بہت پرانی بات ہے۔میں لطیف آباد نمبر 7 حیدرآباد کی ایک گلی سے گزر رہا تھا کہ میں نے ایک بنگلہ پر ایک تحریر لکھی ہوئی دیکھی۔لکھا تھا نئے لکھنے والے اپنی تحریر ماہنامہ سماجی لوگ کے دفتر میں پنچائیے۔
میں دوسرے دن ماہنامہ سماجی لوگ کے دفتر پر پہنچا۔ ایڈیٹر اکبر عزیز خان صاحب سے ملاقات ہوئی وہ لمبے مگر دبلے پتلے آدمی تھے۔الائیڈ بنک سے ریٹائر ہوچکے تھے۔ میگزین نکالنے کےبہت شوقین تھے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ سماجی لوگ سے پہلے وہ فنکار لوگ بھی شائع کرتے تھے۔ جو فلمی حلقوں میں بہت مشہور تھا جو بعد میں بند ہوگیا۔خیر اکبر عزیز خان صاحب نے مجھے ویلکم کیا بلکہ ادب میں میری دلچسپی اور کاوشیں دیکھ کر مجھے ادبی صفحے کا انچارج بھی بنا دیا۔ مجھے بہت خوشی ہوئ۔ ایک آرٹسٹ کے لیے تو سب سے زیادہ خوشی کی بات یہی ہوتی ہے کہ اس کا کام لوگوں کے سامنے آئے اور اس کی پزیرائی ہو۔
کچھ دنوں کے بعد حیدرآباد میں عالمی مشاعرہ منعقد ہوا۔اکبر صاحب نے مجھ سے کہا کہ آپ مشاعرے والے دن سرکٹ ہاؤس پہنچ جائیے گا۔ ایسا ہی ہوا اکبر صاحب کے ساتھی سماجی لوگ میگزین کراچی کے بیورو چیف سلام صاحب کراچی سے ملکی اور غیر ملکی شعراء کے ساتھ بس میں سرکٹ ہاؤس پہنچ گئے اور ایک بڑے ہال میں جمع ہوگئے ۔ میں بھی وہاں پہنچ گیا اور اکبر صاحب سے ملاقات کی۔ اکبر صاحب اپنے میگزین کے پرانے شمارے مشہور و معروف شعراء کو گفٹ کرنے لگے۔
میں فوٹو کھینچتا رہا۔ اس دوران میں نے پہلی مرتبہ تابش دہلوی صاحب کو دیکھا اور ان سے آٹو گراف لیا۔ یہی نہیں میں نے اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ بڑے اور مشہور شعراء کو اپن آنکھوں کے سامنے دیکھا اور ان سے بات چیت کی۔جن شعراء کو کبھی کتابوں کے ٹائٹل اور ٹی وی پر دیکھا تھا۔ان سے ہاتھ ملا کر بڑی خوشی محسوس ہوئی۔ ہال میں علی زریون سے بھی ملاقات ہوئی۔ اس وقت وہ مقبول نہیں تھے ۔میں نے سماجی لوگ کے لیے پہلا انٹرویو علی زریون ہی کا کیا تھا۔جو کہیں گم ہوگیا اور شائع نہیں ہوسکا۔
وصی شاہ سے بھی میری ملاقات ہوئی اور بہت اچھا لگا۔ پھر کھانے کے دوران میں نے بڑے بڑے شعراء کے ساتھ کھانا کھایا یہ بھی ہے اعزاز کی بات تھی۔اس وقت تو مجھے یہ سب خواب ہی لگ رہا تھا۔ میں نیا نیا میگزین کے ادبی صفحے کا انچارج بنا تھا۔کھانا بھی وی آئی پی لوگوں کے لیے خاص تیار کیا گیا تھا اب مزیدرا بات یہ ہوئی کہ جیسے ہی میں نے چکن بروسٹ لینا چاہا معلوم ہوا اطہر شاہ خان جیدی بھی بروسٹ لے رہے ہیں۔ میں قورمہ لینے کے لیے آگے بڑھا تو محترم امجد اسلام امجد بھی قورمہ نکال رہے تھے کہنے کا مقصد ہے کہ عام محفلوں میں اندازہ نہیں ہوتا کہ آپ کے پاس کون کھڑا ہے لیکن جب آپ کے برابر اتنے بڑےبڑے ادبی ستارے کھڑے ہوں اور آپ ان سے محبت بھی کرتے ہوں تو آدمی اپنی قسمت پر ناز کرنے لگتا ہے اور اس کا سہرا اکبر عزیز خان صاحب کو ہی جاتا ہے ۔جنھوں نے مجھے اتنے خاص اور اہم لوگوں کی اس تقریب میں اپنے ساتھ ساتھ رکھا۔
اکبر صاحب کے ساتھ اعزازی کام کا سلسلہ چلتا رہا۔ میں وہاں شوقیہ لکھتا تھا۔ ان کا دفتر ان کے گھر پر ہی تھا۔ ان کے میگزین سماجی لوگ پر ماہانا لکھا ہوتا تھا مگر یہ میگزین تین سے چار ماہ میں شائع ہوتا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ جب میگزین کو اشتہارات نہیں ملتے تھے یا پیسوں کا کوئی جگاڑ نہیں ہوپاتا تھا یا پھر پرانے میگزین کی زیادہ کاپیاں نہیں بکتیں تھیں تو میگزین دیر سے ہی شائع ہوتا۔
میرے اندازے کے مطابق اکبر صاحب میگزین کے لیے خود ایک پائی بھی اپنی طرف سے نہیں لگاتے تھے۔ ان کے کچھ نمائندے وغیرہ رسالے کو بکوادیتے تھے یا جیسا کہ میں نے ذکر کیا کہ اشتہارات اور جگاڑ سے میگزین کا خرچہ نکل ہی جاتا تھا اورظاہر ہے اکبر صاحب میگزین کی وجہ سے ہونے والے تعلقات سے بھی فائدہ اٹھانا جانتے تھے۔ میگزین کے سلسلے میں اکبر صاحب کے ہاں اکثر جانا ہوتا۔ میں ادبی صفحہ کا انچارج تھا۔ اس کے علاوہ فلمی مضامین بھی لکھ لیتا تھا۔ بچوں کا سلسلے وار ناول "اڑنے والا قالین” بھی شروع کیا۔ ایک ناول کی ابتدا بھی کی مگر اکبر صاحب اشتہارات لانے کو کہتے اور پاکستان میں کسی سے ایک روپیہ نکلوانا ایسا ہی ہے جیسے شیر کے منہ سے نوالا چھیننا۔ میں اس معاملے میں صفر تھا۔ لکھنا تو مجھے آتا تھا مگر اشتہار والے معاملے میں میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ ایسا نہیں ہے کہ میں نے کوشش نہیں کی مگر زیادہ کامیابی نہیں ملی۔
کیا خوبصورت شعر ہے کہ
بہت نذدیک آتے جارہے ہو
بچھڑنے کا ارادہ کرلیا کیا
اکبر صاحب سے دوریاں بڑھنے لگیں۔وہ ضدی بہت تھے۔ کسی کی سنتے نہیں تھے۔ ہاں مگر شریف اور کھرے آدمی تھے اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ اکبر صاحب سماجی لوگ ایوارڈ کی تقریب منعقد کرنا چاہتے تھے۔ وہ مجھے اپنے ساتھ ایک سیاست دان کے بنگلے پر لے گئے۔ وہ سیاستدان اکبر صاحب سے اچھی طرح ملا۔ میں بھی ساتھ تھا۔ اکبر صاحب لوگوں سے بات کرنا اور کام نکلوانا جانتے تھے۔ گپ شپ کرنے کے بعد اس سیاسی شخصیت سے کہنے لگے کہ "جناب آپ سے گزارش ہے کہ کراچی سے جو مہمان آئیں گے ایوارڈ تقریب کے بعد ان کو کھانا کھلوانے کا انتظام اگر آپکے گھر ہوجاتا تو”۔
اس سیاست دان نے فورا” کہا کہ ہاں کیوں نہیں اور ہم خوشی خوشی وہاں سے چل دیے۔ میں نے اکبر صاحب کو اپنی بائیک پر بٹھا کر ان کے گھر پر ڈراپ کیا۔ ماہنامہ سماجی لوگ ایوارڈ تقریب کا اہتمام حیدرآباد کے مشہور پاگل خانے میں کیا گیا تھا۔ میں نے اکبر صاحب سے کہا بھی کہ ” سر کہیں اور تقریب رکھ لیں پاگل خانے میں عجیب سا لگے گا” اکبر صاحب کہنے لگے کہ پاگل خانے کے ایم ایس میرے جاننے والے ہیں ان سے بات ہوچکی ہے اور وہاں کے آڈوٹوریم میں اچھی تقریب ہو جائے گی کوئی خرچہ بھی نہیں ہوگا۔ میں نے کہا لیکن سر۔
وہ کہنے لگے لیکن ویکن کچھ نہیں میں نے کئی سال پہلے بھی اسی پاگل خانے میں ایوارڈ تقریب رکھی تھی اور پی ٹی وی کے ڈرامے آنچ کی کاسٹ جس میں شفیع شاہ, فضیلہ قیصر وغیرہ سب کو اسی پاگل خانے میں بلایا تھا۔
میں سوچنے لگا کہ ان کا تو مجھے معلوم ہوگیا ہے۔ مگر ڈرامے آنچ کی کاسٹ کو اس پاگل خانے میں آنے کی آخر کیا ضرورت تھی۔
آخر کار سماجی لوگ ایوارڈ تقریب کا دن بھی آ ہی گیا۔میں ظاہر ہے انتظامیہ میں تھا۔ میں نے دوستوں کو بھی دعوت دی تھی وہ بھی پاگل خانے کا سن کر میرا مذاق اڑا رہے تھے بعد میں انھوں نے یہ شکایت بھی کی کہ آڈیٹوریم سے پہلے کچھ پاگلوں نے اصرار کیا کہ ہم پاگل نہیں ہیں ہمیں بھی تقریب میں بلالو۔
خیر میں تقریب میں وقت سے پہلے پہنچ گیا۔ میں ہال میں موجود آنے والے شرکاء کے نام اور فون نمبر لکھنے لگا جیسا کہ مجھ سے کہا گیا تھا۔ اس دوران ایک بڑی زبردست شخصیت اپنی بیٹی کے ساتھ کراچی سے تشریف لائ اور ایک کرسی پر بیٹھ گئی۔ میں نے ان کا نام پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ” میں تاج ملتانی ہوں” میں نے کہا کہ میں ریحان حیدرآبادی ہوں میں نے پوچھا کیا آپ وہی ہیں جنہوں نے جنگ کے دوران مشہور ملی نغمہ
جنگ کھیڈنئیں ہوندی زنانیاں دی گایا تھا
کہنے لگے ہاں۔ پھر میرے کان کے قریب آکر کہنے لگے کیا یہی گدو کا مشہور پاگل خانہ ہے۔
میری بےاختیار ہنسی نکل گئی اور میں نے کہا جی ہاں
وہ خوفزدہ ہوگئے۔ میں نے کہا "سر کہیں آپ ہمیں بھی پاگل تونہیں سمجھ رہے۔ میں نے کہا ڈریےنہیں یہ آڈیٹوریم ہے۔ یہاں پاگل نہیں آئیں گے۔
اکبر عزیز خان صاحب کی اور بھی باتیں ہیں جو کبھی کسی کالم میں شئیر کروں گا مگر مجھے تو جب بھی سماجی لوگ ایوارڈ تقریب کا خیال ذہن میں آتا ہے تو تاج ملتانی صاحب کا معصوم چہرہ کے سامنے آجاتا ہے اور پھر انکا وہ جملہ بہت ہی گدگداتا ہے کہ
کیا یہی گدو کا مشہور پاگل خانہ ہے۔