حضرت اقبال نے فرمایا تھا کہ "جمہوریت میں بندوں کو گنا جاتا ہے، تولا نہیں جاتا۔”
اس پر خیال آیا کہ ہمارے ضلع دیامر اور ضلع گلگت کے دو حلقوں میں جمہوریت کا طریقۂ کار شاید ذرا منفرد اور مقامی روایات کے مطابق ہے۔ یہاں جمہوریت کے لیے پہلے بندوں کو گنا جاتا ہے، پھر احتیاطاً بندوقوں کو بھی گنا جاتا ہے تاکہ الیکشن کے بعد بندوقوں کی کمی کا مسئلہ درپیش نہ ہو…..!
عجیب اتفاق ہے نا؟
2015، 2020 اور 2026 کے گلگت بلتستان کے عام انتخابات کے تجزیاتی مطالعے سے کم از کم یہی تاثر ملتا ہے۔ الیکشن کمیشن اور اس کے کارپرداز ووٹ گنتے ہیں، امیدوار ووٹر گنتے ہیں، کارکن حامی گنتے ہیں، اور پھر الیکشن کے بعد یکایک کچھ لوگ نہ جانے کیوں بندوقیں گننے میں خاص دلچسپی رکھتے ہیں یا پہلے سے گنتی کردہ بندوقوں کی پر زور نمائش مع دھرنوں شروع ہوجاتی ہے۔ یعنی "بندوق بردار کمانڈر بننا”.
یوں محسوس ہوتا ہے کہ انتخابی موسم آتے ہی بعض علاقوں میں سیاسی جلسوں کے ساتھ ساتھ اسلحے کی مردم شماری بھی شروع ہو جاتی ہے۔ گویا جمہوریت اور بندوق کا ایسا اشتراک وجود میں آ جاتا ہے جس پر قبر میں مرحوم اقبال بھی شاید مسکرا کر کہتے ہونگے "بھائی! میں نے بندوں کو گننے کا کہا تھا، بندوقوں کو نہیں۔”
ویسے خوش آئند بات یہ ہے کہ وقت کے ساتھ شعور بھی بڑھ رہا ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ آنے والے انتخابات میں صرف ووٹوں کی گنتی ہوگی، بندوں کی عزت ہوگی، اور بندوقیں اپنے اصل مقام یعنی الماریوں، لائسنسوں اور یادوں تک محدود رہیں گی۔
آخر جمہوریت کی خوبصورتی یہی ہے کہ فیصلہ انگلی پر لگنے والی سیاہی کرے، بندوق کی نالی نہیں…….. کیوں؟
احباب کیا کہتے ہیں؟