فضلاءِ دینی مدارس کیلئے بہتر لائحہ عمل

آج کل دینی مدارس سے فراغت حاصل کرنے والوں کی زبان پر ایک ہی شکوہ ہے کہ ہم آٹھ دس سال محنت کر کے جو سند حاصل کرتے ہیں ، اس کی کوئی ویلیو نہیں ہے ، اور اس کے ساتھ ہمیں کہیں سکول و کالج یا کسی محکمہ میں نوکری نہیں ملتی ، آ جا کے اگر کسی مدرسہ یا مسجد میں ملازمت ملتی ہے تو وہاں وظیفہ اتنا کم ہوتا ہے کہ گزران نہیں چلتا وغیرہ ۔

اس سلسلہ میں چند معروضات پیشِ خدمت ہیں ، شاید کہ کسی کو بات سمجھ میں آجائے ، سب سے پہلے تو یہ بات ملحوظ رہے کہ دینی مدارس سے ہر سال ہزاروں کی تعداد میں طلباءِ کرام فارغ ہو رہے ہیں ، دوسری طرف عصری اداروں سے بھی ہزاروں کی تعداد میں سٹوڈنٹس ڈگریاں حاصل کر رہے ہیں ، اور عرصہ دراز سے ہماری ریاست ان سب کو ملازمت دینے سے قاصر ہے ، بہت سے ڈگری ہولڈرز آپ کو معاشرہ میں بے روزگار پھرتے ہوئے نظر آئیں گے ، اس لئے دینی مدارس کے فضلاء اپنے لئے سرکاری طور پر تو اس باب کو بند ہی سمجھیں.

اس کا بہتر حل یہ ہے کہ قرونِ اولیٰ کے اکابر و اسلاف کی طرح دینی تعلیمات کو ملازمت کے حصول کا نظریہ ترک کر کے اخلاص سے حاصل کریں اور پھر جن کے پاس اسباب و وسائل ہیں ، وہ اپنی اپنی تجارت کریں یا کوئی ہنر ہے تو اس کے ساتھ اپنے روزگار کا بندوبست کریں اور ساتھ دین کی خدمت حسبۃً للہ ادا کریں ، اس سلسلہ میں اکابر و اسلاف کی مثالیں پیش کرنے سے پوسٹ بہت لمبی ہو جائے گی ، اور اس بات میں بھی ضرور دھیان دیں کہ مثلاً اگر ہر سال ملک کے تمام دینی مدارس سے بیس ہزار علماء فارغ التحصیل ہو رہے ہیں ، تو آیا ملک میں اتنی نئی مساجد بن رہی ہیں؟ یا اتنے مدارس نئے بن رہے ہیں؟

یا مدارس میں اتنی مزید پوسٹوں کی گنجائش میسر ہے؟ جبکہ ہمارے ہاں دستور یہ چل رہا ہے کہ کسی مسجد کا خطیب ، امام اور مدرسہ کا مدرس اور استاذ وغیرہ اسی وقت اپنی پوسٹ خالی کرتا ہے ، جب اس کی قدرتی طور پر وفات ہو جائے یا کسی وجہ سے جاب سے اسے فارغ کر دیا جائے ، ایسے میں نئے لوگوں کے لئے صرف چند فیصد جگہیں ہی خالی ہوں گی اور اکثر بے روزگار ہی پھرتے رہیں گے ، اور یہ بھی یاد رہے کہ جب کسی شعبہ میں افراد کی ضرورت سے زیادہ بہتات ہو جاتی ہے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کرتا ہے کہ وہاں ملازمت میں بھی کم سے کم معاوضہ پر رجال میسر آجاتے ہیں ، اگر ایک نہیں تو دوسرا سہی.

اس لئے فضلاءِ مدارسِ دینیہ کے لئے یہی بہتر لائحہ عمل ہے کہ اس بابت کسی کو موردِ الزام ٹھہرانے اور خود ذلیل و خوار ہونے کے بجائے اپنے قدموں پر کھڑا ہونے کی کوشش کریں ، اس کے بغیر آئندہ دور میں اور کوئی چارہ کار نہیں ہوگا ، اس لئے کہ موجودہ صورتحال میں سرکاری یا پرائیویٹ طور پر اتنے کثیر افراد کو محکموں یا مدارس و مساجد میں کھپانا ناممکن بلکہ محال ہے ، میری نظر میں یہی آئندہ دور کی دھندلی سی تصویر ہے ، احباب اس بات کو محسوس نہ فرمائیں ، کیونکہ غیر یقینی بات کی کہیں بھی شنوائی نہیں ہوا کرتی ، اللہ کریم ہی ہم سب کے حال پر رحم فرمائے ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے