مسئلہ کشمیر،پاکستان کی مشکلات اور راہ عمل

آدھے کشمیر پر بھارت کا قبضہ ہو چکا، ایک ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود لاک ڈاؤن،کرفیو،مواصلاتی تعطل کے خلاف پاکستانی حکمران کچھ نہ کر سکے۔ وزیراعظم پاکستان کا 6 ستمبر 2019 کا ٹویٹ بے بسی کی عملی تصویر ہے۔

اپنی ٹویٹ میں عمران خان کہتے ہیں: ”بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں دنیا کے سامنے ہیں، پھر بھی اس پر عالمی دنیا خاموش کیوں ہے“

پاکستان کے آرمی چیف کہتے ہیں: ”مقبوضہ کشمیر میں ظلم ہمارے صبر کی آزمائش ہے“،
بالخصوص پاکستانی آرمی چیف کا یہ کہنا کہ آخری گولی،آخری سپاہی اور آخری سانس تک لڑیں گے ، یقیناً قابل تعریف لیکن پاکستانی ارباب اختیارکے اس طرح کے بیانات سے کیا بھارتی مقبوضہ کشمیر کے حالات میں رائی کے دانے کے برابر بھی کوئی فرق پڑا؟

5اگست 2019کے بعد پاکستانی حکمرانوں کا جو بیانیہ سامنے آیا، وہ اس تاثر کو تقویت دیتا ہے کہ کشمیر کے حوالے سے معاملات طے ہو چکے ہیں۔ باخبر سیاست دان مولانا فضل الرحمان کا یہ کہنا کہ ہمیں (پاکستان) وانا میں اکاموڈیٹ کیا گیا اور بھارت کو کشمیر میں،عمران خان نے کشمیر بیچا ہے، بیچنے والے اور خریدنے والے میں جنگ نہیں ہوتی لہٰذا کشمیر پر جنگ نہیں ہوگی۔

اگرمولانا فضل الرحمان کی کشمیر پر گفتگو کو سیاسی ضرورت کے تحت محض ایک الزام ہی مان لیا جائے لیکن سیاسی اور سفارتی محاذ پر پاکستانی ارباب اختیار کی طرف سے تسلسل کے ساتھ سامنے آنے والی گفتگو بھی بہت کچھ بتا رہی ہے۔

مثلاً عمران خان کا آزادکشمیر اسمبلی میں آر ایس ایس کی دہشت گردی اور انتہا پسندی پر لیکچر دے کر اصل قضیے کے متعلق بامقصد راہ عمل کا تعین نہ کرنا، یہ بیان کہ ‘آزادکشمیر پر حملہ ہوا تو اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے۔’ پاکستان کی قومی سلامتی کی کمیٹی کا یہ کہنا کہ ‘دفاع پاکستان پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔’

اس طرح کے درجنوں بیانات یہ ثابت کرتے ہیں کہ حالات کا جبرکچھ اس طرح ہے کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر پاکستانی حکمرانوں کی ترجیح نہیں رہا۔

پاکستان کی مشکلات کیا ہیں؟

یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ پاکستانی حکمران جو ہمیشہ ریاست جموں وکشمیر کو اپنی شہ رگ کہتے تھے۔5 اگست 2019 بھارتی حکومت کے یک طرفہ اقدامات کے خلاف وہ کس حد تک جا سکتے ہیں؟ کیا پاکستان اپنی فوج سرینگر میں اتار سکتا ہے جیسا کہ اہل جموں کشمیر امید کر رہے ہیں اور ممتاز سکالر تنظیم اسلامی کے سابق نائب امیر علامہ خالد عباسی،حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین نے کہا کہ پاکستان اپنی فوج سرینگر میں اتارے۔

میرا خیال ہے یہ ایک جذباتی مطالبہ ہے جس کا اپنا ایک پس منظر ہے۔ اہل جموں کشمیر کی ایک مخصوص تعداد نے کشمیر میں پاکستان کیلئے جو قربانیاں دیں، جو شہادتیں ہوئیں اس کی روشنی میں اس طرح کا مطالبہ اپنی جگہ لیکن پاکستان کی اپنی مجبوریاں ہیں۔ پاکستان فنانشل ایکشن ٹاسک فورس(ایف اے ٹی ایف)کی واچ لسٹ میں ہے۔ فروری 2019 میں پیرس میں ہونے والے اجلاس میں دہشت گرد گروپوں کی مبینہ مالی معاونت کے الزام میں مناسب اقدامات نہ اٹھانے پر پاکستان کو غالباً اکتوبر 2019 تک وقت دیتے ہوئے واچ لسٹ میں شامل کیا گیا تھا۔35ممالک پر مشتمل ایف اے ٹی ایف میں امریکااس کے یورپی اتحادی جرمنی،انڈیا اور چین شامل ہیں، اس سے قبل پاکستان 2012 سے 2015 تک گرے لسٹ میں شامل رہا۔ سابق پاکستانی وزیر خزانہ سے منسوب ایک بیان کے مطابق اس عرصہ میں 10ارب ڈالر سے زائد نقصان ہوا۔

