رقصِ بسمل

گزشتہ دنوں پولیس میں کانسٹیبل کی بھرتی کے فزیکل ٹیسٹ کے دوران ایک نوجوان کی آنکھوں سے چھلکتے آنسو محض ایک لمحاتی کیفیت نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کی معاشی بے یقینی اور نوجوانوں کے خوابوں کی عکاسی کرتے محسوس ہوئے۔ اس کے آنسوؤں میں کتنی محرومیاں، کتنی امیدیں اور مستقبل کے کتنے سوال چھپے تھے، اس کا اندازہ شاید وہی لگا سکتا ہے جو خود ایسے حالات سے گزرا ہو۔

آج ایک نوجوان نوکری کے حصول کے لیے میدان میں دوڑتا ہے تو اس کے ساتھ صرف اس کے قدم نہیں دوڑ رہے ہوتے، بلکہ گھر والوں کی توقعات، معاشی ذمہ داریاں اور بہتر مستقبل کے خواب بھی اس کے ساتھ ہوتے ہیں۔ ناکامی کی صورت میں اسے صرف ایک امتحان میں شکست نہیں ہوتی، بلکہ بعض اوقات وہ ان تمام امیدوں کے بوجھ تلے دب جاتا ہے جنہیں وہ اپنے کندھوں پر اٹھائے میدان میں اترا تھا۔

دوسری طرف سڑک کنارے گاہک کے انتظار میں کھڑا ریڑھی بان ہے، جس کے اترے ہوئے چہرے پر دن بھر کی محنت اور گھر کے اخراجات کی فکر صاف پڑھی جا سکتی ہے۔

کہیں ڈگری ہاتھ میں لیے نوجوان روزگار کی تلاش میں دربدر ہے تو کہیں محنت کش اپنی روزی کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے ہے۔ کردار الگ ہیں، مگر ان کے اندر جاری کشمکش ایک جیسی ہے؛ بہتر زندگی کی تلاش اور ناکامی کا خوف۔

کیا واقعی ہمارے دور میں مرنے سے زیادہ مشکل جینا ہو گیا ہے؟ یہ سوال محض جذباتی جملہ نہیں، بلکہ ان حالات پر غور کرنے کی دعوت ہے جہاں روزگار، معاشی تحفظ اور باعزت زندگی کی خواہش انسان کے لیے مسلسل آزمائش بنتی جا رہی ہے۔

رقصِ بسمل دراصل ان خوابوں کی داستان ہے جو حالات کی سختی میں زخمی ہو جاتے ہیں، ان چہروں کی کہانی ہے جو مسکرانا بھول جاتے ہیں اور ان خاموشیوں کا نوحہ ہے جنہیں سننے والا کوئی نہیں ہوتا۔

ہم اکثر کامیاب لوگوں کی کہانیاں سنتے اور ان کی منزلوں کو سراہتے ہیں، مگر ان لوگوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں جو مسلسل کوشش کے باوجود ابھی منزل سے دور ہیں۔ ہم کسی کی ناکامی پر سوال اٹھانے سے پہلے اس کے حالات جاننے کی زحمت کیوں نہیں کرتے؟ کسی کے اترے ہوئے چہرے کو پڑھنے اور اس کی خاموشی سمجھنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے؟

گلگت بلتستان سمیت ملک بھر میں نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع، شفاف بھرتی اور معاشی خودمختاری کے راستے پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ محض حوصلہ افزائی کے الفاظ کافی نہیں؛ نوجوانوں کو مواقع اور محنت کشوں کو معاشی تحفظ بھی درکار ہے۔

زندگی کی ہر ناکامی آخری فیصلہ نہیں ہوتی۔ کبھی ایک سہارا، ایک مخلص گفتگو اور ایک نیا موقع انسان کو دوبارہ کھڑا ہونے کا حوصلہ دے سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ناکام دکھائی دینے والے انسان کو تنہا چھوڑنے کے بجائے اس کا ہاتھ تھامیں۔

کیونکہ کسی کے آنسوؤں کے پیچھے چھپا درد سمجھنے کے لیے خود اسی کرب سے گزرنا شاید ضروری نہ ہو، لیکن انسان ہونے کے ناتے اسے محسوس کرنا ضرور ضروری ہے۔

اور شاید یہی رقصِ بسمل کا اصل مفہوم ہے: ایک ایسے انسان کی خاموش جدوجہد، جس کے اندر درد رقص کر رہا ہو اور دنیا اس کے چہرے پر لکھی کہانی پڑھنے سے قاصر ہو۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے