انسانی نفسیات اور روزمرہ کی زندگی میں "آدھا بھرا ہوا گلاس” (Half-Full Glass) محض ایک عام سی کہاوت یا تمثیل نہیں ہے، بلکہ یہ فکری ساخت، طرزِ عمل اور رویے کی عکاسی کرنے والا ایک فلسفہ ہے۔ جب دو افراد ایک ایسے گلاس کو دیکھتے ہیں جس میں آدھا پانی موجود ہو، تو ایک شخص اسے "آدھا خالی” دیکھ کر محرومی، کمی اور مایوسی کا احساس محسوس کرتا ہے، جبکہ دوسرا شخص اسے "آدھا بھرا ہوا” دیکھ کر موجودہ وسائل، نعمتوں، دستیاب مواقع اور مثبت پہلوؤں پر شکر گزار ہوتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ گلاس کی حالت ایک ہی رہتی ہے، پانی کی مقدار میں کوئی تبدیلی نہیں آتی؛ لیکن اسے دیکھنے والے کا زاویۂ نظر اور فکری مفہوم بدل جاتا ہے۔ یہی فرق انسان کے مزاج، ذہنی نشوونما، اور مسائل کے حل کے لیے اپنائے جانے والے حکمتِ عملی کے راستے کو متعین کرتا ہے۔ منفی سوچ انسان کو ناامیدی اور سستی کی دلدل میں دھکیل دیتی ہے، جبکہ مثبت اور تعمیری سوچ بحرانوں اور چیلنجز کے درمیان بھی امید اور ترقی کی نئی راہوں کو تراشتی ہے۔
یہی فلسفہ معاشروں، خطوں اور صوبوں پر بھی یکساں طور پر لاگو ہوتا ہے۔ جب ہم کسی خطے کو محض اس کے ماضی کے مسائل، بدامنی، یا پسماندگی کے تناظر میں دیکھتے ہیں، تو ہم وہاں ہونے والی خاموش تبدیلیوں، مثبت اصلاحات اور عوامی فلاح کے منصوبوں سے نظریں چرا لیتے ہیں۔ بلوچستان کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی رہا ہے۔
پاکستان کے رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے "بلوچستان” کا ذکر جب بھی قومی یا بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں آتا ہے، تو اکثر و بیشتر ذہنوں میں فوری طور پر بدامنی، دھماکوں، محرومی اور سیکیورٹی کے درپیش چیلنجز کا تاثر ابھرتا ہے۔ یہ ایک ایسا بیانیہ ہے جو دہائیوں سے چلی آرہی خبروں کے نتیجے میں قائم ہوا ہے۔ لیکن کیا واقعی بلوچستان میں صرف یہی کچھ ہو رہا ہے؟ کیا وہاں کوئی تعمیری کام، عوامی فلاح کا اقدام یا معاشی ترقی کا سفر جاری نہیں ہے؟
اس حقیقت کو پرکھنے کے لیے جب بلوچستان کے ایک سینئر اور کہنہ مشق صحافی سے گفتگو کی گئی، تو انہوں نے اس یکطرفہ بیانیے کی نفی کی۔ ان کا کہنا تھا:
"ایسا ہرگز نہیں ہے کہ بلوچستان میں کوئی کام نہیں ہو رہا یا ترقیاتی عمل رک گیا ہے۔ دراصل سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ مثبت خبریں، اصلاحاتی اقدامات اور عوامی فلاح کے منصوبے سوشل میڈیا اور مرکزی دھارے کے میڈیا پر اس طرح سے ہائی لائٹ نہیں ہو پاتے جس طرح ہونا چاہیے۔ منفی خبریں تیزی سے پھیلتی ہیں، جبکہ خاموش اور پائیدار پیش رفت پسِ منظر میں چلی جاتی ہے۔”
سینیئر صحافی کے مطابق، اگر ہم غیر جانبدارانہ اور مثبت نقطۂ نظر (یعنی آدھے بھرے ہوئے گلاس کے زاویے) سے دیکھیں، تو بلوچستان میں انفراسٹرکچر، پبلک ٹرانسپورٹ، ہنر مندی کی فراہمی اور سب سے بڑھ کر خواتین کو بااختیار بنانے کے حوالے سے انتہائی انقلابی اور دور رس نتائج کے حامل اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ماضی میں جب ہم جدید اور آرام دہ پبلک ٹرانسپورٹ جیسے کہ "گرین بس” یا "پنک بس” کا ذکر سنتے تھے، یا انہیں پنجاب کے مختلف شہروں کی سڑکوں پر روان دوان دیکھتے تھے، تو بلوچستان کے باشندوں کے لیے یہ باتیں ایک دور افتادہ خواب کی مانند لگتی تھیں۔ لیکن آج یہ تمام جدید سہولیات بلوچستان کی حقیقت بن چکی ہیں۔
حکومتِ بلوچستان نے عوام کو معیاری اور سستی ٹرانسپورٹ فراہم کرنے کے لیے متعدد اہم منصوبے شروع کیے ہیں بلوچستان کے اہم شہروں میں گرین بس سروس کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس سروس سے نہ صرف عام شہر یوں بالخصوص طلبہ اور ملازمین کو سفر کی باوقار، محفوظ اور ارزاں سہولت میسر آئی ہے ،خواتین کی سیکیورٹی، عزتِ نفس اور مخصوص سفر کی ضروریات کو مدِنظر رکھتے ہوئے "پنک بس سروس” متعارف کرائی گئی ہے۔ یہ اقدام صوبے کی تاریخ میں خواتین کے لیے سفری سہولیات کے لحاظ سے بہترین اقدام ثابت ہو رہا ہے، جس سے ملازمت پیشہ خواتین اور طالبات کے لیے گھر سے باہر نکلنا محفوظ اور آسان ہو گیا ہے.
حکومت نے صرف بس سروس تک محدود رہنے کے بجائے خواتین اور طالبات کے لیے "پنک اسکوٹیز” فراہم کرنے کا شاندار اعلان کیا ہے تاکہ ان کی خودمختاری اور روزمرہ کی نقل و حرکت کو مزید آسان بنایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے نوجوانوں اور محنت کشوں کو آسان اقساط اور نرم شرائط پر لوڈر رکشے فراہم کرنے کے قرضہ جات کے پروگرامز کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔یہ تمام اصلاحات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ حکومت بالخصوص بنیادی ڈھانچے اور مواصلات کے شعبے میں پائیدار اور ٹھوس تبدیلی کی بنیاد رکھ چکی ہے۔
کسی بھی معاشرے کی پائیدار ترقی اس وقت تک ناممکن ہے جب تک اس کی نصف آبادی یعنی خواتین کو قومی دھارے میں شامل نہ کیا جائے۔ بلوچستان کا نظام روایتی اور پسماندہ رہا ہے جہاں خواتین کے معاشی دورِ حیات میں شامل ہونے پر متعدد معاشرتی اور جغرافیائی پابندیاں رہی ہیں۔ اس جمود کو توڑنے کے لیے ڈیپارٹمنٹ آف ویمن ڈیولپمنٹ بلوچستان (Women Development Department Balochستان) نے ایک فیصلہ کن اور مؤثر کردار ادا کرنا شروع کیا ہے۔محکمہ ترقیِ نسواں کا بنیادی مقصد خواتین کو محض وقتی امداد دینا نہیں، بلکہ انہیں ہنر مند بنا کر اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے۔
محکمے کے تحت صوبے بھر میں خواتین کو متعدد جدید اور روایتی علوم و فنون کی تربیت دی جا رہی یہ بات مسلمہ ہے کہ "جب آپ ایک مرد کو ہنر مند بناتے ہیں تو آپ صرف ایک فرد کو بااختیار بناتے ہیں؛ لیکن جب آپ ایک خاتون کو ہنر مند بناتے ہیں، تو آپ آنے والی پوری نسل اور خاندان کو بااختیار بناتے ہیں۔” ایک تربیت یافتہ اور ہنر مند ماں اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت، صحت اور معاشی بنیادوں کو استوار کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
خواتین کو صرف ہنر کی تربیت دے کر چھوڑ دینا کافی نہیں ہوتا، جب تک کہ ان کے پاس اس ہنر کو عملی کاروبار میں تبدیل کرنے کے لیے سرمایہ اور وسائل موجود نہ ہوں۔ اس خلا کو پر کرنے کے لیے حکومتِ بلوچستان نے ایک انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے "ویمن انٹرپرینیور شپ ڈویلپمنٹ پروگرام” (Women Entrepreneurship Development Program) کا انعقاد کیا یہ پروگرام بلوچستان کی تاریخ کا پہلا جامع، منظم اور نتیجہ خیز ویمن انٹرپرینیور شپ پروگرام ثابت ہوا ہے۔ پہلے مرحلے میں صوبے بھر سے 900 منتخب خواتین کو بزنس مینجمنٹ، مارکیٹنگ، فنانشل لٹریسی، اور پروڈکٹ ڈویلپمنٹ کی تربیت دی گئی تاکہ وہ کاروباری دنیا کے چیلنجز کا مقابلہ کر سکیں۔تربیت کے بعد، ان میں سے 100 ایسی خواتین جن کے پاس بہترین بزنس آئیڈیاز اور عملی صلاحیت موجود تھی، انہیں اپنے کاروبار کا باقاعدہ آغاز کرنے کے لیے مالی امداد کے چیکس تقسیم کیے گئے۔
حکومت کی جانب سے مجموعی طور پر ۲ کروڑ روپے کی بلا سود/معاونتی مالی امداد فراہم کی گئی تاکہ وہ اپنا سیٹ اپ لگا سکیں اور عملی دنیا میں ایک خودمختار تاجر کی حیثیت سے قدم رکھ سکیں۔جب ایک خاتون گھر بیٹھے یا اپنا چھوٹا بزنس چلا کر رقم کمانا شروع کرتی ہے، تو اس کا براہِ راست فائدہ اس کے بچوں کی معیاری تعلیم، بہتر خوراک اور صحت کی سہولیات پر ہوتا ہے۔ اس سے غربت کی شرح میں نمایاں کمی آتی ہے۔
جب خواتین کو معاشی طور پر مستحکم اور بااختیار دیکھا جاتا ہے، تو معاشرے میں ان کی عزت و احترام میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس سے دیگر خواتین اور لڑکیوں کے لیے بھی تعلیمی و معاشی میدان میں آگے بڑھنے کی راہ ہموار ہوتی ہے۔حکومتِ بلوچستان کا یہ اقدام دراصل صرف موجودہ دور کے لیے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے روشن اور محفوظ مستقبل میں کی جانے والی ایک بہترین اور پائیدار سرمایہ کاری ہے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ گلاس واقعی آدھا بھرا ہوا ہے۔ بلوچستان یقیناً چیلنجز، مسائل اور ماضی کی محرومیوں سے یکسر پاک نہیں ہوا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ وہاں صرف تاریکی اور مایوسی ہے۔
حکومتِ بلوچستان، صوبائی محکمے بالخصوص محکمہ ترقیِ نسواں اور مقامی برادریاں جس طرح یکسوئی کے ساتھ مثبت اور تعمیری کاموں میں مصروف ہیں، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر ہم محرومی کی بجائے موجودہ وسائل اور کاوشوں پر نظر رکھیں تو ایک روشن اور مستحکم بلوچستان کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو رہا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بحیثیت قوم، ذرائع ابلاغ اور عام شہری اپنے زاویۂ نظر کو بدلیں۔ بلوچستان کے "آدھے بھرے ہوئے گلاس” کو دیکھیں، وہاں کی محنت کش خواتین کے جذبے کو سراہا جائے، اور ان مثبت خبروں کو اتنی ہی اہمیت کے ساتھ سامنے لایا جائے جتنا کہ دیگر خبروں کو لایا جاتا ہے۔ یہی وہ مثبت رویہ ہے جو صوبے کے عوام میں اعتماد پیدا کرے گا اور بلوچستان کو ترقی و خوشحالی کی نئی بلندیوں پر لے جائے گا۔