کراچی؛ (12 اکتوبر 2026ء) معروف مذہبی اسکالر، مہتمم جامعہ بنوریہ عالمیہ اور صوبائی کوآرڈینیٹر پیغامِ امن کمیٹی ڈاکٹر مفتی نعمان نعیم نے کہا ہے کہ پاکستان کی عالمی کامیابیوں سے خائف دشمن ملک کو اندرونی و بیرونی سطح پر غیر مستحکم کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں.
خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے واقعات تشویش ناک ہیں،دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایسے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں جن سے امن بحال ہو، عوام کو تحفظ ملے اور ریاست پر ان کا اعتماد مضبوط ہو۔گزشتہ روز جامعہ بنوریہ عالمیہ میں علمائے کرام کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں طویل عرصے سے جاری دہشت گردی کے باعث افواجِ پاکستان اور عوام قیمتی جانوں کی قربانیاں دے رہے ہیں، جبکہ مقامی آبادی بھی شدید مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔
ایسے حالات میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پوری قوم کو اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور عوامی تحفظات کو سنجیدگی سے سن کر ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے امن کی بحالی اور عوامی اعتماد کو فروغ ملے۔انہوں نے کہا کہ افواجِ پاکستان اور دیگر سکیورٹی اداروں کی ملکی دفاع و سلامتی کے لیے قربانیاں قابلِ تحسین ہیں ہمیں ان کی قدر کرنی چاہے ، امن و امان کے قیام کے لیے ریاستی اقدامات قانون، انصاف، انسانی وقار اور بنیادی حقوق کے تقاضوں کے مطابق ہونے چاہییں، پائیدار امن کے لیے قومی اتحاد، قانون کی بالادستی، عوامی مسائل کا حل، تعلیم و روزگار کے مواقع اور ریاست و شہریوں کے درمیان اعتماد کا فروغ ناگزیر ہے.
انہوں نے کہاکہ تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں، علمائے کرام، قبائلی عمائدین اور معاشرے کے دیگر طبقات پر زور دیا کہ وہ امن، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے فروغ میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات کو تصادم کے بجائے مکالمے اور افہام و تفہیم سے آئن کے مطابق حل کیا جائے اور نفرت و انتشار کے بجائے تحمل، برداشت اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کو فروغ دیا جائے۔