آج جمعے کی نماز سے قبل پاکستان کے صوبہ پنجاب میں احمدی کمیونٹی کے مرکز ربوہ کے مین بس سٹاپ پر ایک مذہبی جنونی نے احمدی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے 62سالہ نصیر احمد سحاب کو خنجروں کے وار کر کے قتل کر دیا. وہ اپنے عزیزوں کے لیے قبرستان میں دعا کر نے کے بعد بس اسٹاپ کے قریب اخبار کے سٹال پر اخبار پڑھ رہے تھے . عینی شاہدین کے مطابق قاتل نے مقتول کو لبیک یارسول اللہ اور خادم رضوی کی حمایت میں نعرے لگانا کا کہا ، انکار پر قتل کر دیا.
ویڈیو لنک
نصیر احمد سحاب کے لواحقین میں ایک بیوہ اور دو بیٹیاں ہیں . وہ احمدی کیمونٹی کے پرجوش اور متحرک کارکن تھے .
قاتل نے اپنا نام محمد شہزاد حسن سیالوی رضوی بتایا ہے . وہ حافظ قرآن ہے اور سرگودھا کے گاؤں سلاں والی کا رہائشی ہے .
قاتل کو پولیس اہلکار نے موقع پر گرفتار کرلیا جب پولیس اہلکار اسے گرفتار کر کے لے جارہے تھے تو وہ اس وقت بھی تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی کی حمایت میں نعرے بازی کے ساتھ ساتھ تحریک لبیک کی جانب سے بطور نعرہ متعارف کروائی گئی روایت من سب نبیا فاقتلوہ کے نعرے لگا رہا تھا .
پاکستان میں جماعت احمدیہ کے ترجمان سلیم الدین احمد کے مطابق پاکستان میں احمدیوں کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے . ان کا یہ کہنا ہے کہ پاکستان میں اب احمدیوں کے لئے زندہ رہنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے.