نواز شریف کو کیوں نکالا ؟

سابق حکومت کے اسٹیبلشمنٹ سے اختلافات کی بہت ساری وجوہات میں ایک وجہ سی پیک کے اربوں ڈالر کے منصوبوں میں اسٹیبلشمنٹ کے حصہ کا معاملہ بھی تھا ،سابق وزیراعظم میاں نواز شریف چینی حکومت کی خواہش پر سی پیک اتھارٹی کے قیام کے خواہشمند تھے لیکن اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت اور اسمبلی میں تحریک انصاف کے عدم تعاون کی وجہ سے یہ اتھارٹی نہیں بن پائی ۔ آب وزیراعظم کے دورہ چین سے قبل سی پیک اتھارٹی کے قیام کا ارڈنینس جاری کیا گیا ہے اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل باجوہ ہراول دستہ کے طور پر ایک روز پہلے چین روانہ ہوئے تو سی پیک اتھارٹی کا آرڈنینس انکی جیب میں تھا ۔

سابق حکومت سی پیک اتھارٹی قانون سازی کے زریعے قائم کرنا چاہتی تھی جبکہ موجودہ حکومت نے آرڈنینس کے زریعے قائم کی ہے ۔ معاملہ سی پیک اتھارٹی کے قیام کا نہیں ملکی مفاد کا ہے ۔ آج جس ملکی مفاد کا خیال آیا ہے کل کیوں نہیں تھا ۔ چینی حکومت کی خواہش کا جو احترام آج کیا گیا ہے کل کیوں نہیں کیا گیا تھا ۔ ان سوالات سمیت بہت سارے تشنہ سوالات ہیں جن کےجوابات تاریخ دے گی ۔ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو پناما کے نام پر کیوں فارغ کیا گیا اور اس کی وجوہات کی تھیں اس کا تجزیہ بھی نہیں کیا جا سکتا ۔

یہ سوچا جا سکتا ہے چین کو کارنر کرنے کی امریکی اور بھارتی خواہش اس کی بنیادی وجہ تھی اور پاکستان کے کچھ طاقتور حاضر سروس اور ریٹائرڈ لوگ شراکت دار بنے ، جس طرح ان دنوں ہانگ کانگ میں چینیوں کو زچ کیا جا رہا ہے اسی طرح پاکستان میں سی پیک کو روک لگا کر اور جنگی رفتار سے سی پیک پر کام کرانے والے وزیراعظم کو کرپشن کے نام پر عدلیہ کی مدد سے فارغ کرا کر سی پیک پر کام کی رفتارکو سست کیا گیا اور چینتخب کو وزیراعظم بنوا کر ملکی معیشت کو تباہ کرایا گیا جس کے منطقی نتایج سی پیک کی سرمایہ کاری پر مرتب ہوئے ۔

ایک دوسری رائے یہ ہے کہ سابق وزیراعظم کو اس لئے فارغ کرا گیا کہ ملکی معیشت جس طرح مستحکم ہو رہی تھی اور جمہوریت کے ثمرات عام لوگوں کی زندگیاں تبدیل کر رہے تھے اسٹیبلشمنٹ کی ہمیشہ کیلئے چھٹی ہو جاتی جو سالوں سے خارجہ اور داخلہ پالیسوں کی ملکیت کی مالک اسٹیبلشمنٹ کیلئے قابل قبول نہیں تھا اس لئے جمہوریت کو مستحکم ہونے سے پہلے ہی کچل دیا گیا اور میثاق جمہوریت کے زریعے اسٹیبلشمنٹ کو ہمیشہ کیلئے بیرکس میں بھیجنے کی خواہش رکھنے والی دونوں بڑی جماعتوں کی مرکزی لیڈر شپ کو چور اور ڈاکو مشہور کر دیا اور کمزور ترین شخص کو وزیراعظم بنوا کر خارجہ اور داخلہ پالیسوں کی ملکیت پر منڈلاتے خطرات ٹال دئے ۔

تیسری رائے سابق فوجی جنرل مشرف کے ٹرائل کا معاملہ ہے ۔ کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ سابق فوجی سربراہ پر ارٹیکل سکس کے تحت مقدمہ کا اندراج اور ٹرائل شروع کرنا اسٹیبلشمنٹ کیلئے قابل قبول نہیں تھا ۔ اگر ایک فوجی سربراہ کا ٹرائل ہو جاتا تو ایک راستہ کھل جاتا اور ہر فوجی سربراہ کو مستقبل میں اپنے اقدامات کا جواب دینا پڑ سکتا تھا اس لئے پہلی رات ہی بلی مار دی گئی یعنی پہلے مقدمہ پر ہی حکومت کو فارغ کر دیا گیا ۔

دشمن قوتوں کو ووٹ کی طاقت سے شکست تو دے دی گئی لیکن اس کی بھاری قیمت ادا کی گئی ہے اور تاحال یہ قیمت ادا کی جا رہی ہے ۔ کل جس چین کے خلاف پالتو میڈیا اور چماٹ اینکرز کے زریعے عوامی رائے عامہ ہموار کی جا رہی تھی چینی نوجوان پاکستانی لڑکیوں سے شادی کر کے چین لے جاتے ہیں اور انکے اعضا نکال نکال کر فروخت کر دئے جاتے ہیں ۔ آج اسی چین کے دورہ سے پہلے سی پیک اتھارٹی کے قیام کا آرڈنینس جاری کیا جاتا ہے اور سی پیک صنعتی یونٹوں کیلئے ٹیکسوں میں ریلیف کے اقدامات کئے جاتے ہیں ۔

سوال پھر وہی ہے ملکی مفاد کہاں پر ہے ۔ جب نجی چینلز پر مریم نواز کی تقاریر کی اجازت نہیں ہے تو ان نجی چینلز پر چین کے خلاف عوامی رائے عامہ کیوں ہموار کی جا رہی تھی اور انہیں شٹ اپ کال کیوں نہیں دی جا رہی تھی ، اور اب اچانک چین کے خلاف پراپیگنڈہ کرنے والے سوشل میڈیا اکاونٹ بھی کیوں خاموش ہو گئے ہیں ۔

چین کی طرف واپسی بہت خوش ائند ہے اور یہی ملکی مفاد بھی ہے ۔امریکیوں پر بھروسہ کر کے دیکھ لیا ؟ مقبوضہ کشمیر ہاتھ سے نکل گیا اور یہ ہاتھ سے نکلنا مستقبل میں بڑی فوج اور ایٹمی اثاثوں کے جواز کا سوال بھی بنے گا ۔ یہ سوال اس طرح بنے گا مسلہ کشمیر تو موجود نہیں تو اب ایٹمی اثاثوں اور بڑی فوج کا کیا جواز ہے ۔ کمزور ہوتی معیشت ایٹمی اثاثوں کی حفاظت کا سوال بھی کھڑا کرے گی ۔

سی پیک پر چینیوں نے دوبارہ سے سرمایہ کاری شروع کر دی تو بڑی صنعتیں دوبارہ سے چلنا شروع ہو جائیں گی ، لیکن معاشی استحکام اس وقت آئے گا جب ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو گا ۔ جب مولانا فضل الرحمن آزادی مارچ کا اعلان کر رہے ہوں اور تمام اپوزیشن جماعتیں آزادی مارچ کی حمایت کر رہی ہوں تو سی پیک اتھارٹی کے قیام سے چینیوں کو خوش تو کیا جا سکتا ہے ملکی معیشت مستحکم نہیں ہو سکتی ۔ اگر آئی ایم ایف کی تیس کروڑ ڈالر کی قسط اور چھ ارب ڈالر کے بیل اوٹ پیکیج کیلئے ملکی معیشت عالمی مالیاتی اداروں کے حوالہ کی جا سکتی ہے تو چینیوں کے 28 ارب ڈالر کیلئے بھی بہت کچھ کیا جا سکتا ہے ۔

صرف سی پیک اتھارٹی کے قیام سے کام نہیں چلے گا ۔چینیوں کو دھوکہ نہیں دیا جا سکتا ۔ مزید اقدامات کی ضرورت ہے اور یہ ضرورت ملکی مفاد بھی ہے ۔ نا اہل حکومت کو فارغ کریں ۔ غیر جانبدار اور شفاف الیکشن سے سچ مچ کی نمائندہ حکومت اقتدار میں آئے تمام سیاسی قوتیں اس حکومت کی حمایت کریں ۔ فوج ،عدلیہ اور پالتو میڈیا کسی ایجنڈہ پر چلنے کی بجائے آئین اور قانون کے دائرہ کے تحت کام کریں تو وقت کا پہیہ دوبارہ سے گھوم سکتا ہے اور ملکی معیشت دوبارہ سے تیک اف کی پوزیشن میں آ سکتی ہے ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے