کمزور اور چھوٹے امیدوار ڈینگی مچھر نے بڑے بڑے امیدوارں کو شکت دے دی

کتنے چھوٹے سے موسم گرما کے امیدوار نے سدا بہار رہنے کے دعوے کرنے والے امیدوارں کو شکت دی ہے، یہ ساری دنیا دیکھ رہی ہے کہ بیس سے زیادہ معصوم جانیں ڈینگی مچھر نے اپنی لپٹ میں لے لیں، دس ہزار سے زیادہ شہری اپنے نشانے پہ رکھتے ہوئے بڑے بڑے امیدوارں کو بتایا کہ مدمقابل کو ہرانے کے لیے انتخابی مہم نہ چلانے کی سزا کیا ہوتی ہے ، کیوں کہ صحت سے متعلقہ ادارے ڈینگی کو ہرانے کی انتخابی مہم تک بھر پور طریقے سے نہ چلا سکے،جس کے باعث کئی معصوم اپنے پیاروں سے بچھڑ گئے اور جب پانی سر سے گزر گیا تو ڈینگی مچھر نے اپنے پر باکخصوص جڑواں شہروں میں پھیلا لیے تو اداروں کو دوڑیں لگانا یاد آیا۔ لیکن ڈینگی مچھر تو بس یہ بتانے آیا ہے حکومت کو کہ مجھ سے بروقت نہ نمبٹ سکے تو کیا آنے والے کڑے وقت سے نمبٹ پاؤ گے ۔۔؟

مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی ، بظاہر ڈینگی مچھر کے خاتمے کے لیے وزرات صحت متحرک ، اسلام آباد انتظامیہ چاک وچوبند ،سی ڈی اے بھی گرتی پڑتی کچھ سپرے کر ہی رہی ہے ۔مگر اس مچھر نے ادروں کو وہ تگنی کا ناچ نانچا ہے کہ بس ۔۔

ڈینگی کے مریضوں سے سرکاری ہسپتال اٹے پڑے ہیں ،امیر تو چلو مہنگے ہسپتالوں میں فوری علاج کرواکے بازیاب بھی ہو گئے لیکن غریب اور مڈل کلاس بچارے جب پمز کی اوپی ڈی کی لمبی قطاروں میں لگتے ہیں تو صرف”” ایک پرچی کا سوال ہے بابا” کی فریاد کرتے ہیں ،بس پھر "””جو ہائے اُس دل پہ گزرتی ہے وہ وہی جانے "””، پرچی کی لائن میں لگنے والے دھکے، ڈاکٹر کے کمرے کی رسائی تک اور پھر لیب کے ٹیسٹ کروانے کی قطار میں لگنے تک وہ دشوار گزر مرحلہ ہے کہ سفید پوش طبقہ جس کرب سے گزر رہا ہے خدا کی پناہ ۔

ہزاروں مریض ڈرے سہمے دعائیں کرتے پہنچ رہے ہیں کہ ان کو ہونے والا بخار خدارا ڈینگی بخار نہ ہو ۔معاون خصوصی ظفر مرزا کے سرکاری ہسپتالوں میں ڈینگی کے مریضوں کو بھرپور سہولیات دینے کے لیے وزرات صحت میں اجلاس پہ اجلاس اور احکامات پہ احکامات دئیے جا رہے ہیں لیکن سب کچھ بس آلیکڑونک میڈیا پر چلنے والے ٹکرز کی حد تک ہی ہے ،مریض ہمیں ہسپتال کے باہر کیمرہ لیے کوریج کرتے دیکھ کر لپک لپک کر ناکافی سہولتوں کا رونا روتے ہیں ٹیسٹ نہ ہونے کی دہائیاں دیتے ہیں۔

ہم بھی کیا کریں بس !ان سے کہتے ہیں آئیے نا بولیں کیمرہ کے سامنے……. پھر جو کچھ وہ بولتے ہیں اس میں سے اتنا کچھ ایڈٹ کرنا پڑتا ہے…. بس سمجھیں کہ سب کچھ آن آئیر کرنا ایسا ہی ہے کہ”” دریا میں رہ کے مگرمچھ سے بیر رکھنا””” ہے ۔

ڈینگی وائرس اتنا خطرناک اور جان لیوا نہیں تھا جتنا ناکافی انتظامات نے بنایا،حالانکہ قومی ادراہ صحت کی جانب سے چارماہ قبل ڈینگی کے حوالے جاری کی جانے والی ایڈوائزی پہ اگر کان دھرتے اور آنکھیں کھلی رکھتے تو بیس سے زیادہ معصوم جانیں ڈینگی وائرس کی بھینٹ نہ چڑھتی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے