استعفیٰ کی بات نہیں کرنی تو رابطے کی ضرورت ہی نہیں: اکرم درانی

اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے کنوینر اکرم خان درانی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ اگر حکومتی کمیٹی نے وزیراعظم کے استعفیٰ کی بات نہیں کرنی تو رابطے کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔

اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے اجلاس کے بعد ارکان نے پریس کانفرنس کی۔ پریس کانفرنس سے خطاب میں کنوینر اکرم درانی کا کہنا تھا کہ گزشتہ رات اے پی سی فیصلہ ہوا تھا کہ رہبرکمیٹی مستقبل سے متعلق فیصلہ کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے اتفاق اور اعادہ کیا کہ آزادی مارچ کے مقاصد، وزیراعظم کا استعفیٰ، فوج کی نگرانی کے بغیر نئے انتخابات، آئین کی مکمل پاسداری کو آگے بڑھایا جائے گا، اس مقصد کو آگے بڑھانے کیلئے مختلف تجاویز زیر غور ہیں، تمام جماعتیں اپنی قیادت سے ان تجاویز پر متفقہ طریقہ کار طے کریں گی۔

کنوینر رہبر کمیٹی کا کہنا تھا کہ حکومت نے رابطے کی تجاویز دی ہے اور ہم رابطہ رکھنے سے خائف نہیں لیکن وزیراعظم کی گزشتہ روز کی تقریر اور حکومتی کمیٹی کے سربراہ کا مؤقف کہ استعفیٰ پر بات نہیں ہوگی، ان دونوں کا لب و لہجہ مناسب نہیں اور یہ دونوں لب و لہجے کو درست کرلیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر وزیراعظم کے استعفیٰ کی بات نہیں کرنی اور ہم اُن سے استعفیٰ مانگ رہے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ اِس پر بات نہ کریں تو پھر رابطے کی ضرورت ہی نہیں ہے کیوں کہ وزیراعظم کا استعفیٰ ہمارا نمبر ون مطالبہ ہے۔

خیال رہے کہ حکومتی کمیٹی کے سربراہ و وزیردفاع نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے استعفیٰ پر کوئی بات نہیں کی جائے گی جبکہ وزیراعظم نے بھی استعفے کے مطالبے کو احمقانہ قرار دیا ہے۔

اکرم درانی نے مزید کہا کہ تمام غیر جمہوری قوتوں کو خبردار کرتے ہیں کہ اگر موجودہ صورتحال سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کی گئی اور ماورائے آئین کوئی قدم اٹھایا تو تمام جماعتیں مل کر بھرپور مزاحمت کریں گے۔

ایک سوال کے جواب میں کہا کہ رہبر کمیٹی میں تجاویز میں پارلیمنٹ سے اجتماعی استعفے، شٹر ڈاؤن ہڑتال، ہائی ویز اور پورے ملک کو بلاک کرنا شامل ہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ ہم نے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد سے ایک معاہدہ کیا ہے اس پر برقرار ہیں لیکن حکومت فرار ہورہی ہے، ہمارے مارچ میں نہ ایک پتھر پھینکا گیا نہ کوئی ایک شاخ توڑی گئی، حکومت نے قافلوں کا راستہ بند کیا اور قافلوں کو گاڑیاں نہیں ملیں۔

گزشتہ حکومت سے موازنے پر اکرم درانی کا کہنا تھا کہ اِس وقت کی حکومت اور پچھلی حکومت میں بہت فرق ہے، نوازشریف کی حکومت میں لوگوں کو روزگار مل رہا تھا لیکن اس حکومت میں کوئی مطمئن نہیں ہے، ہم نے تو تاجروں کو نہیں کہا کہ باہرنکلیں، ہم تو اس لیے نکلے ہیں کہ عوام مجبور ہیں۔

اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کے جنرل سیکریٹری احسن اقبال کا کہنا تھا کہ حکومت ملک کی معیشت کے لیے خطرناک بنتی جارہی ہے، میں حیران ہوں وزیراعظم نےکرتارپور باڈرپر پاسپورٹ کی شرط کیسے ختم کردی؟ یہ کیسے ہو سکتا ہےکہ ملک میں کوئی بغیر پاسپورٹ کے آئے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت بڑے بڑے بلنڈرز کر رہی ہے لہٰذا فوری مستعفی ہوجائے۔

عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے رہنما میاں افتخار کا کہنا تھا کہ حکومت کو کرتار پورکا خیال ہے تو افغانستان کے بارڈر کا بھی خیال کیاجائے۔

انہوں نے کہا کہ وزراء نے ہمارے قائدین کے خلاف جو زبان استعمال کی وہ قابل افسوس ہے، ہمارے والدین تک بات نہ پہنچے، ہم نےقربانیاں دی ہیں، ہمارے اکابرین کی جوعزت نہیں کرے گا وہ ہم سے بھی وہی توقع رکھے۔

خیال رہے کہ مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں آزادی مارچ 27 اکتوبر کو کراچی سے شروع ہوا تھا جو سکھر، ملتان، لاہور اور گجرانوالہ سے ہوتا ہوا 31 اکتوبر کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہنچا۔

مارچ کے شرکاء نے پشاور موڑ پر ایچ 9 گراؤنڈ میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں اور یکم نومبر کو آزادی مارچ سے خطاب میں مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم عمران خان کو استعفیٰ کے لیے اتوار تک کی مہلت دی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے