جے یو آئی آزادکشمیر کا مظفرآباد میں ‘آزادی کشمیر کانفرنس’ منعقد کرنے کا اعلان

جمعیت علمائے اسلام جموں وکشمیر کے سیکرٹری جنرل مولانا امتیاز احمد عباسی نے کہا ہے کہ 19ستمبر کو مظفرآباد میں آزادی کشمیر کانفرنس تحریک آزادی کیلئے سنگ میل ثابت ہو گی۔قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان تقسیم کشمیر کے حوالے سے بین الاقوامی اور قومی سطح پر ہونے والی سازشوں کو بے نقاب کریں گے۔مظفرآباد کانفرنس میں مولانا کشمیریوں کو بتائیں گے کہ بینکاک میں تقسیم کشمیر کے حوالے سے خفیہ ملاقاتیں کون کرتا رہا

مرکزی ایوان صحافت مظفرآباد میں سینئر جماعتی قائدین،مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا قاری محمدافضل خان ضلعی ، امیر مولانا قاری عبدالماجد،چیئرمین سوشل میڈیا مولانا ندیم آزاد،سیکرٹری جنرل ہٹیاں بالا مولانا مختار کیانی،مولانا یونس شاکر،حافظ عبدالشکور حسان،قاری محبوب احمد ودیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کو 43روز گزر گئے مگر عالمی برادری اس لیے خاموش ہے کہ وہاں مسلمان بس رہے ہیں۔اقوام متحدہ سلامتی کونسل اور اوآئی سی سمیت دنیا کے بڑے فورمز صرف تشویش کا اظہار کررہے ہیں ، اب انہیں عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے مگر اصل وجہ یہ ہے کہ حکومت پاکستان کشمیر کے حوالے سے عملی اقدامات سے گریزاں ہے ، عمران خان نے مظفرآباد میں جلسہ اس لیے کیا کہ کشمیریوں کو کنٹرول لائن جانے سے روکا جائے مگر ہم نے اے پی سی میں بھی یہ بات واضح کی کہ کنٹرول لائن کو توڑے بغیر ہم کسی بات کو نہیں مانیں گے ، کشمیر کا واحد حل جہاد ہے ، قوم کو تیار کرنے کی ضرورت ہے .

اُنہوں نے کہا کہ 18ستمبر کو مظفرآباد میں جمعیت طلباء اسلام کے زیر اہتمام آزادی کشمیر ریلی نکالی جائے گی جبکہ 19ستمبر کو اپر اڈہ لال چوک میں دن10بجے آزادی کشمیر کانفرنس ہو گی ، جس میں قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان ، قائد کشمیر مولانا سعید یوسف خان سمیت ہم خیال جماعتوں کی قیادت خطاب کرے گی۔

اُنہوں نے کہا کہ ایل او سی توڑنے کا مقصد بھارت کے خلاف جہاد ہے ، وزیراعظم آزادکشمیر تحریک آزادی کشمیر کیلئے جو کردار ادا کررہے ہیں ، اُس پر مکمل اعتماد ہنے اور امید کرتے ہیں کہ وہ کنٹرول لائن کو توڑنے کی کال 27ستمبر کے بعد دیں گے، سب سے زیادہ کارکنان جمعیت علماء اسلام کے ہوگے۔

اُنہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ عمران خان پر کوئی اعتماد نہیں ،وہ یو ٹرن کے ماہر ہیں ، ہمیں تقسیم کشمیر کے حوالے سے مشرف کا فارمولا قبول ہے نا ہی بنی گالا کے کشمیر فارمولے سے آزاد ہو گا بلکہ جہاد سے ہی آزاد ہو گا ، مودی اور اس کے وزیر خارجہ نے دنیا کے37ممالک کے دورے کیے اور کشمیر پر حمایت حاصل کی جبکہ ہمارے وزیر اعظم نے سعودی عرب،عرب عمارات،چین جیسے انتہائی قریبی دوست ممالک سے بھی حمایت حاصل نہ کر سکی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے