی نے انہیں معطل کردیا۔

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میئر کراچی وسیم اختر کا کہنا تھا کہ مصطفیٰ کمال کو بد تمیزی پر معطل کیا وہ کام کے بجائے سیاست چمکارہے ہیں لہٰذا اگلے احکامات تک وہ معطل رہیں گے۔

انہوں نے کہاکہ مصطفیٰ کمال میونسپل کارپوریشن کے ماتحت آتے ہیں، انہوں نے میری نیک نیتی پر مبنی اقدام کو سیاست کی بھینٹ چڑھادیا، وہ اس قابل نہیں اور بدتمیز بھی ہیں، انہیں میڈیا پر ڈرامے کی بجائے ہیڈ آفس آکر ہمیں منصوبہ بتانا چاہیے تھا لیکن انہوں نے چیئرمین ڈسٹرکٹ سینٹرل کی حدود میں مداخلت کی۔

[pullquote]مصطفیٰ کمال نے میری نیک نیتی کا غلط فائدہ اٹھایا: وسیم اختر[/pullquote]

میئر کراچی کا کہنا تھا کہ میں سمجھتا تھا کہ مصطفیٰ کمال نیک نیتی سے لوگوں کی مدد کریں گے، میں نے کراچی کے مفادات اور لوگوں کے ریلیف کے لیے نیک نیتی سے ایک حکم جاری کیا کیونکہ وہ رضا کارانہ طور پر کہہ رہے تھے کہ 90 روز میں کراچی صاف کردیں گے، افسوس ہوا کہ میری نیک نیتی کا غلط فائدہ اٹھایا گیا اسے سیاست میں تبدیل کیا گیا، اس کا مطلب آپ کراچی کے مسائل حل کرنے میں مخلص نہیں تھے۔

وسیم اختر نے مزید کہا کہ مصطفیٰ کمال ہیڈ آفس آکر جوائننگ دیتے اور اپنی نوے دن کی پلاننگ ہم سے شیئر کرتے کہ وہ کس فارمولے کے تحت شہر صاف کریں گے لیکن وہ بلدیہ میں چائنا کٹنگ پر لگ گئے، کوئی بھی ان کے ماتحت نہیں آتا بلکہ وہ خود کے ایم سی کے ماتحت ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مصطفیٰ کمال کوئی نیب کے آدمی نہیں جو اکاؤنٹس منگوارہے تھے، ان سب چیزوں کو دیکھتے ہوئے انہیں معطل کیا ہے۔

میئر کراچی وسیم اختر کے اعلان کے بعد مصطفیٰ کمال کی بطور پروجیکٹ ڈائریکٹر گاربیج معطلی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیاہے۔

[pullquote]مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس[/pullquote]

دوسری جانب پریس کانفرنس کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ میئر کراچی نے کل میری پراجیکٹ ڈائریکٹر کی تقرری کا نوٹی فکیشن جاری کیا، میئر پتہ نہیں کس خیال میں تھے کہ میں اس پر کیا رد عمل دوں گا، میں نےکہا اسے انا کا مسئلہ نہیں بناتا، میئر اور سینیٹر تک رہ چکا ہوں، میں نے میئر کے آرڈر کو تسلیم کرکے اپنی پوزیشن سنبھال لی۔

چیئرمین پی ایس پی کا کہنا تھا کراچی کے جو مسائل ہیں اس میں رات میں سونا حرام ہے، آج آزادکشمیر جانے کا پلان ملتوی کردیا تھا، پتہ چلا چند گھنٹوں میں ہی میئر نے میری تقرری کا آرڈر منسوخ کردیا، میں نے کراچی کے لیے 30 ہزار کروڑ روپے خرچ کیے، اپنوں کو نہیں نوازا، راتوں کی نیندیں قربان کیں،کراچی کو کہاں سے کہاں چھوڑ کرگیا تھا۔

[pullquote] کرپشن کررہے ہیں اس لیے شہر سے کچرا نہیں اٹھ رہا: مصطفیٰ کمال[/pullquote]

انہوں نے کہا کہ کراچی اجڑ گیا اور روز اجاڑ رہے ہیں، پپپلز پارٹی حکومت کے پاس ملیر اور جنوبی ضلع ہے، کراچی کے 6 میں سے 4 اضلاع کے اختیارات مجھے دیے گئے، میں نے کہا تھا دن رات کام کریں گے کیونکہ ایمرجنسی ہے، سٹی گورنمنٹ کے منتخب یوسیز چیئرمین نے فون کالز کرکے تعاون کا کہا۔

انہوں نے مزید کہا کہ میرا شہر کراچی کچرا کنڈی بن گیا ہے، ہماری فریاد پر مذاق ڑایا جاتاہے اور گالیاں نکالی جاتی ہیں، میں جانتا تھا مسئلہ اختیارات کا نہیں کرپشن کا ہے، اگر میں سیاست کرتا ہوتا تو اپنے دشمن کو باس نہ کہتا۔

[pullquote]’میئر اور چاروں اضلاع کے چیئرمین خود کو احتساب کیلئے پیش کریں‘[/pullquote]

انہوں نے الزام لگایا کہ کرپشن کررہے ہیں اس لیے شہر سے کچرا نہیں اٹھ رہا، میں نے یہ بات کل بھی کہی اور آج بھی کہتاہوں باس کا نام ای سی ایل میں آنا چاہیے، ڈسٹرکٹ چیئرمینوں کے نام بھی ای سی ایل میں آنے چاہئیں، میں پیچھے نہیں ہٹوں گا، ہمیں کہتے ہیں آفس آؤ، کچرا سڑکوں پر ہے آفس جاکر کیا کروں گا، آفس کے ٹھنڈے کمرے میں پیسے کی تقسیم ہوتی ہے، سڑکوں پر تو نہیں ہوسکتی۔

مصطفیٰ کمال نے میئر کراچی اور چاروں اضلاع کے چیئرمینوں سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود کو احتساب کے لیے پیش کریں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے