90 سالہ سپہ سالار کاعزم

دو نہیں صرف ایک بیل پالو ۔۔ایک کو بیچ کر بندوق خرید لو۔۔ ہم خطے کے ہاتھی سے لڑرہے ہیں۔۔۔ ہمارا مقابلہ بڑی فوجی طاقت سے ہے۔۔ کھیتی باڑی کا کام دو کے بجائے ایک بیل سے بھی ہوسکتا ہے مگر آزادی بندوق کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی ۔

یہ ان دنوں کی بات ہے جب تحریک آزادی کشمیرکے مسلح دور کا آغاز ابھی ہونے ہی والا تھا ۔ تب آج کے نوے برس کے بزرگ رہنما سید علی شاہ نے یہ بات میرے گاؤں ہردوشوہ کے عید گاہ میں نماز عید کے خطبہ کے دوران کہی تھی۔

ان دنوں کشمیر میں گن کلچر کا دور دور تک کہیں کوئی نام و نشان تک نہ تھا ۔ کشمیری سادہ طبیعت کے لوگ تھے۔ چاقو اور چھری کا نام سن کر بھی سہم جاتے تھے۔ لیکن دور اندیش علی گیلانی نے اب 2019 میں قابل ضرورت سمجھی جانے والی حقیقت تب عیاں کی تھی۔

میں اس وقت چھوٹا تھا ۔۔ بچوں کی صف میں شرارتیں کررہا تھا لیکن مجھے اچھی طرح یاد ہے عید گاہ آس پاس کے چار پانچ گاؤں کے ہزاروں لوگوں سے بھری ہوئی تھی ۔ مجھے نہیں معلوم گیلانی صاحب کی اس بات کا بڑوں پر کوئی اثر ہوا بھی تھا یا نہیں البتہ عمومی طور پرتب بھی گیلانی صاحب کی بڑی عزت کی جاتی تھی ۔ وہ جہاں بھی جاتے تھے انہیں انہماک سے سناجاتا تھا ۔

1989 میں کشمیر میں مسلح جدوجہد شروع ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے شمال سے لے کر جنوب تک نعرہ آزادی شدومد سے بلند ہوا ۔۔ بچے بڑے بزرگ سب آزادی کے دیوانے بن گئے۔ ڈنڈوں اور جھنڈوں کی جگہ بندوق لہرانے لگے۔ آزادی کی منزل تھوڑی سی مسافت پر نظرآنے لگی ۔۔ چونکہ اس وقت بھارتی فوج آج کی طرح چپے چپے پر نہیں تھی بلکہ صرف بارکوں اور چھاونیوں تک محدود تھی ۔ مجاہدین کی تعداد بڑی تھی اس لیے کئی علاقوں پر تقریبا ڈھائی تین سال تک عملی طورپر انہیں کا سکہ چلتا رہا ۔ شرعی عدالتیں قائم ہوئیں اور سرکاری محکمےمکمل مفلوج رہے۔ حتیٰ کہ مجاہدین نوجوانوں کیلئے ماڈل بن گئے تھے۔ ٹرینڈ سیٹر بن گئے تھے۔ مجاہدین کا ایسا دبدبہ تھا کہ تین سال تک بھارتی فوج قصبہ سوپور میں داخل ہونے کی جرات نہ کرسکی ۔

لیکن ناقص حکمت عملی اور غیرسنجیدہ پالیسی سازوں کی دانستہ یا غیر دانستہ غفلت کے باعث کشمیر کو بھارت کے پنجے سے آزاد کرانے کا موقع ہاتھ سے اس وقت نکل گیا جب بھارت سرکار کو معلوم ہوا کہ لڑنے والے تو صرف چند دنوں کے تربیت یافتہ کشمیری نوجوان ہیں۔ یوں بلاوجہ پاکستان کی آرمی اور اس وقت کے طالبان کے خوف کے مارے بھارتی ریچھ کے مردہ جسم میں جان آئی اور پلٹ کر ایسا خونی وار کیا کہ خوبصورت وادی کے سبزہ زاروں میں قبرستان آباد ہونے لگے ۔ بڑی تعداد میں نیم تربیت یافتہ کشمیری جنگجو شہید کیے گئے۔ یوں چند سال میں بھارت نےجو کشمیرعملی طورپر کھویا تھا پھر حاصل کرلیا۔

اس دوران بدقسمتی یہ بھی رہی کہ جو عسکری تنظیمیں ایک ایک دن میں لاکھوں کروڑوں روپےخرچ کررہی تھیں۔ اسلحہ کو سنبھال نہ پائیں۔ وہ اس زعم میں تھیں کہ خوش گوار دن شاید ہمیشہ رہیں گے۔

2001 میں نائن الیون کا واقعہ پیش آیا۔ افغانستان میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد اقوام عالم کی افواج کابل کی سڑکوں پر گشت کرنے لگیں اور پاکستان میں دہشت گردی کی ایسی لہراٹھی جس نے نہ صرف پاکستانیوں کو شدید جانی و مالی نقصان سے دوچار کیا بلکہ کشمیرکی مسلح جدوجہد کو بھی مثاثر کرکے پیرالائز کردیا۔

پاکستان کی پالیسی میں 360 ڈگری کا بدلاؤ آیا اور کشمیر کی عسکری تنظیمیں سکڑ کر دوچار رہ گئیں وہ بھی اسلحہ کے بغیر۔۔۔

آج کشمیریوں کی شان سید علی شاہ گیلانی 90 سال کے ہوگئے۔ جسمانی طور پر وہ کمزور ضرورہیں لیکن ان کے حوصلے آج بھی جوان ہیں۔۔ ان کا جذبہ کسی بھی جوشیلے جوان سے کم نہیں ہے ۔ان کی ہمت آج بھی ہمالیہ ہے۔ آزادی کی تڑپ میں بھی رتی بھر فرق نہیں آیا۔

نوے سالہ گیلانی کے افکار اور خیالات میں بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ان کا موقف ، نظریہ، دانش، سوچ ، خیالات ، سچائی ، بے باکی ، بہادری،جرات دور اندیشی اور امیدیں کبھی تزلزل کا شکار نہیں ہوئیں۔

نوے سالہ بابا آج بھی آنکھوں میں آزادی کا خواب سجائے ہوئے ہیں اور انہیں یقین کامل بھی ہے کہ ایک نہ ایک دن آزادی کا سورج ضرور طلوع ہوگا۔

بھارت کی جانب سے 5 اگست کو کشمیریت پر وار کرنے کے اقدام کے بعد ہر خاص و عام اس بات کا کھل کر اظہار کررہا ہے کہ کشمیر لینا ہے تو بندوق سے ہی حاصل کیا جاسکتا ہے، تو ایسے میں ہم نوے سالہ بابا کی دور اندیشی کو سلام و خراج تحسین پیش کیے بغیر کیسے رہ سکتے ہیں ۔

چٹان کی طرح ڈٹ کر کھڑے رہنے والے کشمیری رہنما کو جس حقیقت کا ادارک آج سے ٹھیک تیس برس پہلے تھے آج وہ حقیقت سب پر عیاں ہے ۔

بزرگ رہنما کا خواب ہے آزادی ۔۔۔ نہ صرف انہیں بلکہ پوری کشمیری قوم کو یقین کامل ہے کہ کشمیریوں نے جو قربانیاں دیں ان کی بدولت کشمیر آزاد ہوکر ہی رہے گا۔ اس ساتھ بھارت سے کئی اور ریاستیں بھی آزادی حاصل کر لیں گی.

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے