منگل : 30 نومبر 2021 کی اہم ترین عالمی خبریں

[pullquote]بارباڈوس برطانوی بادشاہت سے نکل کر ایک آزاد جمہوریہ بن گیا[/pullquote]
بحر اقیانوس کے کیریبین خطے میں واقع ملک بارباڈوس نے برطانوی بادشاہت ترک کر کے ایک جمہوریہ ہونے کا اعلان کر دیا۔ یہ اعلان نومبر 2021 ء میں بارباڈوس کے برطانیہ سے آزادی کی 55 ویں سالگرہ اور اس علاقے میں انگریز آبادکاروں کی آمد کے تقریباً 400 سال پورے ہونے کے موقع پر کیا گیا ہے۔ بارباڈوس کی گورنر اور جج سینڈرا میسن نے اس جزیرہ ریاست کی پہلی خاتون صدر کے طور پر دارالحکومت برج ٹاؤن میں رسمی طور پر اپنے عہدے کا حلف اُٹھا لیا۔ اس طرح وہ برطانوی ملکہ الزبتھ دوم کی جگہ سربراہ مملکت بن گئی ہیں۔ برطانوی شہزادہ چارلس نے ملکہ کی جانب سے بارباڈوس کی آزادی و خودمختاری کیساتھ اس ریاست کی باگ ڈور ملک کی پہلی صدر کو سونپنے کے لیے اس تقریب میں شرکت کی۔ تاہم یہ کیریبیئین جزیرہ ریاست دولت مشترکہ کی رکن رہی گی۔

[pullquote]کووڈ انیس کے خلاف ویکسین ویرینٹ اومیکرون کے خلاف غیر مؤثر[/pullquote]

موڈیرنا ویکسین بنانے والی امریکی کمپنی کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر موڈیرنا ویکسین کورونا کے نئے ویرینٹ اومیکرون سے مماثلت نہیں رکھتی۔ امریکی دوا ساز کمپنی موڈیرنا کے سربراہ اسٹیفن بنسل نے اخبار فائنانشل ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ چند ہفتوں کے اندر موڈیرنا ویکسین کی افادیت کے بارے میں ڈیٹا سامنے آ جائے گا تاہم سائنسدان اس ویکسین کے اومیکرون کے خلاف مؤثر ہونے کے بارے میں پُرامید نہیں ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ کووڈ انیس ویکسین کی مدد سے اومیکرون کے خلاف جنگ کرنا ہوگی تاہم اس پر انحصار نہیں کیا جا سکتا اور اومیکرون کے خلاف نئے شاٹس یا ویکسین تیار کرنا ہو گی جس میں کئی مہینے لگ سکتے ہیں۔

[pullquote]یورپی یونین کے دس ممالک میں 42 اومیکرون کیسز کی تصدیق[/pullquote]

یورپی یونین کی ہیلتھ ایجنسی نے منگل کو کہا ہے کہ یورپی یونین کے ممبر دس ممالک میں کووڈ انیس ویرینٹ اومیکرون کے 42 کیسز کی تصدیق ہو چُکی ہے۔ یورپی مرکز برائے امراض، تحفظ اور کنٹرول (ECDC) کی سربراہ اینڈریا آمون نے ایک آن لائن کانفرنس میں بتایا کہ یورپی حکام مزید چھ ممکنہ کیسز کی تشخیص کے لیے تجزیہ کر رہے ہیں۔ ان کہنا تھا کہ جن افراد میں اس وائرس کی تشخیص ہوئی ہے ان میں کووِڈ کی علامات یا تو کم تھیں یا تھیں ہی نہیں۔

[pullquote]سعودی عرب میں انسانی حقوق کے لیے سرکردہ خواتین کے ساتھ اظہار یکجہتی[/pullquote]

یورپی اراکین پارلیمان نے انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر سعودی عرب میں انسانی حقوق کی علمبردار خواتین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ اس سلسلے میں 120 سے زائد یورپی اراکین پارلیمان نے ایک دستاویز پر دستخط کیے ہیں۔ اس خط میں یورپی قانون سازوں نے سعودی حکام سے اپنے اس مطالبے کا اعادہ کیا ہے کہ انسانی حقوق کی سرگرمیوں کے سبب زیرحراست خواتین کو غیرمشروط طور پر رہا کیا جائے۔ اس دستاویز میں اس بات پر خوشی کا اظہار کیا گیا ہے کہ جن خواتین کارکنان کو سن 2018 کے کریک ڈاؤن کے دوران گرفتار کیا گیا تھا انہیں، ’’مسلسل عالمی دباؤ کے بعد‘‘ رہا کر دیا گیا۔ تاہم یورپی ارکان پارلیمان نے رہائی کے بعد بھی کئی خواتین کارکنان پر عائد سخت ترین پابندیوں کی مذمت کی۔

[pullquote]’نورڈ اسٹریم ٹو‘ پائپ لائن منصوبہ امریکی بجٹ کی راہ میں رکاوٹ[/pullquote]

امریکا میں بحیرہ بالٹک میں ’نورڈ اسٹریم ٹو‘ پائپ لائن منصوبے کے خلاف پابندیوں کا اندرون ملک پایا جانے والا تنازعہ آئندہ ملکی بجٹ کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہے۔ امریکی سینیٹ میں ریپبلکنز نے دفاعی بجٹ پر قانون سازی کی ووٹنگ رکوانے کے لیے مخصوص طریقہ کار سے متعلق ضوابط کا استعمال کیا۔ ریپبلکن اقلیتی رہنما مچ میک کونل نے اس اقدام کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا کہ ڈیموکریٹس نے بجٹ پر قانون سازی کے پیکیج میں ’نورڈ اسٹریم ٹو‘ پائپ لائن منصوبے سے متعلق ترمیم شامل کرنے سے انکار کیا ہے۔ یاد رہے کہ اس تبدیلی کا مقصد ’نورڈ اسٹریم ٹو‘ پائپ لائن منصوبے کے لیے امریکی صدر جو بائیڈن کو امریکی پابندیوں میں استثناء دینے سے روکنا ہے۔ ریپبلکنز کو خدشہ ہے کہ بائیڈن قومی سلامتی کی وجوہات کا جواز پیش کر کے اس استثناء کا استعمال کر سکتے ہیں۔

[pullquote]جرمنی: عراقی جہادی کو ایزدیوں کی نسل کُشی کے جرم میں عمر قید کی سزا[/pullquote]

فرینکفرٹ کی ایک عدالت نے داعش کے ایک سابق رکن کو عمر قید کی سزا سنا دی۔ عدالت نے منگل کے روز 29 سالہ طحہ ال ’جے‘ کو نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم، جنگی جرائم، جنگی جرائم میں مدد اور ان کی حوصلہ افزائی اور 2013 ء میں داعش میں شمولیت کے بعد ایزدیوں کو جسمانی نقصان اور ان کی موت کا سبب بننے والے مظالم کا مجرم پایا گیا۔ اسلامک اسٹیٹ کے اس سابقہ رکن پر ایک پانچ سالہ بچی کے قتل کا الزام بھی عائد ہے۔ اس بچی کو ملزم نے عراق میں خریدا تھا۔

[pullquote]جرمنی میں کورونا وبا سے متعلق پالیسی کے بارے میں وفاقی ریاستوں کا اجلاس[/pullquote]

منگل 30 نومبر کو جرمنی کی وفاقی اور ریاستی حکومتوں کے سربراہان کورونا کی وبا سے متعلق آئندہ کی حکمت عملی اور پالیسیوں کے بارے میں بات چیت کر رہے ہیں۔ چانسلر انگیلا میرکل اور ان کے جانشین اولاف شُولز تمام 16 ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کو ’کورونا بحرانی کمیٹی‘ کے قیام کے بارے میں تمام معلومات فراہم کرنا چاہتے ہیں۔ جرمن شہر کارلسروہے میں قائم وفاقی آئینی عدالت کی طرف سے کورونا پالیسی میں ممکنہ اصلاحات کے قانونی پہلوؤں کو مد نظر رکھتے ہوئے اس بارے میں چند اہم فیصلے اور اعلانات پیر دوپہر سے پہلے پہلے متوقع ہیں۔ اس کے بعد تمام وزرائے اعلیٰ اپنے مذاکرات کے دوران جرمنی میں کورونا کیسز میں مسلسل اضافے کے خلاف اب تک کی پالیسی میں ممکنہ اصلاحات کا فیصلہ کریں گے۔

[pullquote]ایران کے ساتھ متنازعہ جوہری ڈیل کے مذاکرات سے کچھ مثبت اُمیدیں وابستہ[/pullquote]

پیر 29 نومبر کو ویانا میں متنازعہ جوہری ڈیل کے بارے میں ہونے والے مذاکرات سے مثبت نتائج کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔ سن 2015 کے جوہری معاہدے کو بحال کرنے کے لیے یہ بات چیت پانچ ماہ کے تعطل کے بعد پیر ویانا میں دوبارہ شروع ہوئی۔ بات چیت دو گھنٹے سے کچھ زیادہ دیر زیادہ تک جاری رہی۔ پہلے روز کی بات چیت کے بعد یورپی یونین، ایرانی اور روسی سفارت کاروں نے مثبت نتائج کی امید ظاہر کی۔ مذاکرات کے پہلے دن کے اختتام کے بعد اس کی صدارت کرنے والے یورپی یونین کے نمائندے اینریکے مورا نے کہا کہ وہ انتہائی پر امید ہیں۔ خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق یورپی یونین، ایران اور روس کے سفارت کاروں نے مذاکرات کو مثبت قرار دیا ہے حالانکہ ایران نے عوامی سطح پر سخت مؤقف اختیار کر رکھا ہے جس کے بارے میں مغربی طاقتوں کا کہنا تھا کہ اس سے بات نہیں بنے گی۔

[pullquote]اومیکرون نیدر لینڈز میں جنوبی افریقی پروازوں سے پہلے پایا گیا[/pullquote]

ڈچ ہیلتھ حکام کی جانب سےکہا گیا ہے کہ گزشتہ ہفتے جنوبی افریقہ سے آنے والی دو فلائٹس میں کورونا وائرس کی نئی قسم اومیکرون کی تشخیص سے پہلے ہی کووڈ انیس ویرینٹ کی ہالینڈ میں موجودگی کا پتا چل گیا تھا۔ ہالینڈ کے صحت کے شعبے کے حکام نے یہ انکشاف منگل کو کیا۔ 26 نومبر کو ژوہانس برگ اور کیپ ٹاؤن سے ایمسٹرڈیم کے شپہول ایئر پورٹ پر لینڈ کرنے والی دو فلائٹس میں کم از کم 14 افراد کورونا کی نئی قسم کے شکار پائے گئے تھے۔ ہالینڈ کے نیشنل انسٹیٹیوٹ فار پبلک ہیلتھ RIVM کے بیان کے مطابق اس سے قبل انہیں دو ٹیسٹس کے ذریعے کورونا وائرس کے ویرینٹ اومیکرون کی موجودگی کا پتا چلا تھا۔ RIVM کے اہلکاروں کے مطابق ٹیسٹ کے لیے دو نمونے 19 اور 23 نومبر کو لیے گئے تھے۔ جن دو افراد کے نمونے لیے گئے ان کے بارے میں تاحال یہ امر واضح نہیں کہ آیا یہ دونوں جنوبی افریقہ گئے تھے یا نہیں۔

[pullquote]اومیکرون سے ’دہشت زدہ‘ ہونے کی ضرورت نہیں، جو بائیڈن[/pullquote]

امریکی صدر جو بائیڈن نے امریکی شہریوں سے کہا ہے کہ انہیں کورونا ویرینٹ اومیکرون سے دہشت زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ وائٹ ہاؤس میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ بات یقینی ہے کہ اومیکرون ویرینٹ کا وائرس امریکا بھی پہنچے گا، لیکن امریکی شہریوں کی حفاظت کے لیے منظور شدہ ویکسین اور بوسٹر شاٹ جیسی بنیادی ضرورت کی چیزیں موجود ہیں۔ صدر بائیڈن کا مزید کہنا تھا کہ امریکا میں بڑے پیمانے پر لاک ڈاؤن پر غور و خوض نہیں کیا جا رہا۔ جو بائیڈن نے کہا کہ پانچ برس سے زیادہ عمر کے تمام افراد ویکسین کا کورس مکمل کریں اور جنہوں نے چھ ماہ قبل ویکسین کا کورس مکمل کر لیا ہے وہ بوسٹر شاٹ لگوائیں۔ بائیڈن نے حفاظتی اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر تمام شہری ویکسین لگوا لیں اور ماسک پہنیں تو کسی لاک ڈاؤن کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

[pullquote]افغانستان کے ہوائی اڈوں کو فعال رکھنے کے لیے یورپی یونین مالی امداد کرے: طالبان[/pullquote]

طالبان قیادت نے یورپی یونین سے افغانستان کے ہوائی اڈے بحال اور فعال رکھنے کے لیے مالی امداد مانگی ہے۔ یورپی یونین کی طرف سے اس بات کا اعلان پیر کو خلیجی ریاست قطر کے دارالحکومت دوحہ میں افغان وفد کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے بعد کیا گیا۔ اُدھر طالبان نے اس موقع پر اس امر کی یقین دہانی کرائی تھی کہ جو افغان باشندے اور غیر ملکی افغانستان سے نکلنا چاہتے ہیں انہیں ملک چھوڑنے کی اجازت دی جائے گی۔ یورپی یونین نے تاہم یہ واضح کیا کہ دوحہ میں ہونے والی بات چیت کا مطلب ’ طالبان کی طرف سے اعلان کردہ افغان عبوری حکومت‘ کو ہرگز سفارتی طور پر تسلیم کرنا نہیں تھا۔ ساتھ ہی یورپی یونین کےرہنماؤں کا کہنا ہے کہ طالبان کیساتھ بات چیت جاری رکھنا افغان عوام کے مفاد میں ہے۔

[pullquote]بشکریہ ڈی ڈبلیو اُردو[/pullquote]

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے