حکومت کی عدم دلچسپی :سماجی کارکنوں نے کیسے نوشہرہ کے سیلاب متاثرین کی مدد کی

نوشہرہ کے بیلہ پیرپیائی کے مجید آباد کی چالیس سالہ بیوہ مسماۃ مریم کا گھرجب پانی میں ڈوب گیا تو اس نے بڑی مشکل سے اپنی بیمار خالہ اور کمسن بچے کو گھر سے نکالا۔ اس نے اپنی بیمار خالہ کو رشتہ دار کے گھر چھوڑدیا اور گھر سے چند گز کے فاصلے پر ریل کی پٹڑی پر پورا دن اسی انتظارمیں گزارا کہ جوں ہی پانی کی سطح نیچے ہو، تاکہ وہ جلدی سے گھر جاسکے۔ وہ آج بھی ان دنوں کی بے بسی کو یاد کرکے روتی ہیں ۔

علاقہ بیلہ پیر پیائی کے چار گاؤں دریائے کابل کے کنارے آباد ہیں، جن میں لیاقت آباد،مجید آباد،غازی آباد اور محسن آباد شامل ہیں اوریہ چاروں گاؤں سیلاب کی زد میں آگئے اورگھروں میں پانی داخل ہوگیا۔ مسماۃ مریم جسکی آمدن کا کوئی زریعہ نہیں، کے لئے یہ کچا گھر کسی نے بنا کر دیاتھا لیکن جب سیلاب کا پانی اس گھر میں داخل ہوا تو وہ مجبورا ریل کی پٹڑی کے کنارے اپنے بچے کھچے سامان کےساتھ دن گزارتی اوررات کسی نزدیکی پر گھر میں جاکر گزارتی۔

پانچ دن بعد پانی کا لیول کم ہوا تو پورا علاقہ کیچڑسے بھرا تھا۔ وہ بڑی مشکل سے گھر گئی۔ جب گھر میں داخل ہوئی تو گھر میں سارا سامان پانی اور کیچڑ نے خراب کردیا تھا، نہ کھانے کا کچھ بچا تھا اور نہ استعمال کرنے کا۔اس دوران کسی حکومتی یا کسی غیرسرکاری ادارے نے ان کے ساتھ کوئی مدد نہیں کی لیکن کچھ خواتین رضاکاروں نے اس کیلیئے کھانے پینے کا انتظام کیا اور بعد میں گھرکے استعمال کیلئے کچھ برتن چارپائی، اور بسترے بھی فراہم کیے.

خیبرپختونخواکے ضلع نوشہرہ کوسوات اور چارسدہ کے بعد حالیہ سیلاب نے بری طرح متاثر کیا اور سینکڑوں گھروں کو مکمل یا جزوی طور پر نقصان پہنچایا۔ دریائے کابل میں پانی کا بہاؤ بڑھنے سے سیلابی ریلے نے نوشہرہ کے مقام پر حفاظتی دیوار توڑ ڈالی جسکی وجہ سے نوشہرہ کو بہت نقصان ہوا۔

سیلاب کے دنوں میں غریب لوگ مدد کیلئے ترس رہے تھے جبکہ سرکار غائب تھی ایسے میں کچھ لوگ اتنے مایوس ہوگئے کہ وہ خودکشی کے بارے میں سوچنے لگے۔ نوشہرہ کلاں کی پینتیس سالہ نسرین بھی ایسے کرب سے گزری ہے۔

نسرین کرائے کے مکان میں رہتی تھی ۔ جب سیلاب آیا توپانی ان گھرمیں داخل ہوا اور انکا سارا سامان اور خوراک برباد ہوگیا۔ لیکن جب انہوں نے دوبارہ گھر کیچڑ سے صاف کردیا تومالک مالکان نےانہیں گھر سے نکال دیا اورسیلاب متاثریں کیلئے ریلیف کے پیسے اور سامان وہ خود لینے لگے۔انکا شوہر مزدور تھااور ان دنوں ان کی کوئی مزدوری نہیں لگ رہی تھی اور سرسے چھت بھی لے لیا گیا۔

سیلاب کے بعدان کےخاوند اور بچوں کو خارش کی بیماری لگ گئی۔ان کے پاس نہ کھانے کو کچھ تھا اور نہ رہنے کو چھت۔ علاج کیلئے بھی پیسے نہیں تھے۔ جس کی وجہ سے مایوس ہوکراسں نے بچیوں سمیت دریائے کابل میں چھلانگ ڈالی۔ اگر۱۱۲۲ کے ریسکیو اہلکار ان کو نہ اس وقت نہ بچاتے تو وہ اور ان کے بچے آج زندہ نہ ہوتے۔

نسرین نے کہاکہ اس واقعے کے بعد ایک رضاکار خاتون نے موقعے پر پہنچ کر کچھ نقد پیسے دیئے جبکہ ایک شخص نے انہیں گھر بنانے کے لئے تین مرلے زمین بھی دی، جس پر خاتون رضاکار نے کمرہ بنانے کا وعدہ کیا اورانہیں بستراور چارپائی بھی مہیا کئے۔

مقامی رضاکاروں اور اہل ثروت نے نہ صرف متاثرہ لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچانے میں مدد کی بلکہ ان کے رہائش اور کھانے پینے کابھی بندوبست کیا۔

نوشہرہ کے خاتون رضاکار سیمابابرجس نے نسرین کی مدد کی نے بتایا کہ نسرین نامی خاتون کی مشکلات سےآگاہ ہونے کے بعد اس نے اور مخیر حضرات کی مدد سے ان کواشیاء ضرورت فراہم کیں اور ان کو نقد پیسے بھی دئیے اور ایک کمرہ بنانے کا بھی ان سے وعدہ کیا۔

جب ڈسٹرکٹ نوشہرہ سیلاب سے متاثر ہوا تو خاتون سماجی کارکن سیما بابر نے اس وقت چالیس خواتین رضاکار اور تیس تک مرد رضاکاروں پر مشتمل ایک تنظیم بنا ڈالی جس کانام محب وطن ولنٹیئرز رکھ دیا جس میں محکمہ ہیلتھ اور محکمہ ایجوکیشن کے اہلکار اور طلبہ و طالبات بھی شامل تھے۔ رضاکاروں نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورے شروع کئے اور جہاں پر جس چیز کی ضرورت ہوتی وہاں پر وہ چیزیں مہیا کردیتے ۔انہوں نے تحصیل نوشہرہ کے علاقہ امان گڑھ میں شیخ عبدالغفور بابا کے لوگوں کو بستر،چارپائی اور اشیاء ضروریہ فراہم کی۔

انہوں نے اب تک خواتین رضا کاروں کی مدد سے ضرورت مند اور بیوہ خواتین کی مدد جاری رکھی ہوئی ہے اور سو سے زائد ان خواتین کے گھروں کی بحالی کی، جس کے ساتھ نہ حکومت نے مدد کی تھی اور نہ کوئی غیرسرکاری ادارے ان تک پہنچے تھے۔

سیما بابر کے مطابق سیلاب کے دوران لوگوں کو فوری مدد کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ حکومتی مدد تو سروے اور ڈیٹا مکمل کرنے کے بعد ہوتاہے۔

ضلع نوشہرہ کے علاقہ نوشہرہ کلاں سے تعلق رکھنے والے ناصر خان نے آئی بی سی کو بتایا کہ حالیہ سیلابی ریلہ نوشہرہ کلاں میں حفاظتی دیوار کے کچہ حصے کو بہا لے گیا تھا جس کی وجہ سے پانی نوشہرہ کلاں کے آبادی میں داخل ہوگیا تھا اور تقریبا سات فٹ تک پانی تھا اگر دریائے کابل کے کنارے حفاظتی دیواروں کو مضبوط کیا جائے تومستقبل میں نوشہرہ کلاں کو سیلابی ریلے سے بچایاجاسکتاہے۔

انہوں نے کہاکہ بیلہ پیر پیائی کے مقام پر بھی پانی بند کے اوپر سے گزرکر بیلہ کے آبادی میں داخل ہوگیا تھا۔ اگر اس علاقے میں حفاظتی بند کی اُونچائی بڑھا دی جائے تو مستقبل میں بیلہ کی آبادی بھی سیلاب سے بچائی جاسکتی ہے۔

پراونشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے)خیبرپختوںخوا کے مطابق حالیہ سیلاب میں ضلع نوشہرہ میں کل 72678 لوگ متاثر ہوئے ہیں ،جن کو کیمپوں میں منتقل کیا گیا تھا۔سیلاب کے دوران تین افراد جاں بحق جبکہ سات افراد زخمی ہوگئے تھے اس طرح ضلع نوشہرہ میں کل 979گھرمتاثر ہوئے ہیں .جس میں 23 گھر مکمل طور پر تباہ ہوچکے ہیں جبکہ 956 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق حالیہ سیلاب میں ضلع نوشہرہ میں سیلابی پانی سے 20ہزارنوسو25افراد کو ریسکیو کرکے محفوظ مقامات پر منتقل کردئیے گئے تھے۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق متاثرہ علاقوں میں متاثرہ گھروں کے معاوضہ کے لئے آن لائن سروے جاری ہے اور متاثرہ گھروں کی معاوضے کو خیبربینک کے زریعے ادا کیا جائے گا۔ صوبائی حکومت کی جانب سے حالیہ سیلاب یا مون سون کے دوران مکمل تباہ شدہ گھروں کے مالکان کو سپیشل پیکج کے تحت چار لاکھ روپے دیئے جائیں گئے جبکہ جزوی نقصان کی ضرورت میں ایک لاکھ ساٹھ ہزارروپے دئیے جائیں گے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے