خیبر پختون خوا اور بلوچستان سمیت ملک بھر میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 45 افراد جاں بحق جبکہ 115 سے زائد افراد زخمی ہیں۔
ملک بھر میں مسلسل بارشوں کے بعد سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 980 سے تجاز کرگئی ہے، گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران سندھ میں 33، خیبر پختونخوا میں 10، پنجاب میں 2 اموات رپورٹ ہوئی ہیں جبکہ متاثرین کی تعداد 57 لاکھ 68 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کےدوران 12 ہزار گھر ملیا میٹ، ساڑھے 8 ہزار لائف اسٹاک، 3 ہزار 116 کلومیٹر شاہراہیں، 149 پُل سیلاب کی نظر ہوئے۔
دوسری جانب سندھ میں سیلاب سے 49 لاکھ، پنجاب میں 4 لاکھ 45 ہزار، بلوچستان میں 4 لاکھ 85ہزار افراد کیمپوں میں موجود ہیں۔
واضح رہے کہ ملک کے مختلف صوبوں میں ریکارڈ ہوئی اموات میں سندھ سر فہرست ہے جہاں 339 افراد لقمہ اجل بنے، بلوچستان 234، کے پی 195 جبکہ پنجاب میں ہلاکتوں کی تعداد 167 رہی۔
[pullquote]سوات: سیلاب ہر شے تنکوں کی طرح بہا لے گیا، سینکڑوں مکان اور درجنوں ہوٹلز تباہ[/pullquote]
سوات میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے 15 افراد جاں بحق اور درجنوں مکان و ہوٹلز تباہ ہو گئے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق سوات میں سیلاب سے 130 کلومیٹر کی سڑکیں تباہ ہوگئیں جبکہ 15رابطہ پل مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو گئے۔
سیلابی ریلے سے 100 سے زائد مکانات اور دیگر عمارتیں تباہ ہوئیں جبکہ 50 کےقریب ہوٹلز تباہ ہو گئے۔
کالام میں دریا کنارے بنے ہوٹل تباہ و برباد ہوگئے، بحرین میں بھی سیلابی ریلا راستے میں آنے والی ہر شے تنکوں کی طرح بہا لے گیا۔
سوات میں درجنوں درخت جڑ سے اکھڑ گئے، گلیاں اور سڑکیں دریا کا منظر پیش کرنے لگیں، گاڑیوں کو بھی سیلابی ریلا اپنے ساتھ لے گیا جبکہ سوات کا سب سے بڑا ایوب برج بھی بند ہو گیا۔
ادھر سوات ایکسپریس وے لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے پلائی کے مقام پر جزوی طور پر بند کر دی گئی، ضلع بھر میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔
[pullquote]کے پی کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال، نوشہرہ میں پانی گھروں اور کھیتوں میں داخل[/pullquote]
شدید بارشوں کے باعث خیبر پختونخوا کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال برقرار ہے جبکہ نوشہرہ کے کئی علاقوں میں سیلابی پانی گھروں اور کھیتوں میں داخل ہو گیا ہے۔
ڈی سی نوشہرہ کے مطابق سیلابی پانی پبی، محب بانڈہ میں پانی کھیتوں اور گھروں میں داخل ہوگیا ہے جبکہ بانڈہ شیخ اسماعیل، گھڑی مومن اور جواد داودزئی کے علاقوں میں بھی سیلابی پانی داخل ہوگیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر نوشہرہ کا کہنا ہے کہ سیلابی صورتحال کے باعث پہلے سے علاقوں کو خالی کرا لیا گیا تھا جس کے باعث صورتحال بہتر ہے، اب تک 30 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے،کچھ متاثرین کیمپوں میں آئے اور بعض نے رشتے داروں کے ہاں قیام کیا۔
انہوں نے بتایا کہ متاثرہ اضلاع میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، 100 امدادی کیمپ بھی قائم کیے گئے ہیں،ہر تحصیل میں 30 سے 35 کیمپ لگائے گئے ہیں، سیلاب متاثرین کو خوراک اور دیگر ضروری اشیاء فراہم کی جا رہی ہیں۔
[pullquote]خیبر پختونخوا کے مختلف دریاؤں میں سیلابی صورت حال[/pullquote]
فلڈ سیل کے مطابق خیبر پختونخوا کے مختلف دریاؤں میں سیلابی صورت حال ہے اور دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 3 لاکھ کیوسک سے تجاوز کرگیا ہے۔
ورسک کے مقام پر دریائے کابل میں اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 36 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اٹک خیرآباد کے مقام پر بھی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔
دریائے کابل میں ادیزئی پل کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ 82 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ادھر دریائے سوات میں خوازہ خیلہ کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے جہاں پانی کا بہاؤ 71 ہزار کیوسک ہے، دریائے سوات میں ہی چکدرہ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے جہاں بہاؤ 68 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔
چارسدہ کے مقام پر بھی دریائے جیندی انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے جہاں پانی کا بہاؤ 41 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔
[pullquote]پختونخوا میں سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں وبائی امراض پھوٹ پڑے[/pullquote]
خیبر پختونخوا میں سیلاب سے متاثرہ مختلف اضلاع میں وبائی امراض پھوٹ پڑے ہیں۔
محکمہ صحت کے پی کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر سہیل فاروقی نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں 15 ہزار سے زائد افراد پیٹ، قے، دست اور آنکھوں سمیت مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں محکمہ صحت نے 35 کیمپ لگائے ہیں، کیمپوں میں صحت کا عملہ متاثرین کو طبی امداد فراہم کر رہا ہے۔
ڈاکٹر سہیل فاروقی کا کہنا ہے کہ سانپوں کے کاٹنے کی ویکسین بھی متاثرہ علاقوں میں بھیجی گئی ہیں، تمام کیمپوں کو ادویات بھی فراہم کی جا رہی ہیں، 50 سے زائد مختلف بیماریوں کی ادویات متاثرہ علاقوں میں بھیجی گئی ہیں۔
واضح رہے کہ ملک بھر میں بارش و سیلاب سے مزید 82 اموات کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 982 ہو گئی ہے جبکہ 8 لاکھ کے قریب مویشی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