مسئلہ کشمیر کے سہہ جہتی پہلو اور نئی راہیں

جب سے ہندوستانی حکومت نے اپنے آئین کی دفعہ 370 کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو دیے گئے خصوصی مقام کو ختم کر کے ، اپنے زیر قبضہ کشمیر کو دو حصوں “ لداخ” اور “ جموں و کشمیر “ میں تقسیم کر کے دونوں حصوں کو الگ الگ طور براہ راست مرکز کی زیر حکمرانی لا کر اس پر اپنے آئین کا نفاذ ، کشمیر کے آئین کو ختم اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر پر اپنا حق حکمرانی اور باز یابی کا دعویٰ ایک نئی جہت کے ساتھ شروع کیا ہے ، کشمیر کے دونوں حصوں اور ہندوستان و پاکستان کے درمیان سیز فائر لائین پر گولوں اور گولیوں کی گن گرج کی طرح الفاظ کی دھوئیں دار جنگ بھی نئی جہت کے ساتھ شروع ہوگئی ہے –

آزاد کشمیر اور دنیا بھر میں آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک گروہ نے ، جن کو کچھ لوگ مناسب الفاظ میں ”آزادی پسند” اور کچھ نامناسب الفاظ میں ”علیحدگی پسند ” کہتے چلے آرہے ہیں نے ، ہندوستانی مقبوضہ کشمیرمیں جاری ”جنگ آزادی ” کو ایک نئی سمت میں ہائہ جیک کرنا شروع کر دیا ہے ، ان کا دعویٰ ہے کہ ”پاکستان اپنے زیر انتظام کشمیر سے اپنی فوجیں نکال کر اس کو ایک آزاد اور خود مختار ملک بنائے اور ہندوستان کے ساتھ جنگ کر کے اس کے زیر قبضہ کشمیر کو آزاد کرائے ۔” جس کی ابتداءً وہ خود جنگ بندی لائن توڑ کر کرنا چاہتے ہیں –

ظاہر ہے پاکستان 1949 کے ہند پاکستان جنگ بندی معاہدے کے تحت ایسا کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا اور جب تک 5 اگست کے یک طرفہ ہندوستانی عمل سے شملہ معاہدہ کے ختم کیے جانے کے بعد ، پاکستان بھی اس طوق کو گلے سے نہیں اتار پھینکتا ، پاکستان اس کے تحت بھی اس کی اجازت نہیں دے سکتا – اس میں کوئی شک نہیں ریاست کشمیر کا ہر چپہ متنازع ہے، جس میں ہندوستان اور پاکستان کے زیر قبضہ علاقے تو ہیں ہی ، چین کے زیر قبضہ علاقوں کو بھی پا کستان ، چین کے 1963 کے سندھ طاس معاہدے کے تحت متنازع تسلیم کیا گیا ہے – ان حقائق کا ادراک کرنے کی ضرورت ہے –

آزاد اور خود مختار ریاست جموں کشمیر کا دعویٰ یا نظریہ رکھنا کوئی جرم ، کوئی بغاوت ، کوئی غداری نہیں – یہ نظریہ ریاست کے مہاراجہ سے بھی منسوب کیا جاتا ہے جس کو میں زمینی تاریخ کے مطالعہ کی روشنی میں درست نہیں سمجھتا، شیخ محمد عبداللہ مرحوم سے بھی منسوب ہے ، جس کی پاداش میں اس کو 1953 میں کشمیر کی وزارت عظمیٰ سے معزول کیا گیا اور اب بھی ریاست کے دونوں حصوں میں یہ زمین پر دیکھا اور سنا جاتا ہے –

میں بھی معقول وجوہات کی بنیاد پر ایک پکا نظریہ رکھتا ہوں – لیکن ان سب نظریات کے جائز ، ناجائز ، ممکن یا ناممکن ہونے کی بحث میں نہیں الجھنا چاہتا- اس کالم کے ذریعہ میں قارئین کی توجہ کشمیر کے قانونی، سیاسی اور انسانی ، سہ جہتی پہلوؤں کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں-

[pullquote]۱- مسئلہ کشمیر کا قانونی پہلو[/pullquote]

آزادئ ہند کے قانون 1947 کے تحت ، ہندوستانی چھوٹی بڑی، برطانوی یا والیان ریاست کی ریاستوں کو اپنی آبادی کی مذہبی عددی اکثریت اور جغرافیائی حیثیت کے تناظر میں اپنی ریاست کا الحاق ہندوستان یا پاکستان میں سے کسی بھی ملک کے ساتھ کرنے کا اختیار دیا گیا تھا، مکمل آزادی اور خود مختاری کا اس میں نہ صرف کوئی آپشن نہیں تھا ، بلکہ گورنر جنرل ہندوستان نے 9 اور 14 اگست 1947 کو واضح مراسلے جاری کرکے آزادی کے عمل کو غلط اور کسی بھی ریاست کی آزادی کو نہ صرف تسلیم نہ کیے جانے کا اعادہ کیا تھا، بلکہ کسی بھی ملک کی طرف سے اس کو تسلیم کرنا ”غیر دوستانہ فعل ” قرار دیا تھا –

قائد اعظم کے ساتھ یہ بات منسوب کی جاتی ہے کہ انہوں نے والیان ریاست کو تاج بر طانیہ کے اقتدار اعلیٰ کے ختم ہونے کے بعد آزاد اور خود مختار ہو جانے کے حق کا اعادہ کیا تھا ، ان کی اعلیٰ آئینی اور قانونی بصیرت کا عکاس تھا کہ ”آزادی آزاد ی ہوتی ہے، وہ مشروط نہیں ہو سکتی” ، لیکن اطلاق تو بہر حال قانون کا ہی ہونا تھا، جو الحاق کے ساتھ مشروط تھا، قائدین کے فرمان کے ساتھ نہیں-

مہاراجہ کشمیر کے ہندوستان کے ساتھ آزادی ہند کے قانون کے مغائر الحاق ہونے کے بعد جب ہندوستان یہ شکایت لے کر یو این سلامتی کونسل میں گیا کہ پاکستان کی طرف سے در اندازی کشمیر کے مہاراجہ کے ہندوستان کے ساتھ الحاق ہونے بعد ، غیر قانونی عمل ہے، اس کو روکا جائے، سلامتی کونسل نے اس الحاق کو نظر انداز ، بلکہ بالواسطہ طور مسترد کرتے ہوئے ، آزادئ ہند کے قانون کے اصولوں کے عین مطابق ریاست کے مستقبل کے الحاق کا فیصلہ لوگوں کی رائے کی بنیاد پر ہندوستان یا پاکستان سے ہی مشروط کردیا – یہ بھی قانونی عمل کا حصہ ہے-

یہ کشمیری عوام کی بہت بڑی فتح ہے کہ مہاراجہ کشمیر کے الحاق نامے کے باوجود سلامتی کونسل نے کشمیر کا اس طور ہندوستان کے ساتھ الحاق نہیں مانا – گوکہ الحاق مشروط اور صرف دفاع، خارجہ اور مواصلات کی حد تک تھا ،لیکن دفعہ 370 کے تحت ہندوستان کشمیری لیڈروں کے مطالبے پر اس سے بہت آگے نکل گیا ، لیکن 5 اگست 2019 کے بعد ایک غیر آئینی عمل کے ذریعہ اس آئینی عمل کو بھی ختم کردیا –

ریاست کا جو حصہ پاکستان کے زیر انتظام ہے وہ بھی اسی طرح سلامتی کونسل کے قانونی عمل کا پابند ہے جیسے ہندوستانی زیر انتظام حصہ- لیکن پاکستان نے اس کو آئین کے تحت اپنا حصہ بنائے بغیر آئین کی دفعہ 257 کے تحت اس سمیت، پوری ریاست کے مستقبل کو ریاستی لوگوں کی خواہشات کے تابع کر دیا ہے –

[pullquote]۲- مسئلہ کشمیر سیاسی و سفارتی پہلو[/pullquote]

کشمیر کے مسئلے کی دوسری جہت سیاسی و سفارتی ہے ، اب ان دو ملکوں میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کے علاوہ تیسری جہت بھی اندرون ریاست ، ہندوستان و پاکستان اور بیرونی ممالک میں سول سوسائٹیز اور مفکرین ، ریاست کے مکمل آزادی اور خود مختاری کی رائے بھی پیش کرتے ہیں – اس میں کوئی شک نہیں کہ ریاست کے مستقبل کا فیصلہ اب 1947 کے حالات کے پس منظر میں نہیں ، بلکہ بدلی ہوئی دنیا کے حالات کے تناظر میں ہی ممکن ہو سکے گا –

لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ سلامتی کونسل کی قرار دادیں غیر مؤثر ہو گئی ہیں یا ان کو نظر انداز کیا جاسکتا ہے – ان کی نفی کرنا یا نظر انداز کرنا مہاراجہ کشمیر کے ہندوستان کے ساتھ الحاق کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے جو جیتی ہوئی بازی کو ہارنا ہے جسے کوئی بھی سلیم العقل آدمی نہیں مان سکتا- 5 اگست کے بعد تو ہندوستان نے کسی تیسرے فریق کی گنجائش ہی نہیں چھوڑی ، اگر ہے تو وہ صرفُ سلامتی کونسل کی قرار دادوں اور کشمیریوں کے استقامت کے ذریعہ ہے –

قرار دادیں یو این چارٹر کے تحت ، اس کے تابع ہیں جن کے تحت فریقین پر امن طریقے سے کوئی بھی ایسا حل نکال سکتے ہیں جو سب کو قابل قبول اور یو این چارٹر اور سلامتی کونسل کی قرار دادو کی روح کے مطابق ہو – اس میں الحاق کے علاوہ، زمینی حقائق کی روشنی میں تقسیم، پوری یا ریاست کے کسی یا کچھ حصوں کو آزاد اور خود مختار بھی کیاجا سکتا ہے -لیکن سیاسی حل بھی قانونی اصولوں کے تحت ہی ممکن ہے ، جو ہندوستان، پاکستان اور کشمیریوں کے اتفاق سے ہی ہو سکتا ہے – اگر ایسا ہوجاتا ہے ، تو اس سے بہتر اور پائیدار حل اور کچھ نہیں ہو سکتا-

لیکن ہندوستان یا پاکستان کے ساتھ الحاق اور کشمیر کی آزادی اور خود مختاری کو ایک ساتھ رائے شماری میں شامل کرنا ریاست کو ہندوستان کے حوالے کرنے کے مترادف ہے- ریاست میں ہندؤوں کی 35 سے 38 فیصد آبادی تو بلا شک و شبہ ہندوستانی ہے، مسلمانوں کی آبادی اگر ہندوستان ، پاکستان اور خود مختاری میں تقسیم ہو جائے تو جیتے گا کون؟ اس کا اندازہ لگانا کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے – الحاق اور خود مختاری کے حامی دوستوں کو اس حقیقت کو سمجھنا چاہیے –

اس مرحلہ پر پاکستان کو آگے بڑھ کر اپنے آئین کی دفعہ 257 کی اس طور تشریح کرکے سیاسی اور سفارتی بالغ نظری کا ثبوت دینا چاہیے کہ اس دفعہ میں ” پاکستان کے ساتھ الحاق کی صورت میں ،الحاق کی شرائط ، کشمیریوں کی ،خواہش ، کے مطابق طے ہوں گی “ کا مطلب یہ بھی ہے کہ “ اگر کشمیری مکمل ، مشروط ، محدود یا غیر محدود الحاق کرنے کے علاوہ آزاد اور خود مختار رہنے کی ہی خواہش رکھتے ہوں ، ان کو اس کا حق بھی حاصل ہوگا “ – یہ مرحلہ ہندوستان اور پاکستان کے مابین رائے شماری کے مرحلے کے بعد کا ہوگا اور محفوظ ترین مرحلہ ہوگا –

ایسا ہونے کی صورت میں حکومت آزاد کشمیر اپنے دفاع اور مواصلات کے امور حکومت پاکستان کے سپرد کرے اور حکومت پاکستان کشمیر کی آزادی کی تحریک چلانے کے لیے دنیا بھر میں پاکستان کے سفارت خانے کشمیریوں کے سہولت کار کے طور کام کریں – اس سے پاکستان کے آئین کی دفعہ 257 کی تکمیل کی ابتداء ہو جائے گی کہ کشمیریوں کی خواہشات کا احترام کیا جارہا ہے ورنہ “ آزادی اور الحاق “ کی تحریک کی بیل منڈے نہیں چڑھ سکے گی – دونوں کے معنی مختلف اور متضاد ہیں-

آزاد کشمیر حکومت اپنے آئین کے تحت “ مشیر رائے شماری” کی تقرری سے اس کی ابتداء کرے- بیرون ملک آباد ، مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے لوگ اگر 5 اگست کے ساتھ ہی کسی یورپی ملک میں کشمیر کی جلا وطن حکومت بناتے ، اس سے مسئلہ کو ایک نئی سفارتی کامیابی ملتی-

