گوشت کھانا بھی کوئی تفریح ہے؟

جب بھی گاؤں جانا ہوتا ہے تو دوستوں کے ساتھ باہر کھانے کی محفل لازمی سجتی ہے۔
زیادہ تر ہم کڑاہی ہی کھاتے ہیں،
لیکن اب یہ لطف نہیں بلکہ ایک بے جان عادت سی محسوس ہونے لگی ہے۔
ذرا خود کو اس منظر میں رکھ کر دیکھیں۔ ہجوم سے بھرے ایک ہوٹل میں، پلاسٹک کی کرسی پر بیٹھ کر گوشت کی کڑاہی کا انتظار کرنا اب کوئی خوشی نہیں دیتا۔غور کریں تو ایسا لگتا ہے کہ ہم نے تفریح کو محض اپنے معدے کی ضرورت بنا دیا ہے۔
ہم ذہنی سکون تلاش کرنے کے بجائے پلاسٹک کی کرسیوں پر بیٹھ کر گوشت کے ٹکڑوں میں خوشی ڈھونڈنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔میرے ابو بتاتے ہیں کہ جب ان کی نوجوانی کا دور تھا تو ٹی وی کے سامنے ایک ہجوم ہوا کرتا تھا جہاں سب مل کر فلم دیکھتے تھے اور لطف اندوز ہوتے تھے۔

آج حقیقت یہ ہے کہ ہمارے شہر اب صرف کنکریٹ کے میدان بن چکے ہیں۔ جہاں پارک، کھیل کے میدان، اور کلب اور سینما ہونے چاہیے تھے، وہاں اب صرف ہوٹلوں کی لامتناہی قطاریں لگی ہیں۔
نتیجہ یہ ہوا کہ ایک عام آدمی کے پاس تفریح کے نام پر صرف کھانا کھانا ہی باقی بچا ہے۔
مہنگائی اور کمزور قوتِ خرید نے گوشت جیسی عام ضرورت کو بھی اب ایک لگژری بنا دیا ہے۔ اسی لیے ہم نے گوشت کھانے ہی کو اپنی سب سے بڑی تفریح مان لیا ہے۔

گہری نظر سے دیکھا جائے تو پاکستان اس وقت تفریح کے ایک سنگین بحران کا شکار ہے۔ ہم ایک ایسی جیل میں قید ہیں جہاں تفریح کا مطلب صرف ایک ہوٹل سے دوسرے ہوٹل تک کا سفر رہ گیا ہے۔جب عوامی مقامات پر خوف کا پہرہ ہو اور پارک کنکریٹ کی نذر ہو جائیں تو ایک آدمی کے لیے گھر سے باہر نکلنے کا جواز صرف کھانا ہی بچتا ہے۔ اشرافیہ کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ان کے پاس مہنگے کلب، ممبرشپ اور پرائیویٹ جگہیں ہیں جہاں وہ پیسے سے ہر قسم کی تفریح خرید سکتے ہیں۔ دوسری طرف دیہات کے لوگوں کے پاس بھی کھلی جگہیں، وقت اور پرسکون ماحول موجود ہے جہاں وہ مختلف سرگرمیاں کر سکتے ہیں۔

لیکن اس بحران کا اصل اور سب سے بڑا شکار مڈل کلاس طبقہ ہے۔ تفریح کا براہ راست تعلق کچھ "کرنے” سے ہے نہ کہ محض کچھ "دیکھنے” سے۔ آج مڈل کلاس کے پاس تفریح کے نام پر صرف موبائل اور ٹی وی رہ گئے ہیں۔ ہم سکرین پر مواد دیکھتے ہیں اور ایک سستی اور وقتی خوشی محسوس کرتے ہیں۔ جب ہم کوئی عملی سرگرمی کرنے کے بجائے صرف سکرین دیکھ کر لطف اندوز ہونے کی کوشش کرتے ہیں تو ہمارا دماغ ایک ایسا ہارمون پیدا کرتا ہے جو وقتی خوشی تو دیتا ہے لیکن بعد میں ہمیں شدید بے چین کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گھنٹوں سکرین دیکھنے کے بعد بھی ہم بے سکون رہتے ہیں اور پھر سے موبائل کھول کر اسی چکر میں پھنس جاتے ہیں۔

جو قوم صرف دیکھنے کی عادی ہو جائے، اس کی کچھ نیا کرنے کی صلاحیت مر جاتی ہے۔ آج ہم تخلیقی کام کرنے کے بجائے صرف دوسروں کی باتوں پر ردعمل دینے والے بن چکے ہیں۔

ہمارے پاس ایک شاندار ثقافت ہے، رسومات ہی اور تہوار ہیں جنہیں ہمیں زندہ رکھنا چاہیے، نہ کہ کنکریٹ کی نذر کر دینا چاہیے۔

تفریح کی عدم موجودگی دراصل ایک خاموش سماجی بیماری ہے۔ جب انسانی توانائی کو فن، کھیل اور تخلیق کا راستہ نہیں ملتا تو وہ لازمی طور پر تشدد، جھگڑوں اور دوسروں کی زندگی میں مداخلت کی شکل میں باہر نکلتی ہے۔

اگر آپ کے پاس وقت ہے تو جسمانی سرگرمیاں کریں۔ جگہ ہے تو کھیلیں کودیں، جنگل اور پہاڑ ہیں تو پیدل سیر کریں، موسیقی کی محفلیں سجائیں، لائبریری جائیں، کیمپنگ کریں یا دوستوں کے ساتھ مل کر مچھلی پکڑیں کھانا پکائیں اور تہوار منائیں میلے سجائیں۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ تفریح کوئی عیاشی نہیں بلکہ ایک صحت مند معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے۔
اگر ہم نے اپنی تفریح کے لیے عوامی مراکز اور ثقافتی مقامات نہیں بنائے، تو گوشت اور کڑاہی کی یہ لت ہمیں ایک ایسی ذہنی تنہائی کے گڑھے میں دھکیل دے گی جہاں سے واپسی ناممکن ہوگی۔
اگر ہم نے آج اپنے لیے جینے کے راستے نہ ڈھونڈے، تو کل ہم صرف زندہ لاشوں کی طرح وقت گزارنے کے عادی ہو جائیں گے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے