سری لنکن ٹیم کا دورہ انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی میں معاون ثابت ہوگا، پی سی بی

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کا کہنا ہے کہ سری لنکن ٹیم کا دورہ، پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی میں معاون ثابت ہوگا۔

قذافی اسٹیڈیم میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو وسیم خان کا کہنا تھا کہ پی سی بی سیریز کے کامیاب انعقاد کیلئے پرعزم ہے، شائقین کو اچھی سیریز دیکھنے کو ملے گی اور دنیا کو یہ پیغام ملے گا کہ پاکستان کرکٹ کیلئے محفوظ ملک ہے۔

وسیم خان کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان نے معاملے میں مداخلت کرتے ہوئے سری لنکن بورڈ کو فول پروف سیکیورٹی انتظامات کی یقین دہانی کرائی جس کے بعد اس دورے کی راہ ہموار ہوئی۔

واضح رہے کہ سری لنکن ٹیم پہلے ہی دورہ پاکستان کیلئے ون ڈے اور ٹی20 اسکواڈز کا اعلان کر چکی ہے۔سری لنکن ٹیم 27ستمبر کو پہلا ون ڈے میچ کراچی میں کھیلے گی جس کے بعد سیریز کے بقیہ ون ڈے میچز بالترتیب 29 ستمبر اور 2 اکتوبر کو کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں ہی کھیلے جائیں گے۔

دونوں ٹیموں کے درمیان پہلا ٹی20 میچ 5 اکتوبر کو لاہور میں کھیلا جائے گا جس کے بعد بقیہ دونوں میچز کی میزبانی کی بھی قذافی اسٹیڈیم 7 اور 9اکتوبر کو کرے گا۔

یاد رہے کہ مارچ 2009 میں سری لنکن ٹیم پر لاہور میں کیے گئے دہشت گرد حملے کے بعد پاکستان پر عالمی کرکٹ کے دروازے بند ہو گئے تھے۔اس حملے میں 6 پاکستانی پولیس اہلکار اور دو شہری جاں بحق ہوئے تھے جبکہ سری لنکن ٹیم کے کھلاڑی اور میچ آفیشلز زخمی بھی ہوئے تھے۔

اس حملے کے بعد 8سال بعد سری لنکن ٹیم پاکستان میں ٹی20 میچ کھیلنے راضی ہوئی اور اکتوبر 2017 میں پاکستان آ کر ٹی20 میچ کھیلا تھا۔پاکستان میں سیکیورٹی خدشات کے سبب سری لنکن ٹیم کے 10 اہم کھلاڑی پہلے ہی دورہ پاکستان سے انکار کر چکے ہیں۔

[pullquote]پاک آرمی سری لنکن ٹیم کی سیکیورٹی کی براہ راست نگرانی کرے گی[/pullquote]

سری لنکن کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ کراچی اور لاہور میں پاکستان آرمی براہ راست سیکیورٹی انتظامات کی نگرانی کرے گی۔

سری لنکا انٹیلی جنس کے سربراہ میجر جنرل (ر) کولا تھنگے نے کہا ہے کہ ٹیم پر پاکستان میں حملے کا کوئی خطرہ نہیں ہے، پاکستان میں سری لنکا کے ہائی کمشنر کو بھی سری لنکا میں کسی ممکنہ حملے کی کوئی اطلاع نہیں تھی۔

سری لنکا کرکٹ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ہمیں یقین دلایا گیا ہے کہ پاکستان آرمی تمام انتظامات کرے گی۔ وزارت دفاع نے ٹیم کو پاکستان بھیجنے کی اجازت دے دی ہے، حکومت پاکستان نے سری لنکن حکومت کو خط لکھ کر ٹیم کو فول پروف سیکیورٹی کی یقین دہانی کرادی ہے جس سے سری لنکا کےدورہ پاکستان پر چھائے خدشات کے بادل چھٹ گئے ہیں۔

[pullquote]سری لنکا کیخلاف سیریز کیلئے قومی ٹیم کا کیمپ شروع[/pullquote]

لاہور میں سیریز کیلئے قومی ٹیم کے 4 روزہ تربیتی کیمپ کا بھی آغاز ہو گیا ہے۔ کیمپ میں کپتان سرفراز احمد بھی شریک ہوگئے ہیں۔

پاکستان اور سری لنکا کے درمیان ون ڈے اور ٹی 20 سیریز 27 ستمبر سے 9 اکتوبر تک شیڈول ہے۔ جمعرات کوسری لنکا کرکٹ کے سیکرٹری موہن ڈی سلوا نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے گرین سگنل مل گیا ہے، میں خود اور دیگر بورڈ عہدیدار بھی ٹیم کے ساتھ جائیں گے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ سری لنکن ٹیم کو کراچی اور لاہور میں سربراہ مملکت کے برابر سیکیورٹی فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔

سری لنکا کی ٹیم بدھ کو پاکستان آئے گی، پہلا ون ڈے 27 ستمبر کو کراچی میں کھیلا جائے گا، اس کے بعد مزید دو ایک روزہ میچز نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں ہوں گے۔

تین ٹی ٹوئنٹی میچز لاہور میں شیڈول ہیں۔ موہن ڈی اسلوا نے کہا کہ کولمبو میں پاکستانی ہائی کمیشن نے حکومت پاکستان کی جانب سے ہمیں یقین دلایا ہے کہ ٹیم کو غیر ملکی سربراہ مملکت کے مساوی سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔

ہائی کمشنر کی جانب سے خط میں سری لنکا ٹیم کو پاکستان میں غیر ملکی سربراہوں کی مساوی سیکیورٹی دینے کا وعدہ کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ پاکستان میں سری لنکن ٹیم کا خاص خیال رکھا جائے گا۔

گذشتہ ہفتے دورہ اس وقت شدید خدشات کا شکار ہوگیا تھا جب سری لنکن بورڈ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے دفتر نے ہدایت جاری کی ہے کہ مختصر طرز کی کرکٹ کے 6 میچوں کے دورے میں قومی ٹیم کے خلاف ممکنہ دہشت گرد خطرے کے حوالے سے باوثوق معلومات ملنے کے بعد صورت حال کا دوبارہ جائزہ لیا جائے۔

تاہم اب سری لنکا کرکٹ نے سیکیورٹی انتظامات پر اطمیان کا اظہار کیا ہے۔ 2009میں لاہور میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد پاکستان میں 10 سال سے کوئی ٹیسٹ میچ نہیں ہوا ہے۔

سری لنکا دس سال بعد پاکستان میں ون ڈے انٹرنیشنل کھیلنے والی پہلی ٹیم بن جائے گی۔ سری لنکا کے دس کھلاڑیوں نے سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے پاکستان آنے سے انکار کردیا ہے۔

سیکریٹری موہن ڈی سلوا کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ پاکستان کا دورہ کیا تو سیکیورٹی انتظامات اطمینان بخش تھے۔ پی سی بی نے سیریز کو کسی اور ملک منتقل کرنے سے انکار کردیا تھا۔

[pullquote]سری لنکن کرکٹ ٹیم کو دورہ پاکستان کی اجازت مل گئی[/pullquote]

سری لنکا کی حکومت نے اپنی کرکٹ ٹیم کو دورہ پاکستان کی اجازت دے دی ہے۔

سری لنکن ٹیم دورہ پاکستان کے دوران 3 ون ڈے اور 3 ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے گی۔

سری لنکن میڈیا کے مطابق وزارت دفاع نے سری لنکن ٹیم کو دورہ پاکستان کی اجازت دے دی ہے اور بورڈ جلد دورہ پاکستان کا باقاعدہ اعلان کرے گا۔

آئی لینڈرز 25 ستمبر کو پاکستان پہنچیں گے جہاں 3 ٹی ٹوئنٹی اور 3 ون ڈے میچز کھیلے جائیں گے۔

پاکستان اور سری لنکا کے درمیان تین ون ڈے اور تین ٹی ٹوئنٹی میچوں پر مشتمل سیریز کا آغاز 27 ستمبر سے ہو رہا ہے، تاہم سری لنکا کے کچھ سینیئر کھلاڑیوں کی جانب سے پاکستان آنے کے حوالے سے تحفظات کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔

جب کہ ذرائع دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ سری لنکن حکومت سے سیکیورٹی معاملات طے پا گئے ہیں اور سری لنکن ٹیم کو سربراہ مملکت والی سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔

دوسری جانب لاہور میں سری لنکا کے سینیر افسران کے وفد نے سیف سٹی اتھارٹی کا دورہ کیا جس میں انتظامی، پولیس، پبلک ایڈمنسٹریشن سروسز کے افسران شامل تھے۔

سری لنکن وفد کو سیف سٹی اتھارٹی میں آپریشنز، ایمرجنسی رسپانس اور ٹریفک منیجمنٹ کا نظام دکھایا گیا اور سیف سٹی کے ایم ڈی علی عامر ملک اور دیگر افسران کی جانب سے بریفنگ بھی دی گئی۔

وفد نے سیکیورٹی انتظامات کو سراہتے ہوئے سیف سٹی کے تجربے سے فائدہ اٹھانے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔

[pullquote]شاہد آفریدی نے سینئر سری لنکن کھلاڑیوں کے پاکستان آنے سے انکار کی وجہ بتا دی[/pullquote]

قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ دورہ پاکستان کے لیے سری لنکن کھلاڑیوں پر انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی انتظامیہ کی جانب سے بہت دباؤ ہے۔

پاکستان اور سری لنکا کے درمیان تین ون ڈے اور تین ٹی ٹوئنٹی میچوں پر مشتمل سیریز کا آغاز 27 ستمبر سے ہو رہا ہے جس کے لیے سری لنکن کھلاڑیوں نے 25 ستمبر کو پاکستان پہنچنا ہے تاہم سری لنکا کے کچھ سینیئر کھلاڑیوں کی جانب سے پاکستان آنے کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

کراچی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ پاکستان نے سری لنکا کو ہمیشہ سپورٹ کیا، پاکستان کے سینئر کھلاڑیوں نے سری لنکا جانے سے کبھی بھی انکار نہیں کیا لہذا سری لنکن کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کو بھی پاکستان آنا چاہیے۔

شاہد آفریدی نے سری لنکن بورڈ سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ سینٹرل کنٹریکٹ رکھنے والے کھلاڑیوں کو پاکستان بھیجنے کے لیے دباؤ ڈالے۔

ان کا کہنا تھا کہ جو بھی سری لنکن کھلاڑی پاکستان کا دورہ کرے گا ہماری تاریخ میں اسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

قومی ٹیم کے سابق کپتان نے انکشاف کیا کہ جب بھی پی ایس ایل کے دوران سری لنکن کھلاڑیوں کو پاکستان میں کرکٹ کھیلنے کی دعوت دی تو انہوں نے بتایا کہ وہ تو آنا چاہتے ہیں لیکن انہیں انڈین پریمیئر لیگ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اگر وہ پاکستان جائیں گے تو ان کا کنٹریکٹ ختم کر دیا جائے گا۔

[pullquote]سرفراز کو ٹیسٹ کپتانی چھوڑ دینی چاہیے[/pullquote]

قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کے حوالے سے لالہ نے کہا کہ تینوں فارمیٹ کو لے کر چلنا بہت مشکل کام ہے، سرفراز کو پہلے بھی مشورہ دیا اور اب بھی کہتا ہوں کہ انہیں ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی چھوڑ دینی چاہیے۔

شاہد آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ مصباح کے لیے دونوں عہدوں پر کام کرنا ایک چیلنج ہے لیکن وہ 24 گھنٹے کام کرنے والے محنتی انسان ہیں، ان کی ڈیمانڈ ہے اور مجھے امید ہے کہ وہ بہتر طریقے سے کام کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یونس خان، محمد یوسف، عبدالرزاق اور شعیب اختر کو بھی انڈر 19 ٹیموں کے ساتھ لگایا جانا چاہیے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے