سابق وزیراعظم نوازشریف کو معمولی ہارٹ اٹیک

لاہور: میڈیکل رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کو معمولی ہارٹ اٹیک ہوا ہے۔

سابق وزیراعظم نوازشریف سروسز اسپتال میں زیر علاج ہیں جہاں کو معمولی ہارٹ اٹیک ہوا ہے۔

نوازشریف کی میڈیکل رپورٹ کے مطابق ان کا ٹراپ آئی اور ٹراپ ٹی ٹیسٹ پازیٹو آیا ہے، ٹراپ آئی اور ٹراپ ٹی ٹیسٹ پازیٹو آنے کا مطلب نواز شریف کو معمولی ہارٹ اٹیک ہوا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ نواز شریف کی ایکوکارڈیوگرافی اور ای سی جی کی رپورٹ نارمل ہے۔

اسپتال ذرائع کا کہنا ہےکہ پلیٹلیٹس کم ہونے کے باعث نوازشریف کی خون پتلا کرنے کی دوائی بند کی گئی تھی تاہم اس دوا کو دوبارہ شروع کرادیا گیا ہے۔

اسپتال ذرائع کے مطابق نوازشریف کی شوگر ہائی اور بلڈ پریشر بھی بڑا ہواہے جب کہ معمولی ہارٹ اٹیک کی وجہ سے پی آئی سی کے ڈاکٹرزکو بھی سروسز اسپتال طلب کرلیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق نوازشریف کو گزشتہ روز انجائنا کا مسلسل شدید درد ہوا، دل کی یہ تکلیف طبی اصطلاح میں ‘این اسٹیمی’ کہلاتی ہے جس کے لیے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے سربراہ کو ایمرجنسی میں بلایا گیا ہے، طبی جانچ کے نتیجے میں نواز شریف کے دل میں اینزائمز (پروٹین مالیکیولز) کی تعداد زیادہ پائی گئی۔

ذرائع کے مطابق معالجین سابق وزیراعظم کے دل کی موجودہ تکلیف کی وجوہات جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ وہ دل کے عارضے میں پہلے سے مبتلا ہیں اور ان کے دو آپریشن ہو چکے ہیں۔

نوازشریف کی پلیٹیلیٹس میں بہتری

دوسری جانب میاں نوازشریف کے پلیٹیلیٹس کی تعداد میں بہتری آئی ہے جس کے بعد ان کا پلیٹیلیٹس کاؤنٹ 30 ہزار ہوگیا ہے۔

خیال رہے کہ اسپتال منتقلی سے قبل سابق وزیراعظم کے خون کے نمونوں میں پلیٹیلیٹس کی تعداد 16 ہزار رہ گئی تھی جو اسپتال منتقلی تک 12 ہزار اور پھر خطرناک حد تک گرکر 2 ہزار تک رہ گئی تھی۔

ذرائع کے مطابق میاں نواز شریف کے پلیٹیلیٹس میں اضافہ ہونا شروع ہو گیا ہے اور انجائنا کی تکلیف کے حوالے سے بھی امراض دل کی ادویات شروع کر دی گئی ہیں۔

علاوہ ازیں وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پرشوکت خانم اسپتال کے سی ای او ڈاکٹرفیصل سلطان کوسروسز اسپتال بھجوادیا گیا تاکہ وہ وزیراعظم کو میاں صاحب کی صحت سے متعلق لمحہ بہ لمحہ آگاہ رکھیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے