خیبرپختونخوا کا 1332 ارب کا بجٹ پیش،سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 16 فیصد اضافہ

پشاور: صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے خیبرپختونخوا کا 1332 ارب سے زائد کا بجٹ پیش کردیا۔

محمود جان کی زیر صدارت کے پی اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں بجٹ پیش کیا گیا۔ وزیراعلی خیبرپختونخوا محمود خان بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔

وزیر خزانہ نے تقریر میں بتایا کہ بجٹ میں ترقیاتی پروگرام کا حجم 418ارب روپے ہے۔ دس لاکھ خاندانوں کے لیے فوڈ کارڈ کو شامل کیا گیا ہے جس پر 26 ارب روپے لگیں گے۔ صحت کارڈ میں سرکاری ملازمین کے لیے او پی ڈی بھی شامل ہے، خواتین کے لیے اسپیشل اسکیم کے تحت 3.5 ارب، بزرگ شہریوں اور خواجہ سراؤں کے لیے 5 کروڑ روپے مختص کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ پیٹرول اور دیگر اخراجات میں کمی کے لیے اصلاحات کی گئی ہیں، پیٹرول کے بے دریغ استعمال سے بچنے کے لیے سرکاری ملازمین اور محکموں کو فلیٹ کارڈ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ ایگزیگٹیو الاؤنس کو کارکردگی الاؤنس میں تبدیل کر دیا گیا۔ سرکاری ملازمین جمعہ کے روز ورک فرام ہوم (گھر سے کام) کریں گے۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ مفت ادویات کے لیے 10 ارب روپے، ابتدائی و ثانوی تعلیم کے لیے 144 ارب روپے رکھے گئے ہیں، دیر ، بونیر، چارسدہ اور ہری پور میں چار نئے میڈیکل کالجز بنائے جائیں گے۔ نوجوانوں کو 25 ارب روپے کے قرضے دئیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی محصولات میں پچھلے تِین سال میں 122 فیصد تاریخی اضافہ ہوا، جو تاریخ میں پہلی مرتبہ 75 ارب روپے سے زیادہ ہوں گے۔ خیبر پختونخوا میں ترقیاتی اخراجات کی شرح پنجاب اور سندھ سے زیادہ ہے۔

آئندہ مالی سال کے دوران ماحول دوست سیاحت کے لیے 15.5 ارب روپے اور بلین ٹری سونامی کے لئے 1.8 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ سیاحت کے شعبے کا ترقیاتی بجٹ 14.6 ارب روپے رکھا گیا ہے۔

پچھلے سال کے مقابلے میں چار شعبوں صحت، تعلیم،پولیس اور توانائی کے بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا۔ صحت کے بجٹ میں 55 ارب روپے،ابتدائی وثانوی تعلیم 27 ارب ، پولیس کے بجٹ میں 14 اور توانائی کے بجٹ میں 11 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔

اگلے مالی سال کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 16 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔

خیبرپختونخوا کو مرکز کی جانب سے مجموعی قومی وسائل سے 671 ارب روپے موصول ہونگے۔ صوبائی حکومت کی اپنے وسائل سے 80 ارب آمدنی جب کہ بجلی کے منافع سے 62 ارب کی آمدنی متوقع ہے۔

مرکز کی جانب سے صوبہ کو 68 ارب روپے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے فراہم کیے جارہے ہیں جبکہ غیرملکی وسائل سے ترقیاتی کاموں کے لیے 93 ارب روپے ملنے کا امکان ہے۔

اگلے مالی سال کے بجٹ کو صوبائی حکومت نے خوددار بجٹ کا نام دیا ہے۔ طلبہ کے لیے وظائف اور اسکولوں میں سائنس لیبارٹریوں کا قیام ترقیاتی پروگرام کا حصہ ہے۔

26 ارب روپے سے 10 لاکھ خاندانوں کو ماہانہ 2100 روپے کی فراہمی، طلبہ کو تعلیمی کارڈ، کسانوں کو کسان کارڈ کی فراہمی، جدید ڈیری فارمز کا قیام ،سڑکوں کی تعمیر اورڈیموں کی تعمیر بھی بجٹ کا حصہ ہے۔

[pullquote]خیبرپختونخوا میں تنخواہوں میں16 فیصد اضافہ، 63 ہزار ملازمین کی مستقلی کی منظوری[/pullquote]

پشاور: خیبرپختونخوا کابینہ نے اگلے مالی سال 23-2022ء کے 1 ہزار 332 ارب روپے کے بجٹ کی منظوری دے دی۔

صوبائی کابینہ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 16 فیصد اور پنشن میں 15 فیصد اضافے کی منظوری دیدی۔ یہ اضافہ گریڈ 1 سے 19 تک کے ملازمین کے لیے ڈسپیریٹی الاؤنس (DRA) کے علاوہ ہے، جس میں پولیس کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

کابینہ نے جنگلات میں لگی آگ بجھانے میں شہید ریسکیو اہلکاروں کیلئے شہدا پیکیج اور دس دس لاکھ روپے امداد کا اعلان بھی کیا۔

کابینہ نے تاریخ میں پہلی مرتبہ 63000 ملازمین کی مستقلی کی بھی منظوری دیدی۔ یکم جولائی سے مستقل ہونے والے ملازمین میں 675 ڈاکٹر،58 ہزار اساتذہ اورضم اضلاع کے128 منصوبوں کے4079 ملازمین شامل ہیں ۔

صوبے کے دس لاکھ مستحق خاندانوں کیلئے رعایتی نرخوں پر راشن مہیا کرنے کیلئے انصاف فوڈ کارڈ کے تحت 26 ارب روپے مختص کرنے کی بھی منظوری دی۔

حکومت نے ایگزیکٹو الاﺅنس کو پرفارمنس الاﺅنس میں تبدیل کردیا۔ حکومت نے گریڈ 7 سے16 تک پولیس اہلکاروں کے الاﺅنس میں ڈی آر اے کے برابر اضافہ کردیا۔

جمعہ کے دن ورک فراہم ہوم کی پالیسی کی متعارف کرادی گئی ۔ کنٹری بیوٹری پنشن اسکیم میں موجودہ ملازمین کو بھی شامل ہونے کا اختیار دے دیا گیا۔

خیبرپختونخوا حکومت نے گزشتہ سال کم کیے گئے ٹیکس نرخ اگلے مالی سال بھی برقراررکھنے کا فیصلہ کیا ۔ ابتدائی وثانوی تعلیم میں طلباءوطالبات سے کوئی فیس نہیں لی جائے گی۔ اگلے مالی سال لائبریری اینڈ آرکائیوز اور ہاسٹل فیس ختم کردی گئی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے