ہفتہ : 18 اپریل 2020 کی اہم ترین عالمی خبریں

[pullquote]کووڈ انیس مرض سے کم از کم 154000 افراد ہلاک[/pullquote]

امریکا کی جان ہوپکنز یونیورسٹی کے مطابق آج ہفتہ اٹھارہ اپریل کی سہ پہر تک کووِڈ انیس کی وجہ سے دنیا بھر میں ہونے والی ہلاکتیں ایک لاکھ چون ہزار سے تجاوز کر چکی ہیں جب کہ اس مرض سے متاثرہ افراد کی تعداد بھی کم از کم بائیس لاکھ چھپن ہزار آٹھ سو چوالیس بتائی گئی ہے۔ اس عالمی وبا کے نتیجے میں سب سے زیادہ ہلاکتیں امریکا میں ہوئی ہیں، جہاں مجموعی طور پر اکتیس ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہيں۔ گزشتہ برس دسمبر میں چینی شہر ووہان میں سامنے آنے والا نيا کورونا وائرس اب دنیا کے 210 سے زائد ممالک میں پھیل چکا ہے۔ پاکستان میں اب تک قریب ساڑھے سات ہزار افراد میں اس وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے، جب کہ ہلاکتوں کی تعداد ایک سو تینتالیس ہے۔

[pullquote]ایران میں کورونا وائرس سے پانچ ہزار سے زائد اموات[/pullquote]

کورونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث ایران میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید 73 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس طرح ایران میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد پانچ ہزار اکتیس ہو چکی ہے۔ ایرانی وزارت صحت کے ترجمان نے بتایا ہے کہ ایران میں کووڈ انیس بیماری میں مبتلا افراد کی مجموعی تعداد 80868 ہو چکی ہے۔ رواں ہفتے کے آغاز میں جاری کی گئی پارلیمانی رپورٹ میں اس خدشے کا اظہار کیا گیا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد وزارت صحت کے اعدادوشمار سے تقریباﹰ دگنی ہوسکتی ہے اور متاثرہ افراد کی تعداد آٹھ سے دس گنا زیادہ ہے۔ ایران مشرق وسطیٰ میں کووڈ انیس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے اور دنیا بھر میں اس مہلک وائرس سے سب سے زیادہ ہونے والی اموات والے ملکوں کی فہرست میں شامل ہے۔

[pullquote]سنگاپور میں غیر ملکی مزدوروں کی بڑی تعداد کورونا وائرس سے متاثر[/pullquote]

سنگاپور میں کورونا وائرس کی عالمی وبا کے زد میں آنے والے افراد کی تعداد تقریبا چھ ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ اس مہلک وائرس سے اب تک کم از کم دس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ امر اہم ہے کہ ملک میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران کیسز کی تعداد میں دگنا اضافہ ہوا ہے، جس میں ساٹھ فیصد کیسز غیر ملکی مزدور پیشہ افراد میں پائے گئے ہیں۔ سنگاپور میں دو لاکھ سے زائد غیر ملکی مزدور چھوٹے اور تنگ مکانات میں ایک ساتھ رہتے ہیں۔ ان مزدوروں میں سے زیادہ تر کا تعلق بھارت، بنگلہ دیش اور دیگر ایشیائی ممالک سے بتایا جاتا ہے۔ وزیراعظم لی ہسین لونگ نے وائرس کے پھیلاؤ میں تیزی کو روکنے کے لیے ملک میں فوری طور پر ہیلتھ کیئر اور آئسولیشن سینٹر قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ متاثرہ غیر ملکی مزدوروں کو ہنگامی بنیادوں پر آئسولیشن سینٹرز میں منتقل کر دیا جائے گا۔

[pullquote]افریقہ میں کورونا وائرس سے ایک ہزار سے زائد اموات[/pullquote]

براعظم افریقہ میں کووڈ انیس کے مرض سے اب تک دس ہزار سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ 54 افریقی ممالک میں سے 52 ملکوں میں کورونا وائرس کی عالمی وبا سے انیس ہزار آٹھ سو افراد متاثر ہو چکے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق جمعہ سترہ اپریل کو افریقہ میں کووڈ انیس کے کیسز میں 51 فیصد تک اضافہ نوٹ کیا گیا جبکہ گزشتہ ہفتے سے اموات میں 60 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے تنبیہ کی ہے کہ افریقی ممالک میں کورونا کی تشخیص کے لیے استعمال کی جانے والی ٹیسٹ کٹس کی کمی کے باعث کُل کیسز کی تعداد میں مزید اضافے کا امکان ہے۔

[pullquote]اٹلی میں کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے مریضوں کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ[/pullquote]

اٹلی میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں کووڈ انیس کے مرض میں مبتلا دو ہزار پانچ سو تریسٹھ مریض صحت یاب ہو گئے ہیں۔ اسی طرح اس ملک میں نئی قسم کے کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ قومی صحت عامہ کے ادارے کے مطابق کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج کے دوران مہلک وائرس کا نشانہ بننے والے طبی عملے میں سے تقریبا سترہ ہزار افراد دوبارہ تندرست ہو گئے ہیں۔ اٹلی میں کورونا وائرس سے اب تک بائیس ہزار سات سو پینتالیس افراد کی ہلاکت اور ایک لاکھ بہتر ہزار چار سو چونتیس کیسز کی تصدیق کی جا چکی ہے۔

[pullquote]کووڈ انیس کے خلاف ویکسین کے ابتدائی طور پر مثبت نتائج[/pullquote]

امریکا کے حکومتی سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ کووِڈ انیس کے مرض میں مبتلا بندروں پر تجرباتی طور پر آزمائی گئی ایک اینٹی وائرل ویکسین کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ امریکی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے ایک بیان کے مطابق کورونا وائرس سے متاثرہ بندروں پر آزمائی جانے والی ریمڈیزیویئر نامی اینٹی وائرل ویکسین کے ابتدائی طور پر مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ بندروں پر کیے جانے والے اس تجربے میں چھ بندروں کے دو گروپوں میں جان بوجھ کر نئی قسم کے کورونا وائرس کو منتقل کیا گیا۔ بیان کے مطابق پہلے ٹیسٹ کے بارہ گھنٹے بعد ہی بندروں کی علامات میں نمایاں بہتری آئی اور ان کے حالات میں ایک ہفتہ تک بہتری آتی رہی۔ ریمڈیزیویئر اُن پہلی ویکسین میں سے ایک ہے جس کے بارے میں سوچا جاتا ہے کہ وہ نئے کورونا وائرس کے علاج کے قابل ہے۔ انسانی مریضوں پر بھی پہلے ہی کلینیکل ٹیسٹ جاری ہیں۔

[pullquote]کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ، میکسیکو میں قیدیوں کی رہائی کا حکم[/pullquote]

میکسیکو سٹی کی ایک عدالت نے کورونا وائرس کے وبائی مرض کے پھیلاؤ کے خطرے کی وجہ سے پناہ گزینوں کے عارضی مراکز سے معمر اور علیل افراد کو فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ میکسیکو کے متعدد شہروں میں سیاسی پناہ کی درخواستوں پر کارروائی بھی معطل کی جا چکی ہے۔ دریں اثنا‎ء وسطی امریکا کے متعدد ممالک نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ملکی سرحدیں بند کر رکھی ہیں۔ کورونا وائرس کی وجہ سے میکسیکو میں سیاسی پناہ کی درخواستوں کی تعداد میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ میکسیکن ریفیوجی کمیشن کے مطابق اپریل کے پہلے دو ہفتوں میں 548 افراد نے پناہ کی درخواستیں جمع کروائی ہیں۔ گزشتہ ماہ 5300 درخواستیں جمع کروائیں گئی تھیں۔ میکسیکو کے صحت عامہ کے عہدیداروں کے مطابق ملک میں کورونا وائرس کے کل چھ ہزار آٹھ سو پچہتر کیسز اور پانچ سو چھیالیس اموات ہوئیں ہیں۔

[pullquote]ٹرمپ حکومت کا کسانوں کے لیے مالی پیکج کا اعلان[/pullquote]

امریکا نے کورونا وائرس کی عالمگیر وبا کے بحران سے متاثر ہونے والی زراعت کی صنعت کی بحالی کے لیے انیس ارب امریکی ڈالر کے امدادی پیکج کا اعلان کیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اس وبائی مرض کے باعث امریکی کاشت کاروں کو ’غیر معمولی نقصانات‘ برداشت کرنا پڑے ہیں۔ امریکی سیکرٹری زراعت سونی پیرڈو کے مطابق حکومت کاشت کاروں سے دودھ اور فصلیں خرید کر ضرورت مندوں میں تقسیم کرنے کے لیے تین ارب ڈالر استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جب کہ امدادی رقوم مویشی پالنے والے افراد میں براہ راست تقسیم کی جائیں گی۔

[pullquote]بھارت کا مسلمانوں کے ساتھ برتاؤ ’نسل کشی کی طرف جا رہا ہے،‘ ارون دتی رائے[/pullquote]

بھارتی مصنفہ اور سیاسی کارکن ارون دتی رائے نے بھارتی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ کورونا وائرس کی وبائی صورت حال کی آڑ میں اکثریتی ہندوؤں اور اقلیتی مسلمانوں کے مابین کشیدگی کو ہوا دے رہی ہے۔ ارون دتی رائے نے جمعے کے روز ڈی ڈبلیو سے خصوصی انٹرویو میں کہا کہ بھارت کی ہندو قوم پرست حکومت کی حکمت عملی پر دنیا کو نظر رکھنی چاہیے کیونکہ ملک میں مسلمانوں کے لیے صورت حال ’نسل کشی کی طرف بڑھ رہی ہے‘۔ ایک ارب تیس کروڑ کی آبادی والے ملک بھارت میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ملکی سطح پر لاک ڈاؤن کے چھ میں سے تین ہفتے پورے ہو چکے ہیں۔ تاہم ناقدین کے خیال میں کورونا کے خلاف جدوجہد میں مبینیہ طورپر مسلم اقلیتی شہریوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

[pullquote]مہاجرین کے معاملے پر جرمن وزیر داخلہ کی یورپی یکجہتی کے لیے اپیل[/pullquote]

جرمنی نے یونان میں قائم مہاجرین کے تین کیمپوں میں سے تقریباﹰ پچاس بچوں اور نوعمر افراد کو اپنے ملک میں پناہ فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جرمن وزیر داخلہ ہورسٹ زیہوفر نے دیگر یورپی ممالک سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اپنے ملکوں میں یونان کے کیمپوں میں پھنسے ہوئے مہاجرین کو پناہ فراہم کریں۔ جرمن وزیر داخلہ کے مطابق برلن حکومت نے اپنے الفاظ پر قائم رہتے ہوئے یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے۔ کورونا وائرس کی عالمی وبا کے پھیلاؤ کے خطرے کی وجہ سے یونان میں قائم پناہ گزینوں کے کیمپوں میں صورت حال بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے یونان کو یورپی ممالک کی اشد مدد کی ضرورت ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے