تری صبح کہہ رھی ھے تری رات کا فسانہ

اگر آپ کی ھتھیلی پر تِل ھے اور آپ ایک بچے کو دیکھتے ھیں اور اس بچے کی ھتھیلی پر بھی اسی جگہ پر ویسا ھی ایک تِل ھے تو اس کا ھر گز یہ مطلب نہیں کہ وہ آپ کا بچہ ھے۔ ایسا صرف وحید مراد اور رانی کی فلم میں ھوا تھا جس کا گانا بڑا مشہور ھے ‘یہ گھر مرا گلشن ھے گلشن کا خدا حافظ’ اور ‘مرے دل کی ھے آواز کہ بچھڑا یار ملے گا.

مجھے تو یہ دلیل بھی کچھ زیادہ پسند نہیں آئی کہ اگر سلاد کھانے سے وزن کم ھوتا ھے تو بھینس اور گائے کیوں موٹی ھوتی ھیں؟ سلاد نہ کھانے کے سو بہانے یعنی ایک ناں اور سو سُکھ۔ یہ تو وہی بات ھوئی کہ اگر آپ کا پراٹھا اور انڈہ ایک ساتھ ختم نہیں ھوتے تو آپ کی زندگی بیلنسڈ نہیں گویا پراٹھے کی گولائی اور سائیز ضرب آپ کی صبح شام کی زندگی برابر ھے انڈہ۔

کون لوگ ھیں جو سارا دن بیٹھ کر یہ سوچتے رھتے ھیں کہ نیلے رنگ کا تو آسمان ھے آسمان سے تو بارش برستی ھے بارش میں تو چھتری استعمال کرتے ھیں استعمال تو ٹشو پیپر بھی ھوتا ھے۔ لیکن استعمال کر کے پھینک دیتے ھی، کسی کو دیکھا ھے آج تک ٹشو پیپر کو استعمال کر کے پھر دھو کر خشک کر کے دوبارہ استعمال کرتے ھوئے؟

بکریاں پھُلائی کا پودہ شوق سے چرتی ھیں لیکن پھُلائی نہیں ھوگی تو کیا اپنی بکری کو چومِن یا شاشلِک کھلانا شروع کر دیں گے ؟ یہی تو ساری بحث ھے جس کا کوئی نتیجہ نہیں نکل رھا۔ گائے جس براعظم میں بھی ھوگی جس ملک میں بھی ھوگی جس موسم میں بھی ھوگی دودھ ھی دے گی بکری کی طرح مینگنیاں ڈال کر نہیں دے گی اور پھُلائی کھانے کے لیئے کبھی منہ بھی نھیں پھُلائے گی۔

شفیق الرحمن نے خونِ جگر کو سینچ کر پیاس اور چہاس کی تھیوری پیش کی تھی لیکن آج تک کسی سائنسی تحقیقی جریدے میں یا ڈیٹا بیس میں اُن کی اس تھیوری کو شامل نہیں کیا گیا۔ حسد جیلسی اور کینہ تو اونٹ میں بھی ھوتے ھیں سائنسدان تو پھر انسان ھوتے ھیں۔

چائے کو یا لسی کو دھار بنا کر کپ یا گلاس میں ڈالیں گے تو سطح پر اس قدر بلبلے کیوں بن جاتے ھیں اور کنویں سے ھزار ڈول پانی نکال لیں پانی کی سطح پھر بھی کیوں برقرار رھے گی۔ اتنی زندگی گزار دیتے ھیں لوگ لیکن یہ باتیں کبھی نھیں سوچتے۔ پھر بچے کہتے ھیں آپ نے ھمارے خاطر کیا ھی کیا ھے۔

کیا زندگی کا ڈسپلن یہی ہے کہ صبح گاڑی سٹارٹ کرنے سے پہلے ریڈیئیٹر کا پانی چیک کریں اور گاڑی چلانے کے دوران بار بار ہیٹ کی سوئی کو دیکھتے رہیں۔ اگر یہ کام کرتے ہوئے بہت ہی تکلیف ہو رہی ہے تو نئی گاڑی کیوں نہیں لے لیتے؟

یہ بھی کوئی ضروری نہیں کہ ہر صَوم و صَلٰوۃ کی پابند خاتون کا شوہر شاعر ہی ہو فرعون بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ بات نہ سمجھنے کی ہے نہ سمجھانے کی ہے۔ ایلان مسک کی ٹیسلا کی مثال آپ کے سامنے ھے۔

میں تو مصروفیت کی وجہ سے ابھی تک یہ بھی پتہ نھیں کر سکا کہ لمبرگینی والوں نے گانے والے سے رائلٹی کلیم کی یا ابھی تک نہیں۔ میں تو اس تھیوری پر بھی یقین نہیں رکھتا کہ اگر پٹرول ختم ہونے کے بعد موٹر سائیکل کو لٹا کر سٹارٹ کریں تو دنیا کی کوئی بھی چیز خراب ہونے پر لٹانے سے ٹھیک ہو جائے گی۔ یہ سب باتیں ہیں اور لوگوں نے پھیلائی ہیں۔

ادب چاہے اردو کا ہو عربی کا فارسی کا یا انگریزی کا سکھانے کی ذمہ داری ماں پر ہی ہوتی ہے بھلے ماں فرانسیسی ہی کیوں نہ ہو۔

اگر یہ طے کر لیں کہ جو آخر میں آئے گا کھانے کا بل وہ دے گا تو سب کی پہنچنے کی ترتیب کیا ہوگی کبھی سوچا ہے آپ نے؟ جتنے بڑے بڑے ادیب شعراء اور دانشور گزرے ہیں ان سب کی زندگی میں ایک ایسا مقام ضرور تھا جہاں ان کے سپیڈ ویلاسٹی اور ویلیو صفر تھی۔ اس کا تعلق نہ ادب سے ہے نہ الجبرے سے۔ بیوی ان سب سے ماورا ہوتی ہے۔ آپ روزانہ ایک کلو مونگ پھلی ایک کلو اخروٹ ایک کلو بادام کھاتے رہیں آپ کی سپیڈ ویلاسٹی اور ویلیو برقرار رہے گی یعنی صفر۔

اگر اپ نے اس تحریر میں سے کوئی ایک بات بھی کام کی نکال لی اور اپنے پلے باندھ لی تو آپ کا شمار یقینا جینیس لوگوں میں ہے۔ آپ کا احساس کمتری بے معنی اور ڈپریشن لا حاصل ہے۔ آپ ڈسپرین کی گولیاں پانی میں گھول گھول کر پیتے رہیں یا پیراسٹیمول یا پیناڈول کھاتے رہیں فائدہ ہر صورت میں بنانے والی کمپنی کا ہی ہے۔

یہ شعر کہتے وقت شاعر کے دل خون کیسے رِس رہا تھا کسی نے غور نہیں کیا
"قصئہ قلبِ ناتواں چچ چچ
دکھ بھری ہے داستا ں چچ چچ”

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے