منگل : 10 مارچ 2020 کی اہم ترین عالمی خبریں

[pullquote]مالٹا نے اٹلی سے تمام سفری رابطے منقطع کر دیے[/pullquote]

مالٹا نے اٹلی کے ساتھ تمام تر سفری رابطے روکنے کا اعلان کیا ہے۔ والیٹا حکومت کی جانب سے یہ اعلان ملک میں کورونا وائرس کے چوتھے مریض کی تصدیق کے بعد کیا گیا۔ وزیراعظم روبرٹ ابیلا نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ مالٹا اور اٹلی کے درمیان تمام پروازیں بند کی جا رہی ہیں، جب کہ مالٹا اور اطالوی جزیرے سِسلی کے درمیان روزانہ کی بنیاد پر چلنے والی کشتی سروس کو بھی فقط سامان اور ادویات کی ترسیل تک محدود بنایا جا رہا ہے۔

[pullquote]چینی صدر شی جن پنگ کا کورونا وائرس سے متاثرہ ووہان شہر کا دورہ[/pullquote]

چینی صدر شی جن پنگ آج منگل کو کورونا وائرس کے ’ایپی سینٹر‘ ووہان شہر پہنچے۔ یہ وائرس سب سے پہلے اسی شہر میں سامنے آیا تھا اور سب سے زیادہ افراد بھی اسی شہر میں اس وائرس کا شکار بنے ہیں۔ شی جن پنگ کے اس دورے کو چین میں اس وائرس کے حوالے سے صورت حال بہتر ہونے کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ ووہان شہر سمیت پورا ہوبے صوبہ جنوری سے مکمل طور پر لاک ڈاؤن ہے اور کہا جا رہا ہے کہ ان سخت اقدامات کی وجہ سے اس وائرس کے پھیلاؤ کے خلاف چین کو خاصی کامیابی ملی ہے۔ چینی صدر نے اپنے اس دورے میں متعدی بیماریوں کے انسداد کے ایک مرکز کا معائنہ بھی کیا۔ میڈیا پر دکھائے گئے مناظر میں شی جن پنگ ماسک پہنچے ہوئے تھے، جب کہ انہوں نے ایک ویڈیو لنک کے ذریعے میڈیکل اسٹاف اور وائرس سے متاثرہ افراد سے خطاب بھی کیا۔

[pullquote]تمام شہری اٹلی سے واپس آجائیں، آسٹریا کی ہدایات[/pullquote]

آسٹریا کی حکومت نے اٹلی میں موجود اپنے تمام شہریوں سے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر وطن واپس پہنچ جائیں۔ اٹلی کی حکومت ممکنہ طور پر ملکی سطح پر لاک ڈاؤن کا ارادہ رکھتی ہے۔ اٹلی یورپ میں کورونا وائرس سے شدید ترین متاثرہ ملک ہے۔ اس وقت اطالوی حکومت نے ملک کے شمالی حصے کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ اسی تناظر میں آسٹریا کی وزارت خارجہ نے ملکی شہریوں سے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر وطن واپس پہنچ جائیں۔

[pullquote]سلامتی کونسل طالبان ڈیل پر ووٹنگ کرے، امریکا[/pullquote]

امریکا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے کہا ہے کہ وہ امریکا اور طالبان کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر ووٹنگ کرے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق اس معاہدے کے ذریعے افغانستان میں قیام امن کی راہ ہموار ہو گی۔ دوسری جانب فروری کی 29 تاریخ کو طے پانے والے اس معاہدے کے بعد افغانستان سے امریکا فوج کا مرحلہ وار انخلا شروع ہو گیا ہے۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے سے مختلف ممالک کے ساتھ تفصیلی گفت گو کے بعد سلامتی کونسل سے اس معاہدے پر ووٹنگ کے لیے کہا گیا ہے۔ سلامتی کونسل میں یہ قرارداد ایک ایسے موقع پر پیش کی جا رہی ہے، جب افغانستان میں گزشتہ روز دو مختلف تقاریب میں اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ نے صدارت کے منصب کا حلف اٹھا لیا۔ عبداللہ عبداللہ نے صدارتی انتخابات میں اشرف غنی کی کامیابی کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے اپنی فتح کا اعلان کیا تھا۔

[pullquote]پوٹن کی مدت صدارت کی حد کا ممکنہ خاتمہ، روسی قانون سازوں کا غور[/pullquote]

روسی قانون سازوں نے منگل کو صدر پوٹن کی مدت صدارت کی حد کے خاتمے کے منصوبے پر غور کیا۔ روسی میڈیا کے مطابق اس طرح پوٹن تاحیات روسی صدر کے بطور ذمہ داریاں انجام دے پائیں گے۔ ان کی موجودہ مدت صدارت چار برس بعد اختتام پزیر ہو رہی ہے۔ 67 سالہ پوٹن روس میں سوویت رہنما جوزف اسٹالن کے بعد سب سے طویل مدت تک ملکی رہنما کے بطور خدمات انجام دینے والے سیاست دان ہیں۔ اس حوالے سے پارلیمان میں پیش کی جانے والی ایک قرارداد منظور کر لی گئی ہے۔ واضح رہے کہ پوٹن سن 2000 سے روس میں یا صدر یا وزیراعظم کے عہدے پر فائز رہے ہیں۔

[pullquote]چینی اپنا سفیر تبدیل کرے، چیک جمہوریہ کا مطالبہ[/pullquote]

چیک جمہوریہ کے وزیراعظم نے کہا ہے کہ چین پراگ میں تعینات اپنے سفیر کو تبدیل کرے۔ چیک وزیراعظم آندرے بابیس کی جانب سے یہ مطالبہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کشیدگی پیدا ہو جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ کشیدگی کی اس لہر کی وجہ چینی سفیر کی جانب سے چیک صدارتی دفتر کو لکھا جانے والا وہ خط تھا، جس میں تنبیہ کی گئی تھی کہ اگر چیک سینیٹ کے اسپیکر یاروسلاف کُبیرا نے تائیوان کا دورہ کیا تو چین چیک تجارتی کمپنیوں کے خلاف کارروائی کرے گا۔ یہ خط دس جنوری کو ارسال کیا گیا تھا تاہم کُبیرا اس مجوزہ دورے سے قبل ہی انتقال کر گئے تھے۔

[pullquote]کورونا وائرس جرمنی میں کساد بازاری کا باعث بن سکتا ہے، جرمن ماہر اقتصادیات[/pullquote]

جرمن ماہر اقتصادیات اور انسٹیٹیوٹ فار اکنامک ریسرچ کے سربراہ کلینز فوئسٹ نے کہا ہے کہ کورونا وائرس جرمنی میں کسادبازاری کا باعث بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وائرس کی وجہ سے عالمی سطح پر معاشی بحران بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ منگل کے روز جرمن نشریاتی ادارے ایس ڈبلیو آر سے بات چیت میں ان کا کہنا تھا کہ جرمن حکومت نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے درست اقدامات کیے، مگر اس سلسلے میں مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔

[pullquote]کوڑے میں نصف کمی، یورپی یونین کا نیا ہدف[/pullquote]

یورپی یونین نے ٹیکسٹال، بیٹریوں اور پیکیجنگ سے متعلق مواد کی ری سائیکلنگ میں اضافہ کر کے سن 2030 تک کوڑے کی مقدار کو نصف بنانے کا ہدف مقرر کر دیا ہے۔ منگل کے روز یورپی یونین کے ’گرین ڈیل‘ منصوبے کے سربراہ فرانز تمرمنزکی جانب سے ان اقدامات کا اعلان کیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ سن 2050 تک یورپی یونین کو دنیا کا پہلا ’کاربن نیوٹرل‘ براعظم بنایا جائے گا۔ اس منصوبے کے ذریعے خصوصاﹰ الیکٹرانک مصنوعات کو مرمت کے ذریعے دوبارہ قابل استعمال بنانے کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ واضح رہے کہ فرانس پچھلے ہی ماہ کوڑے کے انسداد کا ایک قانون منظور کر کے اس شعبے میں یورپ میں سب سے آگے نکل چکا ہے۔

[pullquote]انڈونیشیا نئے دارالحکومت میں اولمپکس کا خواہش مند[/pullquote]

انڈونیشیا کے صدر جوکو ویدودو کی خواہش ہے کہ سن 2032ء کے اولمپکس نئے ملکی دارالحکومت میں منعقد ہوں۔ واضح رہے کہ انڈونیشیا اپنا نیا دارالحکومت تعمیر کر رہا ہے، جو جکارتہ کی جگہ لے گا۔ گزشتہ برس اگست میں انڈونیشیا نے اعلان کیا تھاکہ وہ بورنیو کے جزیرے پر 34 ارب ڈالر کی لاگت سے ایک ’اسمارٹ اینڈ گرین‘ دارالحکومت تعمیر کر رہا ہے۔ نئے دارالحکومت کی تعمیر کی وجہ انتہائی گنجان آباد اور آلودگی کے شکار جکارتہ پر آبادی کا بوجھ کم کرنا ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ انڈونیشیا جکارتہ میں اولمپکس کی میزبانی کے لیے بولی پہلے ہی جمع کر چکا ہے۔

[pullquote]کورونا وائرس کا پھیلاؤ، مالیاتی منڈیوں میں شدید مندی[/pullquote]

کورونا وائرس کے پھیلاؤ اور خصوصاﹰ اٹلی کے ایک بڑے علاقے کو لاک ڈاؤن کر دیے جانے کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں شدید مندی دیکھی جا رہی ہے۔ عالمی سطح پر اس وقت کئی شہر اور لاکھوں افراد ایک طرح سے لاک ڈاؤن کا شکار ہیں، تاہم اس وائرس کا پھیلاؤ بدستور جاری ہے۔ خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ اس وائرس کی وجہ سے کئی اہم معیشتیں مزید متاثر ہو سکتی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ٹوکیو کی اسٹاک مارکیٹ گزشتہ روز پانچ فیصد اور سڈنی اسٹاک ایکسچینچ سات اعشاریہ تین فیصد کی کمی کا شکار ہوئی۔ اس وائرس کی وجہ سے اب تک دنیا کے 99 ممالک میں ایک لاکھ دس ہزار افراد متاثر ہو چکے ہیں۔

[pullquote]افغان حکومت امن مذاکرات کے اگلے مرحلے کی تیاریوں میں[/pullquote]

افغان صدر اشرف غنی نے مجوزہ امن مذاکرات کے اگلے مرحلے کے لیے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ پیر کے روز غنی نے یہ اعلان دوسری مدت صدارت کے لیے حلف برداری کے بعد خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے ایک ٹیم تشکیل دی جا رہی ہے۔ واضح رہے کہ امریکا اور افغان طالبان کے درمیان 29 فروری کو دوحہ میں ایک امن معاہدے پر دستخط ہوئے تھے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے