پاکستان میں‌سیکس ایجوکیشن گالی کیوں؟

برطانیہ 2020 میں پرائمری لیول سے بتدریج تعلیمی نصاب میں کئی نئے مگر اہم مضامین شامل کرنے جا رہا ہے ، لیور پول یورنیورسٹی کی رپورٹ کے مطابق
” sex eduction and child rights ”
پر نصاب میں بطور مضامین

relationships education , pregnancy ( Menstrual periods) , mental health , fertility , porn

جسے مضامین شامل ہیں جس کا بنیادی مقصد

delays sexual initiation, reduces sexual activity, and promotes safer sex

ہے ، فطرتی عمل و ضرورت ہونے کے باوجود ہمارے ہاں درسگاہوں میں بطور نصاب اس پر بات کرنا خودكشی کے سوا کچھ نہیں ، اگرچہ عملی طور پر حالات خاصے گھمبیر ہیں –

لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید سیکس ایجوکیشن گالی ہے ، شاید صرف دو مخالف جنسوں میں ایک فطری عمل کا نام ہے ، شاید اس سے ہماری بے ہودہ روایات متاثر ہوں گی ( مذہب اس معاملے میں واضح تعلیمات دیتا لہذا مذھب کو اس سے کوئی خطرہ نہیں ) شاید بے راہ روی کے پھیلاو کا باعث بنے ( بھئی اور کتنی بے راہ روی پھیلے گی ) ، شاید کوئی ان دیکھا گناہ ہے جو کافر مسلمانوں سے سرزد کروانا چاھتے ہیں یا پھر لبرل ازم کی تعلیم جو انہیں اپنے مذھب سے دور لے جائے –

مگر یقین مانیے ایسا کچھ نہیں ، پاکستان میں ” سیکس ایجوکیشن ” کے حوالے سے ایک بہترین کتاب لکھی گئی تھی وہ ڈاکٹر مبین اختر کی تھی ، جسے نہ صرف اشاعت کے لیے مشکلات کا شکار ہونا پڑا بلکہ اس کے بیچنے کے لیے بھی کوئی دوکاندار تیار نہ تھا –

ڈاکٹر مبین اختر ماہر نفسیات ہیں، انہوں نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ:
” ماہرِ نفسیات کے طور پر میں نے خود ان نتائج کو قریب سے دیکھا ہے اور یہی وجہ ہے کہ میں نے یہ کتاب لکھنے کے بارے میں سوچا – سیکس کو لے کر ہمارے ملک میں ایک بہت بڑا مسئلہ ہے ، نوجوان بچے باالخصوص لڑکے جب بالغ ہوتے ہیں اور ان کے جسم میں جو تبدیلیاں ہوتی ہیں انہیں لگتا ہے وہ کوئی بیماری ہے ، میں نے ایسے معاملات دیکھے ہیں جس میں نوجوانوں کو یہ نہیں معلوم ہوتا ہے کہ ان کے جسم کے ساتھ کیا ہورہا ہے تو وہ بہت مایوس ہوجاتے ہیں اور حد ہے کہ وہ خودکشی بھی کرلیتے ہیں – میں خود عمر کے اس مرحلے سے گزرا ہوں جب آپ کو آپ کی جنسی تبدیلوں کے بارے میں کوئی کچھ نہیں بتاتا – ان غلط فہمیوں کے بارے میں مجھے تب معلوم ہوا جب میں خود میڈیکل کالج تعلیم حاصل کرنے گیا -”

اس کے علاوہ برطانوی پرائمری کے نصاب میں بتدریج شامل ہونے والا اہم ترین مضمون ” Lifesaving First Aid ” ہے –

کسی بھی حادثے کے بعد ایک عام آدمی کا کردار ” فسٹ رسپانڈر ” کا ہوتا ہے ، ممکن ہے زخمیوں کو حادثے کی جگہ سے ہٹانا اور ہسپتال شفٹ کرنا ان سے زیادہ جلدی ریسکیو اہلکار بھی بر وقت نہ پہنچنے کی وجہ سے نہ کر سکتے ہوں مگر اگر ایسے میں یہ عام لوگ ابتدائی طبی امداد کی بنیادی تربیت رکھتے ہوں تو کئی جانیں بچائی جا سکتی ہیں اور زخمیوں کی تکلیف کی شدت میں کمی لائی جا سکتی ہے –

ابتدائی طبی امداد وہ مدد ہوتی ہے جو ہم کسی کو خود کو تکلیف پہنچانے یا کسی حادثے کا شکار ہونے کے بعد فوری طور پر دیتے ہیں جو کسی شخص کی حالت مزید بگڑنے سے روکتی ہے – کچھ معاملات میں بروقت ابتدائی طبی امداد متعلقہ شخص کی جان بھی بچاسکتی ہے مگر ہمارے تعلیمی نظام میں دیگر کسی عملی مشق کی ہی طرح اس کی تربیت کے حصول پر بھی کسی قسم کی توجہ نہیں دی جاتی اور نہ ہی تعلیمی نصاب میں بطور مضمون شامل ہے حتیٰ کہ تعلیمی اداروں میں فسٹ ایڈ کٹ تک میسر نہیں – روز بروز حادثے دیکھتے رہنے کے باوجود عام آدمی مشکل حالات میں بعض اوقات ایک کمپاوڈر کے رحم و کرم پر ہوتا ہے –

انڈیپنڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق زندگی بچانے کے لیے ” ابتدائی طبی امداد ” کو کئی سالوں کی کوشش کے بعد 2020 میں قومی اسکولوں کے نصاب میں بطور لازمی مضمون کے شامل کیا جا رہا ہے –

اس حوالے سے دی جانے والی تربیت میں
CPR training , Basic treatment for common injuries , Support the health and wellbeing of others etc
جیسے موضوعات شامل ہیں –

سرکاری رپورٹس کے مطابق 2020 سے انگلینڈ کے تمام اسکولوں میں صحت کی لازمی تعلیم کے حصول کے طور پر ابتدائی طبی امداد اور سی پی آر کی تربیت کی تعلیم کی تجاویز سے ہزاروں جانیں بچ سکتی ہیں۔

سیکنڈری اسکولز کے طلباء کو سی پی آر دینے کے ساتھ ساتھ یہ بھی سیکھایا جائے گا کہ عام زخموں کا بنیادی علاج کیسے کیا جاتا ہے –

پرائمری اسکول کے بچوں کے لیے ابتدائی طبی امداد کی بنیادی تربیت میں شمولیت کے ساتھ ساتھ انہیں یہ سیکھایا جائے گا کہ دوسروں کی صحت اور تندرستی کے تحفظ اور ان کی مدد کے لئے کیا کرنا چاہیئے –

برطانوی ریڈ کراس کے چیف ایگزیکٹو مائیک ایڈمسن نے کہا ہے ” اب آنے والی نسلوں کو آسان ابتدائی طبی امداد کی مہارت حاصل ہوگی ، جو کسی بھی ہنگامی صورت حال میں زندگی اور موت کے درمیان واضح فرق کرے گی ۔

حکومت کا یہ فیصلہ اپنی قوم کے نوجوانوں کو ان کی اپنی صحت کو سمجھنے ، ان میں اعتماد بحال کرنے ، انہیں با اختیار بنانے اور ایک مضبوط معاشرے کی تعمیر کے لئے اہم قدم ہے ، جو نوجوانوں کو سیکھائے گا کہ کسی بحران سے کیسے نمٹا جاتا ہے ” –

آخر میں چند سوالات قارئین کے سامنے رکھتا ہوں:

* ہمارے ہاں ایک طرف اب مدرسہ ری ریفارمز کی بات ہو رہی ہے ( اگرچہ حکومت وقت اس سے بھی سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش میں ہے ) ایسے میں رسمی تعلیم کے نصاب میں ایسے جدید ، ضروری مگر غیر مقبول مضامین کو شامل ہونا چاہیے ؟

* کیا ہمارے ہاں بھی سیکس کو بطور مضمون طہارت و پاگیزگی کے حصول ، حلال و حرام میں فرق ، جرم و گناہ اور سزا و جزا کے تناظر میں ڈسکس ہونا چاہیے ؟؟

* کیا ہمارا رسمی تعلیمی نظام کسی بھی نئے مضمون کو قبول کرنے کی اہلیت رکھتا ہے ؟

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے