ہفتہ : 05 اکتوبر 2019 کی اہم ترین عالمی خبریں

[pullquote]چھپانے کو کچھ نہیں تو بھارت مقبوضہ کشمیر کیوں نہیں جانے دے رہا؟ امریکی سینیٹر[/pullquote]

بھارت نے امریکی سینیٹرکو مقبوضہ کشمیر دورے کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔امریکی سینیٹر کرس وان ہولین نے بھارتی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ وہ مقبوضہ وادی کا دورہ کرکے وہاں کے زمینی حقائق جاننا چاہتے تھے۔امریکی سینیٹر نے بتایا کہ بھارتی حکومت نے انہیں یہ کہہ کر دورہ کرنے سے منع کردیا کہ مقبوضہ وادی کا دورہ کرنے کا یہ وقت درست نہیں۔انہوں نے کہا کہ جب چھپانے کی کوئی چیز نہیں تو وزیٹرز کو مقبوضہ وادی آنے سے کیوں روکا جارہا ہے؟ بھارتی حکومت ہمیں نہیں دکھانا چاہتی کہ مقبوضہ وادی میں کیا ہورہا ہے۔

[pullquote]عراق میں مظاہروں میں ہونے والی ہلاکتیں ایک سو کے قریب[/pullquote]

عراقی پارلیمنٹ کے انسانی حقوق کمیشن نے ملکی دارالحکومت اور جنوبی حصے میں مظاہروں کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد ترانوے بتائی ہیں۔ کمیشن کے مطابق زخمیوں کی تعداد چار ہزار کے قریب ہے۔ بغداد حکومت نے انٹرنیٹ پر تقریباً پابندی عائد کر رکھی ہے اور اس باعث دارالحکومت کے باہر ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ دوسری جانب عراقی دارالحکومت میں آج ہفتے سے بظاہر دن کا کرفیو ختم کر دیا گیا ہے لیکن اہم شاہراہوں تک رسائی کو محدود رکھا گیا ہے۔

[pullquote]امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان مذاکرات کا آغاز[/pullquote]

امریکی اور شمالی کوریا کے درمیان جوہری مذاکرات آج ہفتے سے سویڈن کے دارالحکومت کے ایک نواحی جزیرے میں شروع ہو گئے ہیں۔ ان مذاکرات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی مندوب اسٹیفن بیگن اپنے ملک کی نمائندگی کر رہے ہیں جب کہ شمالی کوریائی وفد کی قیادت کم میونگ گِل کر کر رہے ہیں۔ فریقین نے توقع کا اظہار کیا ہے کہ بات چیت مثبت رہے گی۔ رواں برس فروری میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریائی لیڈر کے درمیان ہنوئی اجلاس ناکام ہو گیا تھا۔

[pullquote]امریکی وزیر خارجہ یورپی دورے پر[/pullquote]

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اپنے یورپی دورے کی آخری منزل یونان پہنچ گئے ہیں۔ وہ یونان میں وزیراعظم مٹسو ٹاکیس کے ساتھ ساتھ اپنے یونانی ہم منصب سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔ وہ اس دورے کے دوران یونان کے ساتھ نظرثانی شدہ دفاعی ڈیل کو بھی حتمی شکل دے سکتے ہیں۔ پومپیو یونانی دارالحکومت پہنچنے سے قبل اٹلی، مونٹی نیگرو اور شمالی مقدونیہ کے دورے مکمل کر چکے ہیں۔

[pullquote]طالبان کے حملے میں چھ پولیس اہلکاروں کی موت[/pullquote]

افغانستان کے شمال مشرقی صوبے کاپیسا میں طالبان عسکریت پسندوں کے ایک حملے میں چھ پولیس اہلکار مارے گئے ہیں۔ یہ حملہ رات میں کیا گیا تھا۔ کاپیسا کے مقام نجراب میں کیے گئے اس حملے میں تین پولیس افسران زخمی بتائے گئے ہیں۔ نجراب کے قرب و جوار میں طالبان خاصے سرگرم خیال کیے جائے ہیں۔ اُدھر طالبان کے ایک حالیہ حملے میں شمالی صوبے بلخ کی پولیس کے سربراہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے ہیں۔