ایف اے ٹی ایف کے قیام کا بنیادی مقصد بین الاقوامی مالیاتی نظام کو دہشت گردی اور کالے دھن کو سفید کرنے کے خطرات سے محفوظ رکھنا ہے۔ اس کا اجلاس ہر تین سال بعد ہوتا ہے۔جس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ کس ملک نے ان کی سفارشات پر عمل کیا اور اگر کوئی ملک ان سفارشات پر عمل نہ کرے تو اسے گرے لسٹ میں شامل کر دیا جاتا ہے۔جس سے اس ملک کی معاشی ترقی کو نقصان پہنچتا ہے ، سرمایہ کاری رک جاتی ہے اور جو بھی محدود ادائیگی، مدد یا نرم قرضہ دیا جاتا ہے، اس کی کڑی چھان بین کی جاتی ہے۔

پاکستان اس وقت شدید معاشی مشکلات کا شکار ہے۔ پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت کے دور میں10.3ٹریلین ڈالر(ایک ٹریلین میں ایک ہزار ارب ہوتے ہیں) قرضے میں اضافہ ہواجبکہ اس سے قبل 71سال میں یہ قرضہ29.9ٹریلین ڈالر تھا۔ باالفاظ دیگر پاکستان کے مجموعی قرضے میں 25فیصد اضافہ گزشتہ ایک سال میں ہوا۔ ظاہر ہے ان حالات میں پاکستانی حکمرانوں کے نزدیک سب سے پہلے پاکستان فطری بات ہے۔ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے.

کشمیر کے حوالے سے ماضی میں جو حکمت عملی اپنائی گئی کم و بیش اب بھی وہی حکمت عملی ہے۔ جذباتی نعرے،بیانات،قوم کا مورال بلند رکھنے کیلئے یقیناً ناگزیر ہیں لیکن یہ سب کچھ ٹھوس زمینی حقائق کی بنیاد پر ہو تو مثبت نتائج حاصل ہوتے ہیں۔

اس معاملے کو ایک دوسرے زاویے سے دیکھتے ہیں پاکستان کے حکمران ریاست جموں وکشمیر کو اپنی شہ رگ کہتے ہیں۔ جاری تحریک آزادی کشمیر، جس کے پاکستانی حکمران پشتی بان ہیں ، ان کے نزدیک تکمیل پاکستان کی تحریک ہے۔اس تحریک کو جاری رکھنے کیلئے جو کچھ ماضی میں ہوا، وہ پاکستانی امنگوں کے عین مطابق تھا۔پرامن اور مسلح جدوجہد، ہر دو صورتوں میں پاکستانی حکمرانوں نے اپنا جھنڈا اور کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ سرفہرست رکھا۔

جب پاکستان کی حمایت پر مبنی پرامن جدوجہد توقع کے مطابق اپنی جگہ نہ بنا سکی تو 1988 میں مسلح جدوجہد شروع کی گئی۔غلطی اس وقت ہوئی جب لبریشن فرنٹ سے کیے گئے معاہدے کو توڑ کر اسلام پسند تنظیموں کو آگے لایا گیا اور اس سے بڑی غلطی اس وقت ہوئی جب کشمیری عسکریت پسند تنظیموں کی جگہ پاکستان بیسڈ عسکری تنظیموں لشکر طیبہ اور جیش محمد کو فرنٹ لائن پر رکھا گیا۔

غالباً افغان جنگ میں سوویت یونین کے خلاف کامیاب حکمت عملی کا ماڈل کشمیر میں اپنایا گیا۔کشمیر میں مسلح جدوجہد شروع کرنے سے قبل اگر سوویت یونین اور بھارت کی صورتحال کا سنجیدگی سے موازنہ کیا جاتا تو آج حالات یہ نہ ہوتے۔ سوویت یونین کے خلاف جنگ میں سرمایہ دار ممالک کا بلاک پاکستان کی پشت پر تھا۔ کیونکہ وہ جنگ کیپٹل ازم اور کیمونزم کی تھی جبکہ بھارت کے معاملہ میں وہ حالات نہیں تھے اور نہ ہی امریکا اور یورپی ممالک پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے۔

اس سلسلہ میں سفارتی اور خارجی محاذ پر ہمیشہ یہی موقف اپنایا گیا کہ ہم کشمیریوں کی اخلاقی اور سفارتی حمایت کرتے ہیں لیکن عملی طور تنظیموں کے ذریعے مسلح جنگ کشمیر کو پاکستان بنانے کی لڑی گئی۔ دلچسپ بات یہ کہ آج 5 اگست 2019کے بعد بھی ”کشمیر بنے گا پاکستان” کے نعرے کے ساتھ اہل کشمیر کی آزادی کی بات ماضی کا تسلسل ہے۔

ابہام پر مبنی اس طرح کی کشمیر پالیسی نے اہل کشمیر کیلئے جہاں دکھ اور مسائل پیدا کیے وہاں پاکستان کیلئے بھی ان گنت مسائل پیدا ہوئے۔بھارت نے کشمیر کے حالات کا کراچی میں بدلہ لیا اور اب کشمیر اور بلوچستان عمل اور ردعمل کا شکار ہیں ۔ چھ ستمبر 2019 کو صدر آزادکشمیر سردار مسعود خان نے جو تقریر کی ، اس کی ویڈیو ریکارڈ کا حصہ ہے۔ صدرمسعود خان جو لفظوں کا مناسب اور بروقت استعمال کرنے کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں ، ان کا یہ جملہ جب کشمیر میں ظلم ہوتا ہے تو بلوچستان میں ظلم ہوتا ہے،بہت کچھ بتا رہا ہے۔بلوچستان کے خراب تعلقات کا کشمیر سے کیا تعلق ہے؟مسئلہ کشمیر ایک قوم کی آزادی کا مسئلہ ہے جبکہ بلوچستان پاکستان کا شک و شبہ سے بالاتر جغرافیائی حصہ ہے۔

سردار مسعود خان کے لفظوں کی اگر مثبت تشریح کی جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ بھارت افغانستان کے ذریعے بلوچستان میں دہشت گردی کروا کر کشمیر کے حالات کا بدلہ لے رہا ہے۔اگر اس کی مزید تشریح کی جائے تو یہ خیال بھی قریب تر ہوگا کہ افغانستان سے بھارت کے کردار کو ختم کرنے کیلئے کشمیر میں مسلح جدوجہد کے خاتمے کی ضمانت دی گئی۔اسی لئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے 17اگست 2019 کی پریس کانفرنس میں یہ کہا کہ اس طرف (آزادکشمیر اور پاکستان) سے اس پار کوئی بھی مداخلت اب غداری ہوگی۔

اب پاکستان کیا کر سکتا ہے؟

ایسے حالات میں جب ایک سال میں دس ہزار 300 ارب ڈالر قرضے میں اضافہ ہوا ہو،بلوچستان میں درپیش مشکلات کا حل ناگزیر ہو، ڈیورنڈ لائن کا معاملہ بھی سیٹل کرنے کی ضمانت ہو، ایف اے ٹی ایف کی واچ لسٹ سے گرے لسٹ میں شامل ہونے کے خطرات بھی ہوں، عالمی حمایت بھی خاطر خواہ نہ ہو،معاشی حالات بھی ناگفتہ بہ ہوں ……تو ایسا راہ عمل اپنایا جانا ضروری ہے جس سے پاکستان اور ریاست جموں وکشمیر کے درمیان معاشی،معاشرتی،سماجی،مذہبی اور اسلامی رشتے میں دراڑ نہ پڑے۔ یہ راہ عمل اہل جموں وکشمیر کی حکومت بنا کر اور اسلام آباد میں پہلے سفارت خانے کا قیام ہے۔اس کے بعد جو بھی معاملات ہوں گے اہل جموں کشمیر اسے سنبھال لیں گے۔

ہاں اگر درج بالا حالات سے نکلنے کیلئے کوئی خفیہ سمجھوتا ہو چکا ہے جیسا کہ اربابِ اختیار کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے تو ریاست کے لوگوں کے پاس اپنا راہ عمل ہوگا۔پیپلز نیشنل الائنس کے حالیہ اجتماعات اس سلسلے کی پہلی کڑی ہیں۔جس کا راستہ طاقت کے استعمال اور دیگر ذرائع سے روکا جا رہا ہے ۔

ان حالات میں نیشنل الائنس کی قیادت پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ متفقہ بیانیے پرمسئلہ کشمیر کے حوالہ سے اس خطہ (آزادکشمیر)میں حقیقی ارباب اختیار کی مخالفت کیے بغیر آگے بڑھیں اس سلسلہ میں لندن بیسڈ تارکین وطن کی ایک ”تنظیم جموں کشمیر قومی شناختی مہم“کا جو درج ذیل متفقہ بیانیہ سامنے آیا ہے اسے مشعل راہ بنایا جا سکتا ہے۔

1۔ریاست جموں وکشمیر اور اس کے باشندوں کی صدیوں سے موجود شناخت کیلئے جدوجہد

2۔چودہ اگست 1947سے قبل کی ریاست کی وحدت کی بحالی کی جدوجہد

3۔جمہوری اور فلاحی ریاست کے قیام کیلئے جدوجہد جس میں تمام مذاہب اور ریجنز کی برابر
کی بنیاد پر نمائندگی ہو

4۔ریاست جموں وکشمیر کے وسائل پر ریاست جموں وکشمیر کے لوگوں کا اختیار۔

یہ وقت زمینی حقائق مد نظر رکھتے ہوئے ذمہ دارانہ اور دلیرانہ فیصلوں کا ہے۔تقسیم کشمیر پر کوئی بھی اتفاق اہل کشمیر کیلئے ناقابل قبول ہے۔پاکستانی حکمرانوں کیلئے اندرونی اور بیرونی حالات کی وجہ سے اگر مشکلات ہیں تو یہی درخواست کی جا سکتی ہے کہ اہل جموں کشمیر کا راستہ نہ روکا جائے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے