حکومت نے منی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کردیا اور اس دوران اپوزیشن جماعتوں نے شدید احتجاج کیا۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان نے ایوان میں رولز معطل کرنے کی قرارداد پیش کردی، رولز معطل کرنے کی قرارداد منظور ہوئی جس کے بعد وزیر خزانہ شوکت ترین نے ضمنی مالیاتی بل 2021 (منی بجٹ) قومی اسمبلی میں پیش کردیا۔
اپوزیشن کی جانب سے اس موقع پر شدید احتجاج کیا گیا اور حکومت کیخلاف نعرے لگائے گئے۔
[pullquote]منی بجٹ میں کیا ہے؟[/pullquote]
مِنی بجٹ میں تقریباً 150 اشیاء پر سیلز ٹیکس بڑھانے کی تجویز ہے جن سے 350 ارب روپے سے زیادہ اضافی ریونیو حاصل ہوسکے گا۔
موبائل فون کالز پر انکم ٹیکس 10سے بڑھاکر 15فیصد کردیا جائے گا۔ 850 سی سی سے بڑی گاڑیوں پر سیلز ٹیکس 17فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
اس کے علاوہ دواؤں کے خام مال پر 17 فیصد جی ایس ٹی جب کہ مکمل تیار الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد پر ٹیکس 5 سے بڑھا کر 17 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
درآمدی دودھ، اور اس کے خام مال پر زیرو ریٹ ختم کرنے کی تجویز بھی مِنی بجٹ میں رکھی گئی ہے۔ ڈیوٹی فری شاپس پر پہلی بار 17 فیصد سیلز ٹیکس لگانے کی تجویز دی گئی ہے۔
اس کے علاوہ بیکری، ریسٹورنٹس، فوڈ چینز پر بریڈ کی تیاری پر 17فیصد جی ایس ٹی کی تجویز ہے جب کہ عام تندوروں پر روٹی اور چپاتی پر ٹیکس استثنیٰ برقرار رہے گا۔