آپ لوگ پڑوسی ملک ایک معروف استاد اور یوٹیوبر خان سر سے تو واقف ہوں گے۔ اگر نام سے نہیں جانتے ہوں تو شکل دیکھ کر پہچان لیں گے۔ ہو سکتا ہے آپ کا شعبہ کوئی اور ہو مگر یہ تو گارنٹی ہے کہ آپ کے بچے ان سے ضرور واقف ہوں گے۔ خان سر نے ایک کمرے سے بچوں کو پڑھانا شروع کیا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کی محنت, ان کی لگن اور ان کے دلچسپ انداز نے ان کو دنیا بھر میں مشہور کردیا۔
بھارت میں یوپی ایس سی اور آئی پی ایس جیسے امتحان کی فیس لاکھوں میں ہوا کرتی تھی۔ٹیوشن فیس بھارت کے غریب بچوں کی پہنچ سے بہت دور تھی۔ وہی تعلیم خان سر نے بچوں کو چند ہزار میں دینا شروع کردی ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خان سر کو بچوں کا گرو مان لیا گیا۔ وہ بچے جو کچھ بھی نہیں تھے۔ خان سر نے ان کو زمین سے آسمان پر پہنچا دیا۔ آج بھارت کے تقریباً ہر محکمے میں ان کے شاگرد موجود ہیں۔ وقت گزرتا گیا خان سر کی شہرت میں اضافہ ہوتا گیا۔
مگر پھر وہی ہوا جو عموماً ہر کہانی میں ہوتا ہے۔
نزاکت نازنینوں کے بنائے سے نہیں بنتی
خدا جب حسن دیتا ہے نزاکت آہی جاتی ہے
خان سر نے مختلف پوڈ کاسٹ میں پاکستان کے خلاف زہر اگلنا شروع کردیا۔حالانکہ پاکستان میں بھی ان کے لاکھوں چاہنے والے موجود ہیں۔ مگر نجانے کیوں بھارت کے مسلمانوں کو یہ لگتا ہے کہ پاکستان کے خلاف بات کر کے وہ خود کو اچھا بھارتی ثابت کر پائیں گے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہمارے ملک کے بارے میں جس نے بھی برا بھلا کہا وہ برباد ہی ہوا۔ اب وہی لوگ جو خان سر کو عزت دیتے تھے۔ ان کی جان کے دشمن بنے ہوئے ہیں۔ اب خان سر کو ان کے اصل نام فیصل خان کے نام سے اس طرح پکارا جارہا ہےکہ جیسے وہ کوئی دہشت گرد ہوں۔ بھارتی نیتا انھیں دیش دروہی ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں یہ اور کہا جا رہا ہے ان کی جگہ اب بھارت میں نہیں ہے۔
کہانی اس طرح شروع ہوتی ہے کہ انڈین میڈیا کی ایک مشہور اینکر انجنا اوم کشپ نے اپنے چینل پر ان استادوں کو برا بھلا کہا جو یوٹیوب چینل پر پڑھاتے ہیں۔ انجنا کا کہنا تھا کہ یوٹیوب والے اسٹار ٹیچر دو کوڑی کے ہیں۔ ایک بورڈ اور مارکر لے کر بورڈ پر نجانے کیا سمجھاتے رہتے ہیں۔ لائک اور فالوور زیادہ مل جائیں تو ان کا دماغ خراب ہوجاتا ہے۔
اینکر کی اس بات پر خان سر کے بچے آپے سے باہر ہوگئے۔ انھوں نے اس اینکر کو منہ توڑ جواب دیا۔ سوشل میڈیا پر ایک جنگ شروع ہوگئی۔ خان سر کہاں چپ رہنے والے تھے۔ انھوں نے بھی کچھ کہ دیا اور پھر لوگ ان کو بھی ٹرول کرنے لگے۔
پھر اس کہانی میں ٹوئسٹ جب آیا جب پٹنا بہار میں خان سر کے بگل والے کوچنگ سینٹر سے ان کا تناؤ بڑھنے لگا اور ایک روز خان سر کے سینٹر پر گولیاں چلنے لگیں اور ان کا گارڈ بھی زخمی ہوگیا۔ معاملہ شدت اختیار کرگیا۔ دونوں کوچنگ سینٹر کے اسٹوڈنٹ آمنے سامنے آگئے بعد میں یہ افواہ پھیلائی گئی کہ خان سر کے کہنے پر دوسرے سینٹر پر فائرنگ کی گئی تھی اور اب یہ تنازعہ بڑھتا ہی چلا جارہا ہے۔ خان سر جو کبھی بچوں کے بھگوان ہوا کرتے تھے۔ بھارتی میڈیا نے انھیں دہشت گرد بنادیا ہے۔ بھارتی نیتا خان سر کے خلاف زہر اگل رہے ہیں۔ دراصل اچھا کام کرنے والوں کے دشمن بھی بہت ہوتے ہیں۔
اس بات میں بھی صداقت ہے کہ خان سر نے بھارت کے لیے وہ کام کردکھایا جو ان کی سرکار کو کرنا چاہیے تھا۔
سستے کوچنگ سینٹر کے علاوہ سستا اسپتال بھی بنایا جہاں 50 روپے میں بڑے سے بڑا علاج ممکن ہے۔ اب ایسا آدمی جو اچھی تعلیم اور اچھا علاج کم قیمت میں مہیا کرے گا تو ایسے آدمی کون برداشت کرے گا۔؟ مسلمانوں کے خلاف بی جے پی کی پالیسیوں سے تو دنیا واقف ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے شاہ رخ خان اور سلمان خان کو نہیں بخشا۔ فلم ہو یا حقیقت مودی حکومت مسلمانوں کے خلاف کام کر رہی ہے۔ مسلمانوں کے گھر مسمار کیے جارہے ہیں۔ انھیں زدوکوب کیا جارہا ہے۔ مسجدوں کی جگہ مندر بنانے کی باتیں کی جارہی ہیں۔ دوسری طرف خان سر مسلم خاندان سے تعلق رکھتے۔ان کی شہرت میں اضافے سے سیاست دان گھبرائے ہوئے تھے نیٹ کے پیپر لیک ہونے پر بھی خان سر کھل کر بولے تھے یہی وہ بنیادی باتیں ہیں جو بی جے پی کو کھل رہی ہونگی۔جس کا نتیجہ سامنے ہے۔
افسوس اس بات پر بھی ہے کہ کسی استاد کے ساتھ اس طرح کا رویہ غیر مناسب ہے۔استاد چاہے دشمن ملک ہی کا کیوں نہ ہو استاد ہی ہوتا ہے۔ دوسری طرف میں انڈیا کےمسلمانوں سے بھی کہنا چاہتا ہوں کہ پاکستان کو برا بھلا کہ کر آپ کو کچھ نہیں مل سکتا۔ مودی حکومت کسی مسلمان کو بخشنے کو تیار نہیں ہے۔ یہی غلطی خان سر نے کی آپ ایک استاد ہیں آپ کو پڑوسی ملک کے بارے میں بھی غلط بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔
خان سر رہا تو ہوچکے ہیں مگر اب معلوم نہیں خان سر کا مستقبل کیا ہوگا وہ خان سر رہیں گے یا ان کے اندر سے فیصل خان باہر نکل آئے گا جو فلم گینگ آف واسے پور میں نواز الدین صدیقی کی طرح باپ کا بیٹے کا اور دادا کا بدلہ مودی سرکار سے لےگا۔ ہزاروں بچوں کے گرو کے ساتھ مودی حکومت اب کیا کرے گی؟ بہر حال کچھ بھی ہو خان سر سے فیصل خان بننے تک کا سفر تمام ہوا۔ اب دیکھتے ہیں مودی حکومت اگلا نشانہ کس مسلمان کو بناتی ہے۔ یا ممکن ہے خان سر بھی نیتا بن جائیں اور بہار سے الیکشن لڑلیں۔