سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس عمر عطا بندیال نے 28 ویں چیف جسٹس پاکستان کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔
ایوان صدر اسلام آباد میں ہونے والی تقریب میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے جسٹس عمر عطا بندیال سے چیف جسٹس کے عہدے کا حلف لیا۔
وزیراعظم عمران خان نے بھی جسٹس عمر عطا بندیال کی تقریب حلف برداری تقریب میں شرکت کی۔ اس کے علاوہ مسلح افواج کے سربراہان، ججز، وکلا اور وفاقی وزراء کے علاوہ دیگر اہم شخصیات بھی شریک ہوئیں۔
فل کورٹ ریفرنس سے خطاب میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ ججز اپنی اصلاح کرتے ہیں اسی لیے جسٹس فائز عیسیٰ کیس میں اقلیت اکثریت میں بدلی، عدالتی فیصلے کے خلاف سوشل میڈیا پر طوفان مچایا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر ججز کے خلاف ذاتی تنقید کی جا رہی ہے بار ججز پر تنقید کے خلاف کردار ادا کرے اس سے پہلے کہ عدالت نوٹس لے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز جسٹس گلزار احمد کا بطور چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان آخری روز تھا۔
[pullquote]زیر التوا مقدمات کا بوجھ کم کرنا ہے، وکلا تیاری کرکے آئیں: چیف جسٹس پاکستان[/pullquote]
نئے چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا ہے کہ زیر التوا مقدمات کا بوجھ کم کرنا ہے لہذا وکلا تیاری کر کے عدالت آئیں اور التوا مانگنے سے گریز کریں۔
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی حیثیت سے کمرہ عدالت آمد پر وکلا کی جانب سے جسٹس عمر عطا بندیال کو مبارکباد پیش کی گئی۔
وکلا کا کہنا تھا کہ کمرہ عدالت میں آپ کو بطور چیف جسٹس پاکستان خوش آمدید کہتے ہیں۔
چیف جسٹس عمرعطا بندیال کا کہنا تھا کہ بہت شکریہ، آپ جیسے وکلا کا ساتھ خوشی کا باعث ہے۔
اس موقع پر چیف جسٹس کا یہ بھی کہنا تھا کہ زیر التوا مقدمات کا بوجھ کم کرنا ہے، وکلا تیاری کرکے آئیں اور التوا سے گریز کریں۔
اس موقع پر سینئر وکیل نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ میں آپ کی ریٹائرمنٹ کا انتظار کروں گا تاکہ آپ سے دوبارہ ملاقات ہو سکے۔ وکیل نعیم بخاری کی بات پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے قہقہ بھی لگایا۔
خیال رہے کہ جسٹس عمر بندیال نے آج ہی سپریم کورٹ کے 28 ویں چیف جسٹس کی حیثیت سے حلف اٹھایا ہے۔