قومیں اپنے محسنوں کو کبھی فراموش نہیں کرتیں، اور وہ قومیں زندہ رہتی ہیں جو اپنے شہداء کے لہو کی حرمت کو سمجھتی ہیں۔ اپریل 2026 کی ایک سحر، جب بیشتر پاکستانی اپنے گھروں میں پرسکون نیند سو رہے تھے، پاک افغان سرحد کے دشوار گزار پہاڑوں پر ایک اور بیٹا اپنی دھرتی کی حفاظت میں مصروف تھا۔
ہاشم سیک ناکہ (143W AOR) کے مقام پر فائرنگ کے تبادلے میں نمل میانوالی سے تعلق رکھنے والے سپاہی حمید نے جامِ شہادت نوش کیا اور یوں وطن کی مٹی کو اپنے لہو سے مزید سرخرو کر دیا۔
سپاہی حمید کا تعلق میانوالی کی اس سرزمین سے تھا جس نے ہمیشہ بہادری، غیرت اور حب الوطنی کی مثالیں قائم کی ہیں۔ نمل جیسے علاقے، جہاں سادگی اور خلوص زندگی کا حصہ ہیں، وہیں سے ایسے جوان نکلتے ہیں جو اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر وطن کی سرحدوں کا دفاع کرتے ہیں۔ سپاہی حمید بھی انہی گمنام ہیروز میں شامل تھے، جن کی زندگیاں خاموشی سے گزرتی ہیں مگر ان کی شہادت قوم کے ماتھے کا جھومر بن جاتی ہے۔
پاک افغان سرحد پر حالات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ دہشتگردی کے خطرات، دراندازی کی کوششیں اور دشمن عناصر کی سازشیں ہر وقت ہمارے جوانوں کو چوکنا رکھتی ہیں۔ ایسے میں سپاہی حمید جیسے جوان نہ صرف اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں بلکہ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے یہ ثابت کرتے ہیں کہ پاکستان کی سرحدیں محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔
یہ شہادت صرف ایک فرد کا نقصان نہیں بلکہ ایک خاندان، ایک گاؤں اور پوری قوم کا دکھ ہے۔ ایک ماں کا لختِ جگر، ایک باپ کا سہارا، اور شاید کسی بہن یا بھائی کا فخر، آج وطن پر قربان ہو گیا۔ مگر اس قربانی کے ساتھ ایک عظیم فخر بھی جڑا ہے، کہ سپاہی حمید نے اپنی جان دے کر پاکستان کی بقا کو یقینی بنایا۔
ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ آج ہم جس امن میں سانس لے رہے ہیں، اس کے پیچھے انہی شہداء کی قربانیاں ہیں۔ یہ وہ چراغ ہیں جو خود جل کر قوم کو روشنی دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم بطور قوم ان قربانیوں کا حق ادا کر رہے ہیں؟ کیا ہم اپنے اندر وہ اتحاد، نظم و ضبط اور حب الوطنی پیدا کر سکے ہیں جس کی توقع ہمارے شہداء ہم سے رکھتے ہیں؟
ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہداء کے خاندانوں کا خیال رکھے، انہیں وہ عزت، سہولیات اور تحفظ فراہم کرے جس کے وہ مستحق ہیں۔ مگر اس سے بڑھ کر یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم ان قربانیوں کو یاد رکھیں، اپنی نئی نسل کو ان کی کہانیاں سنائیں اور ان کے نقش قدم پر چلنے کا عزم کریں۔
سپاہی حمید کی شہادت ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ پاکستان کی حفاظت کے لیے ہمارے جوان ہر لمحہ تیار ہیں، چاہے اس کے لیے انہیں اپنی جان ہی کیوں نہ دینی پڑے۔ یہ قربانی ہمیں جھنجھوڑتی ہے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں اور ملک کی ترقی و استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
آج نمل میانوالی کا ایک سپاہی ہم سے بچھڑ گیا، مگر اس کی قربانی ہمیشہ زندہ رہے گی۔ اس کا نام تاریخ کے ان سنہری حروف میں لکھا جائے گا جو کبھی مٹ نہیں سکتے۔
اللہ تعالیٰ سپاہی حمید کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل دے۔ آمین۔