حضور نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی انسانوں کے لئے ایک مثالی نمونہ ہے۔ آپ کی عائلی زندگی، طرزمعاشرت اور عبادت گزاری کی طرح آپ کی معاشی زندگی بھی انسانوں کے لئے بیش قیمت رہنمائی فراہم کرتی ہے ۔ لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ اس طرف بہت کم توجہ دی گئی ہے۔ سیرت طیبہ پر بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں ۔لیکن اس موضوع کو بہت کم چھیڑا گیا ہے۔ اس موضوع پر جو کتابیں موجود تھیں وہ بھی اب بہت نایاب ہوگئی ہیں۔
بہرحال تھوڑی بہت تحقیق اور جستجو کے بعد حضور صل اللہ علیہ وسلم کے ذرائع آمدن کے بارے میں ہمیں جو مواد ملا ہے وہ ہم یہاں اپنے قارئین کے ساتھ شئیر کرینگے۔ یہاں یہ بات زیرنظر رہنی چاہئے کہ نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کی جتنی بھی معاشی سرگرمیاں تھیں ، چاہے تجارت ہو یا بکریاں چرانا ہو، وہ سب نبوت ملنے سے پہلے کی تھیں۔ نبوت ملنے کے بعد رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم دعوت وتبلیغ اور دیگر امور چلانے میں اس قدر مشغول ہوگئے تھے کہ آپ کے پاس ذاتی کاروبار کا وقت ہی نہیں بچتا تھا۔
آپ کی بعثت اس زمانے میں ہوئی جب جاہلیت کی طبقاتی تقسیم نے معاشی جدوجہد کو بے حد متاثر کیا تھا۔ سود کا کاروبار عام تھا، سرمایہ دار طبقہ سود جیسی لعنت سے کمزور اور غریب عوام کا خون نچوڑ رہا تھا۔معاشرتی برائیوں ، جوئے اور شراب نوشی نے معاشی جدوجہد کو مکمل مفلوج کردیا تھا۔مفاد پرستی کے اس دور میں رسول اللہ علیہ وسلم کا حصول معاش کے لئے کردار نہایت منفرد تھا۔
رسول کریم (ص) نے خود اپنے ہاتھوں سے کماکر تمام انسانوں کو یہ سبق دیا کہ انسان خواہ کتنا ہی عظیم المرتبت ہو،اسے معاشی لحاظ سے خود کفیل ہونا چاہئے، نہ کہ دوسروں پر بوجھ بنے۔آپ نے ہمیشہ اپنے اصحاب کو یہ سبق دیا کہ رزق حلال کمائیں اور باعزت روزگار اختیار کریں۔چنانچہ حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ کوئی بندہ ایسا کھانا نہیں کھاتا جو اپنے ہاتھ کی کمائی سے بہتر ہو۔
خود آپ (ص) نھ حلال اور باعزت روزگار اختیار کرکے اپنے امت کو یہ تعلیم دی کہ وہ حلال اور باعزت روزگار اختیار کرکے ہی معاشرے میں اعلی مقام حاصل کرسکتے ہیں۔ بھکاریوں کی کوئی عزت نہیں ہوتی۔
منصب نبوت پر سرفراز ہونے سے پہلے آپ (ص) نے بکریاں بھی چرائی اور تجارتی اسفار بھی کئے۔والدین کی وراثت میں سے آپ(ص) کو والد کی طرف سے ایک عدد مکان ملا تھا جب کہ والدہ کی طرف سے ایک لونڈی ملی تھی۔ بچپن میں آپ (ص) بکریاں چراتے تھے ۔ 12 سال کی عمر میں آپ (ص) نے اپنے چچا ابوطالب کے ساتھ پہلا تجارتی سفر شام کوکیا۔دوسرا سفر آپ نے 25 سال کی عمر میں باقاعدہ ایک تاجر کی حیثیت میں کیا اور اس میں آپ کو کافی نفع حاصل ہوا۔ اس کے بعد آپ (ص) نے حضرت خدیجہ (رض) کا سامان تجارت لے کر شام کا سفر کیا اور انہوں نے آپ(ص) کو متعین اجرت دی۔ چنانچہ خود حضور (ص) فرماتے ہیں کہ میں نے خدیجہ سے دوسفروں کی اجرت ایک اونٹنی لی تھی۔
حضرت خدیجہ سے شادی کے بعد آپ(رض) نے اپنا سارا مال حضور(ص) کے حوالے کیا کہ آپ جیسے چاہیں اس کو خرچ کریں۔ لیکن یہاں یہ بات یاد رہے کہ حضور (ص) کے پاس اپنا کافی مال موجود تھا جیسا کہ روایت ہے جب آپ کو نبوت ملی توگھر آکر خدیجہ (رض) نے آپ کو تسلی دی کہ آپ گھبرائیں نہیں آپ ناداروں اور مسکینوں کی مدد کرتے ہیں (مالی لحاظ سے) ۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ حضور دوعالم (ص) مالی لحاظ سے کافی اچھے تھے۔ اس کے علاوہ قریشی صحابہ خاص کر ابوبکر صدیق، سعدبن معاذ اور عمار بن حزم (رض) آپ کے ساتھ مالی اعانت فرماتے تھے۔عام صحابہ آپ(ص) کی خدمت میں تحفے تحائف بھیجتے تھے۔آپ صدقہ نہیں لیتے تھے البتہ ہدیہ قبول فرماتے تھے ۔
اسی طرح انصاری صحابہ نے بھی دل کھول کر آپ(ص) کی مدد فرمائی۔ جب آپ مدینہ تشریف لے گئے تو حضرت ابوایوب انصاری کے ہاں قیام فرمایا۔ جب تک آپ (ص) ان کے ہاں مقیم رہے، آپ کی تمام ضروریات پوری کرنے کا شرف ابوایوب انصاری کو حاصل رہا۔ عام انصار اپنے باغات میں سے کھجور کے کسی درخت کو نشان لگاکر آپ(ص) کے لئے وقف کردیتے،جس کی آمدن آپ کے لئے ہوتی۔
مال غنیمت کا پانچواں حصہ آپ(ص) کے لئے مختص تھا۔یہ اصل میں بیت المال کا حصہ ہوتا تھا لیکن اس سے آپ(ص) کی ضروریات بھی پوری ہوتی تھیں۔ رسول اللہ کے لیے تین وصایا تھے: بنو نظیر،خیبراور باغِ فدک۔ اِس میں بنو نظیر کامال آپﷺ کی ذاتی ضروریات، اہل خانہ کا خرچ،مہمانوں کی ضیا فت، اور مجاہدین کے ہتھیاروں اور سواریوں پر خرچ ہو تا تھا اور فدک کی پیداوار محتاج مسافروں اور مساکین وغربا کے لیے مختص تھی اورخیبر کی پیداوار تین حصوں میں تقسیم تھی:دو عام مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لیے اور ایک حصہ آپﷺ کے اہل وعیال پر خرچ ہو تا تھااور خیبر کی زمین رسولﷺ نے اہل خیبر کو نصف پیداوار لینے کے معاہدہ پر دے رکھی تھی۔
مالِ فے ایسے مال کو کہتے ہیں جو دشمن سے لڑائی کئے بغیر حا صل ہو جا ئے اوریہ رسول اللہﷺ کے لیے ہی خا ص تھا۔ اور آپ کو اختیار بھی تھا کہ اس میں سے جس کوچاہیں دیں۔ باغِ فدک جو کہ بنو نضیر کی جلا وطنی کے وقت آپﷺ کو اللہ نے عطا کیاتھا، بطورِ مالِ فئے رسول اللہﷺ کے پاس تھا۔ آپ اس میں سے کچھ حصہ اپنے اہل وعیال پر خرچ کرتے تھے اور کچھ حصہ غربا اورمساکین میں تقسیم کر دیتے تھے جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے۔
بیت المال میں سے بھی رسول اللہﷺ کا حصہ مقرر تھا اور اِس سے آپ کے اہل و عیا ل پر خرچ کیا جا تا تھا۔آپﷺ نے خیبر کی زمین نصف پیداوار پر مزارعت کے لیے دے رکھی تھی .ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کی کفالت کا انتظا م یہ تھا کہ بنو نظیر کے نخلستا ن جو آپ کو مال غنیمت میں آپ کے حصہ کے طور پر ملے تھے ،کی پیداوار میں سے اِن قَانتات (صبر کر نے والیوں)کا حصہ مقرر کیا تھا جسے فروخت کرکے ان کی سال بھر کی گذران کا سامان کیا جاتا تھا۔ جب خیبرفتح ہوا تو تمام ازواجِ مطہراتؓکے لیے فی کس ۸۰ وسق کھجو ر اور ۲۰ وسق جَو سالانہ مقرر ہوا تھا۔ یہ طریقۂ کفا لت حضرت ابو بکرؓ کے دورِ خلا فت میں بھی چلتارہا۔ جب حضرت عمرؓ کا زمانۂ خلافت آیا تو بعض ازواجِ مطہرات جن میں حضرت عا ئشہ ؓ بھی شامل تھیں، نے پیدا وار کی بجا ئے زمین لے لی تھی۔
مخیریققبیلہ بنو قینقاع کایہودی تھا،امیر ترین آدمی تھا۔ آنحضرتﷺ سے اس کی انتہائی عقیدت تھی۔ اس کے سا ت با غ تھے۔ وہ آپﷺ کی معیت میں غزوئہ اُحد میں شریک ہو ا اُس نے غزوہ میں شرکت کے وقت وصیت فرما ئی تھی کہ اگروہ فوت ہو جائے تو اُس کے با غا ت آپﷺ کی ملکیت ہوںگے ۔ وہ اس غزوہ میں قتل ہو گیا اور اس کے باغا ت کی سا ری آمدنی آپﷺ کے لیے تھی۔ آپﷺ نے ان باغات کو اپنے قبضہ میں رکھا، پھر وقف کر دئیے۔
جب رسول اللہﷺ نے نجاشی کی طرف اسلام قبول کرنے کے لیے خط لکھا تو اُس نے آپﷺ کے قاصد کا بہت احترام کیا اور قاصد کو رسول اللہﷺ کے لیے کا فی تحفے تحائف دیئے جن میں قیمتی کپڑے بھی شامل تھے اور اُمّ حبیبہ بنت ِابو سفیان کانکاح آپﷺ سے کروایا اور ۴۰۰ دینار حق مہر دیا۔
شاہِ مقوقس نے آپﷺ کی خدمت کے لیے ۱۰۰دینار، دو لونڈیاں،مشہور قباطی کپڑوں کے ۲۰جوڑے ، بنہاکا شہد،خوشبو، شیشے کا پیا لہ اور سواری کے لیے ’دلدل‘ نامی بہترین خچر بھیجا۔
حقیقت یہ ہے کہ حا لا ت کی سا ری نزاکتوں اور معا شی اُتار چڑھاؤ کے با وجود آپﷺ نے اپنے دامن کو داغدار ہو نے سے بچا یا اور کبھی کسی کے سامنے دست دراز نہیں کیا ۔اسی وجہ سے تو عرب آپ(ص) کو صادق اور امین کہ کر بلاتے تھے۔
یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ دولت آپ ﷺ کے پا س آتی نہیں، دولت تو آپ ﷺ پرنچھاور ہوتی نظر آتی ہے کہ تجا رت کے زما نہ میں لوگ اپنا مال دھڑا دھڑ آپ کے قدموں پر نچھاور کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں بڑا تجارتی منا فع آپ کو حاصل ہوتا نظر آتا ہے، لیکن آپﷺ نے اپنی سارا مال فلاحِ انسا نیت اور خدمتِ دین کے لیے وقف کردیا۔
بحیثیت ِمجمو عی آپﷺ کی زند گی کا معاشی پہلو فقرو فا قہ کی زینت سے ہی خو شنما نظر آتا ہے اورکرتے بھی کیا؟آپﷺ کو تو قاسم بناکر بھیجا گیا تھا اورقاسم بھی ایساکر یم کہ اپنے پاس کچھ بھی نہ رکھا اور سارے کا سارا فقراء اور محتاجوں کو با نٹ دیا۔سادہ لباس میں ملبوس، حالانکہ قیمتی لباس بھی زیب تن کر سکتے تھے مگر سا دہ لبا س کے بھی کئی کئی جوڑے نہیں ہوا کر تے تھے بلکہ لا یُطوٰی لہ ثوب کبھی آپ کا کوئی کپڑاتہ کر کے نہ رکھا گیا تھا۔