[pullquote]بھارتی کشمیر میں دستی بم حملہ، کم از کم چار زخمی[/pullquote]

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں دستی بم کے ایک حملے میں چار عام شہری زخمی ہو گئے ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ یہ واقعہ اننت ناگ میں پیش آیا۔ ایک پولیس اہلکار نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا کہ یہ دھماکا ایک سرکاری عمارت کے قریب ہوا اور زخمیوں میں ایک صحافی بھی شامل ہے۔ مقامی پولیس نے اس حملے کی ذمہ داری دہشت گردوں پر عائد کی ہے نئی دہلی کی جانب سے پانچ اگست کو کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد سے وادی میں حالات کشیدہ ہیں۔ موبائل فون، انٹرنیٹ اور مواصلاتی رابطوں پر بدستور پابندی ہے

[pullquote]جرمن وزیر داخلہ کی یونان کو مہاجرین سے متعلق مسائل میں تعاون کی یقین دہانی[/pullquote]

جرمن وزیر داخلہ ہورسٹ زیہوفر نے مہاجرین سے جڑے مسائل میں یونان کو تعاون کا یقین دلایا ہے۔ یونان کے دورے پر گئے ہوئے زیہوفر نے مزید کہا کہ یورپی سرحدوں پر پہنچنے والے مہاجرین کی معقول انداز میں تقسیم ضروری ہے۔ ان کے بقول اگر یونان اور یورپ کی بیرونی سرحدوں کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک کے ساتھ تعاون نہ کیا گیا تو یورپی یونین میں افراتفری پھیلنے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ اس سے قبل یونانی وزیراعظم کیریاکوس مٹسوٹاکس نے مہاجرین سے متعلق متنازعہ پالیسی میں اصلاحات کا مطالبہ کیا۔

[pullquote]ہانگ کانگ میں ٹرین سروس معطل[/pullquote]

ہانگ کانگ میں رات بھر ہونے والے مظاہروں کے بعد ٹرین کا نظام معّطل کر دیا گیا ہے۔ ہانگ کانگ کی چیف ایگزیکیٹو کیری لیم نے عوام کے تحفظ کی خاطر ایک مخصوص قانون کے تحت شہر میں اس نظام کو بند کرنے کی ہدایات دیں ہیں۔ گزشتہ شب ہانگ کانگ کے کاروباری علاقے میں اکھٹے ہزاروں مظاہرین حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے۔ اس دوران متعدد ٹرین اسٹیشنوں پر توڑ پھوڑ کی بھی اطلاعات ہیں۔ ہانگ کانگ میں گزشتہ کئی ماہ سے بیجنگ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے خلاف احتجاج جاری ہے۔

[pullquote]وائٹ ہاؤس یوکرائنی معاملے کی دستاویزات فراہم کرے، امریکی کانگریس[/pullquote]

امریکی کانگریس کے ایوانِ نمائندگان کے ڈیموکریٹک پارٹی کے اراکین نے وائٹ ہاؤس سے کہا ہے کہ یوکرائنی معاملے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جن الزامات کا سامنا ہے، اُن سے متعلق دستاویزات فراہم کی جائیں۔ ایوانِ نمائندگان کی خارجہ امور اور انٹلیجنس کی کمیٹیوں کے سربراہان کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس ابھی تک اس معاملے میں تعاون سے گریز کر رہا ہے اور متعدد درخواستوں کو نظرانداز کیا گیا ہے۔ اس مناسبت سے وائٹ ہاؤس کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اٹھارہ اکتوبر تک متعلقہ دستاویزات فراہم کرے۔ اس دوران امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو جمعہ چار اکتوبر کو خارجہ امور کی کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئے جس نے انہیں طلب کر رکھا تھا۔ وہ غیر ملکی دورے پر بتائے گئے ہیں۔

[pullquote]ایران: جاسوسی کے الزام میں گرفتار آسٹریلین جوڑے کی رہائی[/pullquote]

آسٹریلیا کی وزیر خارجہ ماریزے پائن نے بتایا ہے کہ ایران میں جاسوسی کے الزام میں گرفتار آسٹریلین ٹریول بلاگر جوڑے کو رہا کر دیا گیا ہے۔ یہ جوڑا اب واپس آسٹریلیا پہنچ چکا ہے۔ آسٹریلوی شہر پرتھ کے رہائشی جولی کنگ اور مارک فِرکن کو تین ماہ قبل ایرانی حکومت نے جاسوسی کے الزام کے تحت حراست میں لیا تھا۔ ان پر ڈرون کے ذریعے ایک ممنوعہ فوجی مقام کی تصاویر لینے کا الزام تھا۔ یہ جوڑا آسٹریلیا سے انگلینڈ تک کے اپنے سفر کی یاداشتیں سوشل میڈیا پر شائع کر رہا تھا۔ یہ دونوں پاکستان اور کرغیزستان سے ہوتے ہوئے ایران پہنچےتھے۔ ابھی بھی ایک آسٹریلین ایران میں گرفتار ہے۔

[pullquote]ایرانی ہیکرز کی امریکی صدارتی انتخابی مہم کو نشانہ بنانے کی کوشش[/pullquote]

ایرانی ہیکرز کی جانب سے امریکی صدارتی انتخابی مہم سے منسلک اہداف کو سائبر حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ سافٹ ویئر کمپنی مائیکرو سافٹ نے بتایا کہ گزشتہ تیس دنوں کے دوران ہیکرز نے دو ہزار سات سو سے زائد حملے کیے۔ اس دوران صحافیوں، سرکاری ملازمین اور انتخابی مہم چلانے والی ٹیموں کی ای میل تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔ بتایا گیا ہے کہ ہیکنگ کی اس کوشش کے پیچھے ’فاسفورس‘ نامی ایک گروپ کا ہاتھ ہے۔ تاہم تکنیکی طور پر یہ گروپ نا تجربہ کار تھے۔ امریکا میں نومبر 2020ء میں صدارتی انتخابات ہو رہے ہیں۔

[pullquote]عراق میں پرتشدد مظاہروں میں ہلاکتیں ستر سے بڑھ گئیں[/pullquote]

عراقی دارالحکومت کے وسطی علاقے میں جمعہ چار اکتوبر کو سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے مزید سترہ مظاہرین ہلاک ہو گئے ہیں۔ گزشتہ منگل سے شروع ان مظاہروں میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد اب ستر سے تجاوز کر گئی ہے۔ ان ہلاکتوں کے علاوہ تین ہزار کے قریب زخمی بھی ہیں۔ عراقی دارالحکومت میں آج ہفتے کی صبح بھی مجموعی صورت حال عدم اطمینان بخش بتائی گئی ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ بجلی کی قلت ہے، خوراک کی کمیابی اور بیروزگاری سے عوام فاقوں تک پہنچ گئی ہے۔ اس دوران عراق کی اہم ترین مذہبی شخصیت آیت اللہ علی سیستانی نے مظاہرے ختم کرنے اور اطراف کو صبر و تحمل کی تلقین کی ہے۔

[pullquote]طالبان نے امریکی مندوب سے ملاقات کی تصدیق کر د[/pullquote]

افغان طالبان نے تصدیق کی ہے کہ اُن کے وفد نے پاکستانی دارالحکومت میں امریکی ایلچی زلمے خلیل زاد سے ملاقات کی ہے۔ طالبان کی جانب سے اس موقع پر ہونے والی بات چیت کی تفصیلات بیان نہیں کیں۔ طالبان کے وفد کی قیادت تحریک کے شریک بانی ملا عبدالغنی برادر کر رہے تھے۔یہ ملاقات صدر ٹرمپ کے طالبان سے امن مذاکرات کی معطلی کے اعلان کے بعد اطراف کا پہلا مکالمتی رابطہ تھا۔ نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق افغان طالبان اور زلمے خلیل زاد کے درمیان ملاقات جمعرات تین اکتوبر کو ہوئی تھی۔ افغان طالبان کا وفد بدھ دو اکتوبر کو پاکستان پہنچا تھا۔ ابھی تک اس ملاقات کے حوالے سے امریکی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے