گلگت بلتستان انتخابات، نتائج آنے کا سلسلہ جاری

برف باری اور شدید سرم موسم کے باوجود گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے لیے ووٹنگ کا عمل مکمل ہوگیا جس کے بعد ووٹوں کی گنتی کا سلسلہ جاری ہے۔

گلگت بلتستان کی 24 میں سے 23 نشستوں کے لیے ووٹنگ کا عمل صبح 8 بجے شروع ہوا جو شام 5 بجے تک بلاتعطل جاری رہا۔

گلگت بلتستان میں 7لاکھ سے زائد ووٹرز رجسٹرڈ ہیں جب کہ سوا لاکھ سے زیادہ افراد پہلی بار ووٹر بنے تھے۔

تازہ ترین نتائج نیچے ٹیبل میں دیکھے جاسکتے ہیں:

[pullquote]جی بی اے 1 گلگت (1)[/pullquote]

جی بی اے 1گلگت کے 62 میں سے 2 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار امجد حسین 103 ووٹ لیکر آگے ہیں جب کہ پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار 19 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔

[pullquote]جی بی اے 2 گلگت (2)[/pullquote]

جی بی اے 2گلگت کے73 میں سے ایک پولنگ اسٹیشنز کے غیرحتمی اور غیرسرکاری نتیجے کے مطابق پیپلز پارٹی کے جمیل احمد 158 ووٹ لیکر آگے ہیں جب کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے حفیظ الرحمان 122 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔

[pullquote]جی بی اے 4 نگر (1)[/pullquote]

جی بی اے 4 نگر 1کے 42 میں سے 2 پولنگ اسٹیشنز کے غیرحتمی اور غیرسرکاری نتیجے کے مطابق اسلامی تحریک پاکستان کے امیدوار ایوب وزیری 3258 ووٹ لیکر آگے جبکہ پیپلزپارٹی کے امیدوار امجد حسین ایڈووکیٹ 2772 ووٹ لیکر دوسرے نمبر ہیں۔

[pullquote]جی بی اے 5 نگر (2)[/pullquote]

جی بی اے 5 نگر 2کے 26میں سے 8 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق آزاد امیدوار جاوید علی 900 ووٹ لیکر پہلے نمبر پر ہیں جب کہ مجلس وحدم المسلمین کے رضوان علی 578 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔

[pullquote]جی بی اے 6 ہنزہ[/pullquote]

جی بی اے6 ہنزہ کے90 میں سے 35 پولنگ اسٹیشنزکے غیرحتمی اور غیرسرکاری نتیجے کے مطابق تحریک انصاف کے عبیداللہ بیگ 3984 ووٹ لیکر آگے ہیں جب کہ آزاد امیدوار نور محمد 2471 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔

[pullquote]جی بی اے 7 اسکردو (1)[/pullquote]

جی بی اے 7 اسکردو کے 28 میں سے 4 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق تحریک انصاف کے راجہ محمد ذکریا خان 630 ووٹ لیکر آگے ہیں جب کہ پیپلز پارٹی کے سید مہدی شاہ 533 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر موجود ہیں۔

[pullquote]جی بی اے 8 اسکردو (2)[/pullquote]

جی بی اے 8 اسکردو کے54 میں سے6 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی سید محمد علی شاہ 770 ووٹ لیکر آگے ہیں جب کہ مجلس وحدت مسلمین کے محمد کاظم 623 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔

[pullquote]جی بی اے 9 اسکردو (3)[/pullquote]

گلگت بلتستان کے حلقہ 9 اسکردو 3 کے 55 میں سے 6 پولنگ اسٹیشن کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق آزاد امیدوار وزیر محمد سلیم 1190 ووٹ لیکر آگے ہیں جبکہ تحریک انصاف کے امیدوار فدا محمد ناشاد 304 ووٹ لیے ہیں۔

[pullquote]جی بی اے 10 اسکردو(4)[/pullquote]

جی بی اے 10 اسکردو کے مجموعی 46 پولنگ اسٹیشنز میں سے 2 کے غیرحتمی و غیر سرکاری نتیجے کے مطابق مجلس وحدت مسلمین کے مشتاق حسین 129ووٹ لیکر آگے ہیں جب کہ تحریک انصاف کے وزیرحسن کو 76 ووٹ ملے ہیں۔

[pullquote]جی بی اے 11 کھرمنگ[/pullquote]

جی بی اے 11 کھرمنگ کے 42 میں سے 4 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق تحریک انصاف کے سید امجد علی نے 538 ووٹ حاصل کیے ہیں جب کہ آزاد امیدوار سید محسن رضوی کو 100 ووٹ ملے ہیں۔

[pullquote]جی بی اے 12 شگر[/pullquote]

جی بی اے 12 شگر کے مجموعی 70 پولنگ اسٹیشنز میں سے 24کے غیرحتمی و غیرسرکاری نتیجے کے مطابق پیپلزپارٹی کے امیدوار عمران ندیم 3506 ووٹ لیکر آگے ہیں جب کہ تحریک انصاف کے راجہ اعظم خان 2478 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔

[pullquote]جی بی اے 13 استور (1)[/pullquote]

جی بی اے 13 استور کے 49 میں سے 7 پولنگ اسٹیشن کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کے امیدوار رانا فرمان علی 620 ووٹ لیکر آگے ہیں جب کہ پیپلز پارٹی کے عبدالحمید 570 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔

[pullquote]جی بی اے 14 استور (2)[/pullquote]

جی بی اے 14 استور 2 کے مجموعی 47 پولنگ اسٹیشنز میں سے 5 کے غیرحتمی و غیرسرکاری نتیجے کے مطابق تحریک انصاف کے امیدوار شمس الحق نے 640 ووٹ حاصل کرکے پہلے جبکہ پیپلزپارٹی کے امیدوار ڈاکٹر مظفر علی نے 190 ووٹ لیکر دوسرے نمبر ہیں۔

[pullquote]جی بی اے 15 دیامر (1)[/pullquote]

جی بی اے 15 دیامر1 کے مجموعی 45 پولنگ اسٹیشنز میں سے 9کے غیرحتمی و غیرسرکاری نتیجے کے مطابق پیپلز پارٹی کے امیدوار بشیر احمد 365 ووٹ حاصل کرکے پہلے جب کہ آزاد امیدوار محمد دلپذیر 310 ووٹ لیکر دوسرے نمبر ہیں۔

[pullquote]جی بی اے 16 دیامر(2)[/pullquote]

جی بی اے 16 دیامر 2کے مجموعی 41 پولنگ اسٹیشنز میں سے 14کے غیرحتمی و غیرسرکاری نتیجے کے مطابق مسلم لیگ ن کے امیدوارمحمد انور 1922 ووٹ حاصل کرکے پہلے جب کہ تحریک انصاف کے امیدوار عتیق اللہ 1642 ووٹ لیکر دوسرے نمبر ہیں۔

[pullquote]جی بی اے 17 دیامر (3)[/pullquote]

جی بی اے 17 دیامر 3کے مجموعی39 پولنگ اسٹیشنز میں سے 7کے غیرحتمی و غیرسرکاری نتیجے کے مطابق جمعیت علمائے اسلام کے رحمت خالق 2063 ووٹ لیکر پہلے جب کہ تحریک انصاف کے حیدر خان 821 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔

[pullquote]جی بی اے 18 دیامر (4)[/pullquote]

جی بی اے 18 دیامر 4کے مجموعی 26 پولنگ اسٹیشنز میں سے 7کے غیرحتمی و غیرسرکاری نتیجے کے مطابق تحریک انصاف کے گلبر خان 1288 ووٹ حاصل کرکے پہلے جب کہ آزاد امیدوار کفایت الرحمان 601ووٹ لیکر دوسرے نمبر ہیں۔

[pullquote]جی بی اے 19 غذر (1)[/pullquote]

جی بی اے 19 غذر 1کے 51 میں سے 15 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق تحریک انصاف کے ظفر محمد 1184 ووٹ لیکر آگے ہیں جب کہ پیپلز پارٹی کے سید جلال شاہ 994 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔

[pullquote]جی بی اے20 غذر (2)[/pullquote]

جی بی اے 20 غذر 2کے 52 میں سے 4 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق تحریک انصاف کے نظیر احمد 704 ووٹ لیکر آگے ہیں جب کہ پیپلز پارٹی کے علی مدد شیر 384 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔

[pullquote]جی بی اے 22 گھانچے (1)[/pullquote]

جی بی اے 22 گھانچے 1 کے 57 میں سے 44 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق آزاد امیدوار مشتاق حسین 6051 ووٹ لیکر آگے ہیں جب کہ تحریک انصاف کے محمد ابراہیم 4945 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔

[pullquote]جی بی اے 23 گھانچے (2)[/pullquote]

جی بی اے 23 گھانچے 2 کے 48 میں سے 5 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق تحریک انصاف کی امیدوار امینہ بی بی 428 ووٹ لیکر آگے ہیں جب کہ پیپلز پارٹی کے غلام علی 301 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔

[pullquote]جی بی اے 24 گھانچے (3)[/pullquote]

جی بی اے 24گھانچے 3کےتمام 43 میں سے 34 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی کے محمد اسماعیل نے 6 ہزار204 ووٹ لیکر کامیابی حاصل کرلی ہے جب کہ تحریک انصاف کے سید شمس الدین 5 ہزار 361 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے ہیں۔

بارش اور بالائی علاقوں میں برفباری کے باعث گانچے میں قانون ساز اسمبلی کے حلقہ جی بی اے 24 وادی سلتر و سیاچن کے پولنگ اسٹیشنز پر عملہ نہ پہنچ سکا جس کے باعث ووٹنگ کا عمل تاخیر سے شروع ہوا۔

گلگت بلتستان میں پولنگ اسٹیشنز کی مجموعی تعداد 1260 ہے جس میں سے مرد خواتین ووٹرز کے مشترکہ پولنگ اسٹیشنز کی تعداد 362 ہے، 297 پولنگ اسٹیشنز کو حساس اور 280 پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس قرار دیا گیا تھا۔

مردوں کے ساتھ خواتین ووٹرز بھی انتہائی پرجوش تھے اور ان کا کہنا تھاکہ اپنے حقوق کا حصول ووٹوں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

شدید سرد موسم میں 98 سالہ بزرگ شہری شعبان علی نے نگر میں اپنا ووٹ کاسٹ کیا جب کہ عمر رسیدہ خاتون وہیل چیئر پر ووٹ ڈالنے کے لیے پولنگ اسٹیشن پہنچی۔ اس کے علاوہ معذور شہری بھی ووٹ ڈالنے کے لیے پولنگ اسٹیشنز پہنچے اور اپنے ووٹ کا حق استعمال کیا۔

الیکشن پر سیکیورٹی کے لیے 13 ہزار 481 اہلکار تعینات کیے گئے جب کہ دیگر صوبوں سے بھی 5 ہزار سے زائد پولیس اہلکار فرائض انجام دے رہے ہیں۔

چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجا شہباز خان کا کہنا ہے کہ کہیں سے کسی بھی بدنظمی کی شکایت نہیں ملی، بیلٹ بکسز کی آر او آفس تک ترسیل اور نتائج کے لیے بھی فول پروف انتظامات کر رکھے ہیں، انتخابی عمل کو شفاف بنائیں گے۔

پیپلز پارٹی، تحریک انصاف، مسلم لیگ ن اور آزاد امیدوار میدان میں ہیں اور سب کو اپنی اپنی کامیابی کا بھرپور یقین ہے۔

ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی جانب سے بلاول اور مریم نواز نے بھرپور انتخابی مہم چلائی جب کہ تحریک انصاف کی جانب سے علی امین گنڈاپور، ذلفی بخاری اور مراد سعید انتخابی مہم میں پیش پیش رہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے