بڑے ذہن اور چھوٹے ذہن کا فرق

بڑا ذہن ہمہ وقت مقصد کے تعاقب میں رہتا ہے اور چھوٹے ذہن کا کوئی مقصد ہی نہیں ہوتا ۔اسی طرح بڑا ذہن تخلیقی ہوتی ہے جبکہ چھوٹا ذہن تقلیدی ہوتا ہے۔

بڑے ذہن معاشرے میں ہر قسم کی بات کو کرتے ہیں ، ہر نئی بات کو خوش آمدید کہتے ہیں ، سنتے ہیں اور یوں معاشرہ ترقی کرتا ہے ۔

جامد ذہن اظہار رائے پر قدغنیں لگاتے ہیں ۔ چھوٹے موضوعات کو اچھوتا بناکر پیش کرتے ہیں اور دائرے میں بیٹھ کر اسی پر سر دھنتے رہتے ہیں ۔

بڑا ذہن احترام اور مساوات کا قائل ہوتا ہے ، وہ رنگ ، نسل ، مذہب ، زبان ، عقیدے کی وجہ سے کسی سے نفرت نہیں کرتا بلکہ وہ جوہر کو زیر بحث لاتا ہے جبکہ چھوٹا ذہن عقیدوں اور عقیدتوں ، قصوں اور کہانیوں کے گھن چکر میں پستا رہتا ہے ۔

بڑا ذہن جب بولتا ہے تو اس کے پیچھے صدیوں کی ریاضت ، لفظوں کی متانت ، اظہار کا سلیقہ ، گفتار کا طریقہ ، لہجے کی شربت ، رویے کی عظمت ، کردار کی جرات اور فکر کی حرارت پر مبنی سوچ کھڑی ہوتی ہے ۔ اس کی بات قول و کلام بن جاتی ہے . چھوٹے ذہن کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ بھی بات کرتا ہے لیکن بات ہی تو نہیں کرتا۔

لیکن بڑا ذہن اسے بھی برداشت کرتا ہے جو بات ہی نہیں ہوتی کیونکہ خاموش رہ کر چھوٹے ذہن کو سوچنے پر لگانا بھی بڑے ذہن کا کام ہے ۔

جون ایلیاء نے کہا تھا کہ
ایک ہی حادثہ تو ہے اور وہ یہ کہ آج تک
بات کہی نہیں گئی ، بات سنی نہیں گئی

تو حاضرین مجلس

بس جاتے جاتے اپنے دماغ کے چمٹے سے دو باتیں پکڑتے جانا کہ بڑے ذہن کے دو کام ہیں ۔

ایک بامقصد بات کرنا اور دوسرا بے مقصد بات کو برداشت کر کے اسے بامقصد بنانے کی طرف جدوجہد کرنا ۔

سبوخ سید

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے