لاہور: تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کےسربراہ خادم حسین رضوی انتقال کرگئے۔
فیملی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ خادم حسین رضوی کو گزشتہ چند روز سے بخار تھا اور وہ آج انتقال کرگئے ہیں۔
خیال رہے کہ خادم حسین رضوی نے گزشتہ دنوں فیض آباد میں ہونے والے ٹی ایل پی کے دھرنے کی بھی قیادت کی تھی اور اسی دوران انہیں بخار ہوا تھا۔
طبعیت بگڑنے پر خادم حسین رضوی کو شیخ زاید اسپتال لے جایا گیا جہاں آج ان کا انتقال ہوگیا۔
خادم حسین رضوی کی میت اسپتال سے ان کے گھر منتقل کردی گئی ہے جبکہ گھر کے باہر بڑی تعداد میں ٹی ایل پی کے کارکن اور ان کے عقیدت مند جمع ہوگئے ہیں۔
اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ
اللہ تعالی خادم حسین رضوی صاحب کو جنت میں جگہ عطا فرمائے – ان کے درجات بلند فرمائے – ان کے اہل خانہ اور عزیز و اقارب کو صبر جمیل عطا فرمائے – آمین— Faisal Javed Khan (@FaisalJavedKhan) November 19, 2020
تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر فیصل جاوید نے بھی خادم حسین رضوی کے موت کی تصدیق کرتے ہوءے دعا کی ہے کہ اللہ تعالی خادم حسین رضوی کو جنت میں جگہ عطا فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے ، ان کے اہل خانہ اور عزیز و اقارب کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
خادم حسین رضوی کا تعلق ضلع اٹک سے تھا، وہ 22 جون 1966 کو ’نکہ توت‘ میں پیداہوئے۔
خادم حسین رضوی نےجہلم ودینہ کے مدارس دینیہ سے حفظ و تجویدکی تعلیم حاصل کی اور جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور سے درس نظامی کی تکمیل کی۔
پاکستان علماء کونسل کے سربراہ علامہ طاہر محمود اشرفی نے علامہ خادم حسين رضوى كے انتقال پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اسے سانحہ قرار دیا ہے۔
اسپتال زرائع کے مطابق وہ بھی کرونا سے متاثر تھے ۔