وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے سیاسی رابطہ کار شہباز گِل نے وزیر اعظم کے بنی گالہ میں گھر کو ریگولرائز کرنے کی وضاحت دے دی۔
شہباز گِل نے کہا کہ بنی گالہ کا گھر وزیراعظم نے اپنے پیسے سے خریدا جسے سی ڈی اے سے ریگولرائز کرایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی بنی گالہ میں زمین 300کنال تھی جبکہ اس پر 60کنال تعمیر کی اجازت تھی لیکن وزیراعظم نے ایک فیصد سے بھی کم کی تعمیر اس زمین پر کی۔
ان کا کہنا تھا کہ سی ڈی اے کے زون فور کا کبھی ماسٹر پلان بنا ہی نہیں ہے، 2018 میں عدالت عظمیٰ نے اسی معاملے پر وزیراعظم عمران خان کو صادق اور امین قرار دیا تھا۔
شہباز گل کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے استعفوں کو ٹھنڈ لگ گئی ہے، اسی لیے وزیراعظم کے گھر کے نان ایشو کو ایشو بنانے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔
دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے رہنما عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ عمران خان نے اپنے گھر کا مسئلہ حل کرنے کیلئے بنی گالہ کو ریگولرائز کرایا، یہ کوئی نہیں پوچھتا کہ بنی گالا کو کیسے ریگولرائز کرایا گیا ہے؟
انہوں نے کہا کہ اختیارات کا ناجائز استعمال کیا جارہا ہے، بہنوئی کی زمین پر قبضہ کروانے کیلئے آئی جی کی تبدیلی تک کی گئی تھی۔
مسلم لیگ (ن) پنجاب کی ترجمان عظمیٰ بخاری نے کہا کہ سی ڈی اے کے جس زون کا ماسٹر پلان تک نہیں بنا وہاں وزیراعظم کی اراضی ریگولرائز کی جارہی ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ دنوں کیپٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے وزیراعظم عمران خان کے بنی گالہ کے گھر کا نقشہ منظور کرلیا تھا۔
ذرائع کے مطابق سی ڈی اے نے وزیراعظم کا بنی گالہ کا گھر 106روپے مربع فٹ کے حساب سے ریگولر کیا، نقشہ منظور کرانےکیلئے عمران خان نے 12 لاکھ روپے جرمانہ بھی ادا کیا، یہ جرمانہ بغیر اجازت تعمیرات پر کیا گیا تھا۔