ایسی صورت میں حکومت پاکستان کو ہندوستان کے بل مقابل کھڑا ہونے کے بجائے، آزاد کشمیر کی حکومت کو پوری ریاست کی نمائندہ حکومت مان کر تحریک اس کو چلانے دے ،ہندوستان کے مقابلے میں اس کو کھڑا ہونے دیں ، آپ اس کی پشت پر کھڑے ہو جائیں، دنیا فریق کی بات مانتی ہے، اس کی موجودگی میں وکیل یا سفیر کی پذیرائی نہییں ہوتی- آپ نے ستر، بہتر سال میں دیکھ لیا ہے، اب دنیا کی مخلوق کشمیریوں کی قربانیوں اور ہندوستان کے ظلم کی وجہ سے بول رہی ہے ، جس میں تمام اسلامی ممالک میں سے صرف پاکستان کا کردار واشگاف طریقہ سے کشمیریوں کی حمایت میں ہے، ہونا بھی چاہیے کیونکہ یہ دعویدار بھی ہے اور ان ہی کی وجہ سے لوگ جانیں بھی دے رہے ہیں – اس کی بنیاد کشمیریوں کی اپنی جدو جہد اور قربانیاں ہیں جو پاکستان دنیا کو دکھا رہا ہے جبکہ اس کی خارجہ پالیسی 1957 کے بعد کوئی جوہر نہیں دکھا سکی ، بلکہ پاکستانی سیاست دان کشمیر کو ہی ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے استعمال کرتے ہیں-

قانونی ، سیاسی اور سفارتی عمل اپنی جگہ ، لیکن دشمن کے خلاف کسی وار سے پیچھے ہٹنا ، مناسب جگہ اور وقت پر اہداف حاصل کرنے کے لیے وہ سب کچھ کرنا جو سیاسی اور سفارتی عمل کو مہمیز بخشے، کے لیے نہ صرف تیار رہنا بلکہ کر گذرنا بھی اس عمل کا حصہ ہوتا ہے – کشمیری عوام اور پاکستانی فوج اس کو حرز جان بنا لے –

[pullquote]۳-مسئلہ کشمیر اور انسانی حقوق کا پہلو[/pullquote]

اس میں کوئی شک نہیں کہ یو این کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت ”حق خود ارادیت” بھی انسانی حقوق میں شامل ہے، لیکن 5 اگست 2019 کی واردات کے بعد ہندوستان نے اس موہوم سی امید پر بھی پانی پھیر دیا ، بلکہ سلامتی کونسل اور اقوام عالم کے منہ پر طمانچہ مار دیا – اب تو دنیا صرف کرفیو ہٹانے، رسل و رسائل ، ہسپتالوں ، سکولوں تک رسائی ، ضروریات زندگی کی فراہمی، مواصلات اور حق تحریر و تقریر کی بحالی کو “ انسانی حقوق “ کہہ کر ان کی بحالی کی بھیک مانگ رہی ہے ، جو بھی ہندوستان دینے کو تیار نہیں – اس میں شک نہیں با معنی زندگی گزارنے کے لیے یہی بنیادی اور ناگزیر تقاضے ہیں ، لیکن ان پر عمل کرنا اور ان کو یقینی بنانا، حق خود ارادیت دیے بغیر بلا روک ٹوک اور چوں و چرا ممکن نہیں ہے – دفعہ 370 کے تحت دی گئی رعایات اور حقوق کی بحالی حق خود ارادیت نہیں ہے جو کچھ طاقتیں مطالبہ کر رہی ہیں ، یہ اس کی طرف ایک قدم ضرور ہو سکتا ہے لیکن اس کا متبادل نہیں –

حق خود ارادیت کے حصول کو یقینی بنانے کے لئے مشرقی تیمور جیسی کاروائی کے مطالبہ کی ضرورت ہے ، جس کے بعد ہی ان حقوق پر عمل ممکن ہے جن کی بحالی کے لیے دنیا بھیک مانگ رہی ہے- ایسا نہ ہو کہ آئیندہ 70 سال ان حقوق کی بحالی میں گزر جائیں تب تک آبادی کا تناسب اور قومی شناخت ہی بگڑ جائے گی- اس لئے انسانی حقوق کو صرف ان سلب کردہ حقوق کی بحالی میں خلط ملط کر کے اصل ہدف کو نہ بھول جائیں- اس کے ادراک کی ضرورت ہے –

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے