پولیس کا عامرلیاقت کی میت کا پوسٹ مارٹم کرانے کا فیصلہ

کراچی: پولیس نے عامرلیاقت حسین کی میت کا پوسٹ مارٹم کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق عامرلیاقت حسین کی موت کی وجوہات جاننے کے لئے پوسٹ مارٹم کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔حکام کا مزید کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم کے لئے عامر لیاقت کے بیٹے احمد عامرکوراضی کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس سلسلے میں ان کے لواحقین سے رابطہ کرنے کی کوشش کی ہے۔

عامرلیاقت کے بیٹے احمد عامر اوربیٹی دعا عامرنے اپنے مرحوم والد کا پوسٹ مارٹم کرانے سے انکارکردیا تھا۔ عامرلیاقت گزشتہ روز کراچی میں انتقال کرگئے تھے۔

[pullquote]عامرلیاقت کے بچوں کا پوسٹمارٹم کرانے سے انکار[/pullquote]

کراچی: عامرلیاقت کی پہلی سابقہ اہلیہ سیدہ بشریٰ اقبال کا کہنا ہے کہ ان کے بچوں نے والد کا پوسٹمارٹم کرانے سے انکار کردیا ہے۔

سوشل میڈیا پربیان میں عامرلیاقت کی سابقہ پہلی بیوی سیدہ بشریٰ اقبال نے کہا کہ مرحوم کے دونوں وارثین احمد اور دعا عامر نے ان کا پوسٹ مارٹم کروانے سے منع کردیا ہے اور ان کی خواہش کے مطابق مرحوم کو عزت واحترام کے ساتھ ان کی آخری آرام گاہ تک لے جایا جائے گا۔

بشریٰ عامرکا مزید کہنا تھا کہ ان کی نماز جنازہ آج 10 جون کوبعد نماز جمعہ دوپہر2 بجے جامع مسجد عبداللہ شاہ غازی کلفٹن پرادا کی جائیگی اوروہیں مزار کے احاطے میں تدفین ہوگی۔

[pullquote]’مجھے ہر کسی نے استعمال کیا‘، عامر لیاقت کا صحافی کو بھیجا گیا آخری مبینہ وائس نوٹ[/pullquote]

گزشتہ روز خالق حقیقی سے جا ملنے والے رکن قومی اسمبلی عامر لیاقت حسین کا انتقال سے چند گھنٹے قبل صحافی کو بھیجا گیا آخری مبینہ وائس نوٹ سامنے آیا ہے۔

ایم کیو ایم کی سابق رکن اسمبلی ارم عظیم فاروقی کی جانب سے سوشل میڈیا پر عامر لیاقت حسین کی تصویر ساتھ ایک وائس نوٹ شیئر کیا گیا ہے جس کے کیپشن میں انہوں نے لکھا کہ ہے عامر لیاقت نے ایک صحافی کو آخری وائس نوٹ بھیجا جس کا اختتام انتہائی افسردہ تھا، اللہ پاک عامر لیاقت حسین کی مغفرت فرمائیں۔

شیئر کیے گئے وائس نوٹ میں سنا جا سکتا ہے کہ عامر لیاقت بھرّائی ہوئی آواز میں کہہ رہے کہ ’سن تو سبھی لیتے ہیں لیکن آپ تو کم از کم سمجھتے ہیں، اسی لیے میں جب یہاں سے جا رہا ہوں تو دل بہت دکھا ہوا ہے کیونکہ ہمارے والدین ہجرت کر کے یہیں رہنے کے لیے آئے تھے، یہ (پاکستان) ہر وقت عزیز رہے گا۔‘

عامر لیاقت حسین اس وائس نوٹ میں کہہ رہے ہیں کہ ’میں چاہے دنیا میں کہیں پر بھی ہوں، دل پر لکھا ہے پاکستان، میرا تو خون بھی شاید سبز ہو گا لیکن میں بہت زیادہ دکھی ہوں، مجھے سب نے استعمال کیا۔‘

مرحوم عامر لیاقت حسین کو یہ کہتے بھی سنا جا سکتا ہے ’آؤں گا تو کبھی نہیں واپس پلٹ کر، لیکن آپ دیکھیں گے مجھے، میرا رنگ جو میں نے یہاں چھپا رکھا اور لوگ وہ نہیں دیکھ سکے، لوگ تڑپیں گے لیکن میں یہاں واپس نہیں آؤں گا۔‘

خیال رہے کہ ممتاز ٹی وی اینکر، مقرر اور ایم این اے عامر لیاقت گزشتہ روز اپنے کمرے میں بے ہوش پائے گئے، ملازمین کی اطلاع پر عامر لیاقت کو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی موت کی تصدیق کی گئی۔

ملازمین کا کہنا تھا کہ بدھ کی رات عامر لیاقت کے دل میں تکلیف ہو رہی تھی انہیں اسپتال جانے کا کہا لیکن انہوں نے انکار کر دیا، ڈاکٹرز کے مطابق عامر لیاقت کو مردہ حالت میں اسپتال لایا گیا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے