اسلام آباد کے پوش سیکٹرز میں قائم کچی آبادی کی کالونیاں کے بارے میں یہ تاثر قائم ہے کہ یہاں پر گندگی اور بدبو سے بھرے نالے شہر کی خوبصورتی کو متاثر کرتے ہیں اور غیر قانونی طور پر یہ قائم کی گئی ہیں ۔ گندگی کے ڈھیر اور شہر کی گندگی سے بھرے شدید بدبو دار نالے پر بنائی گئی بستیاں تعلیم ، پانی، گیس اور بجلی کی سہولیات سے محروم ہوتے ہوئے بھی دن بہ دن آباد ہوتی جا رہی ہے جن میں زیادہ تر مسیحی برادری سےتعلق رکھنے والے افراد رہائشی پذیر ہیں ۔ جبکہ کہ کچی کانونیاں کے رہائشیوں کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آتا ہے۔
یو این ہیبی ٹیٹ رپورٹ 2020ء کے مطابق پاکستان کی کل شہری آبادی کا 56 فیصد کچی آبادیوں میں زندگی بسر کر رہی ہے۔ 2020ء میں پاکستان کی ریکارڈ شدہ شہری آبادی کا حجم 8 کروڑ 40 لاکھ تھا تو تقریباً 4 کروڑ 70 لاکھ پاکستانی کچی آبادیوں میں رہائش پذیر ہیں ۔ تاہم پاکستان میں سرکاری حکام ان رہائشی بستیوں کے وجود کو تسلیم نہیں کرتے بلکہ وہ انہیں مسلسل غیر قانونی تجاوزات کے نام پر مسماری کے درپے رہتے ہیں ایسی ہی مثال اسلام آباد کے مختلف پوش سیکٹرز میں آباد کچی آبادیاں ہیں جن میں بڑتی تعداد میں اقلیتی برداری کے لوگ آباد ہیں ۔وفاقی سطح پر تجاوزات کے تحفظ کا کوئی قانون منظور نہ ہونے کی وجہ سے ملک کے دارالحکومت میں اس طرح کی مسماری کوئی سرکاری ادارہ جب چاہتا ہے شروع کر دیتا ہے ۔
8 ستمبر 2022 کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ کی عدالت نے وفاقی دارالحکومت میں کچی آبادی کے مکینوں کے رہائشی مسائل کے حل سے متعلق کیس میں کچی آبادی نمائندوں کے نام طلب کرتے ہوئے کہا تھا کہ 7اکتوبر تک کچی آبادی کے مکینوں کے نمائندوں کے نام پیش کیے جائیں،سی ڈی اے کے افسران کچی آبادی کے نمائندوں سے ملاقات کریں، کچی آبادی کے نمائندوں سے ملاقات کر کے متبادل رہائشی پلان کو فائنل کریں۔
اس حوالے سے مزید مسئلے اور حالات کو جاننے کے لیے کچی آبادی والی کالونیاں کے رہائشیوں سے بات چیت کی گئی ۔
اسلام آباد میں ایف سیکس میں کچی کالونی سے تعلق رکھنے والے سنی مسیحی پیشے کے لحاظ سے میڈیا کے مختلف اداروں کے ساتھ فوٹوگرافر کے فرائص ادا کر رہے ہیں ۔ سنی مسیح کا کہنا ہے اسلام آباد کے اندر چھوٹی بڑی تیس کے قریب مسیحی آبادیاں موجود ہیں ۔ جن کے اندر رہنے والے افراد بنیادی سہولیات سے محروم ہے ۔ بجلی ، پانی ، گیس ، صاف ستھرائی کے نظام کے بغیر زندگی بسر کر رہے ہیں ۔
حکومتی اور انتظامیہ کی جانب سے کوئی تعاون فراہم نہیں کیا جاتا ہے۔ اسلام آباد کے اندر کچی آبادیوں میں زیادہ تر مسیحی افراد ہی آباد ہے جن کا ذریعہ معاشی سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں کم اجرت پر ہوتا ہے ایسے میں بنیادی ضروریات سے محروم ہوتے ہوئے اپنی مدد آپ کے تحت زندگی کا نظام چلتے ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ ملک کے وفاق میں موجودہ اقلیتی برادری کی کچی آبادیوں میں بجلی، پانی اور گیس کی سہولیات کی عدم فراہم ہمارے برادری کے لیے سوالیہ نشان ہے ۔
سیکٹر ایف سیکس کی رہاشی سونیا ثمر کا کہنا ہے کہ ملک کے مہنگا ترین وفاقی شہر کے کچی آباد کے مسیحی باسی پانی، بجلی، گیس سے محروم تو ہے مگر گندے نالوں کے اوپر موجود کچی بستیاں صحت کے بے شمار مسائل سے دوچار ہو رہی ہیں ۔ شدید قسم کی گندے نالے کی بدبو اور گندی کے ڈھیروں نے بچوں ، خواتین ، بزرگوں کے ساتھ ساتھ مردوں کو بھی مختلف بیماریوں سے دوچار کیا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچی آبادیوں میں بچوں کی بھی بڑھتی تعداد موجود ہے مگر بچوں کی تعلیم کے لیے کوئی مناسب جگہ نہیں ہے ۔
ایف سیکس میں ماسٹر ایوب کا سکول کھلے آسمان میں دھوپ میں ٹھنڈی چھاوں محسوس ہوتی ہے ۔ بنیادی ضرورت زندگی میں بچوں کا تعلیم میں حق بھی ہے مگر کچی اقلیتی برادری کو کم تر مخلوق کا درجہ دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کی خواتین کے لئے مناسب روزگار کے مواقع بھی موجود نہیں ہے زیادہ تر خواتین گھروں میں کام کاج یا شہر کے پارلز میں کام کرتی ہیں وہ بھی بہت ہی کم اجرت پر جس کی وجہ سے معاشی طور پر خواتین مشکلات کا سامنا بھی کرتی ہیں ۔
بے زورگاری کا شکار سیکٹر جی سیون کچی آبادی کے رہائشی جاوید مراد اپنے خاندان کی کفالت ، بے روزگاری اور بڑھتی ہوئی مہنگی بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اقلیتی برادری بے شمار مسائل سے دوچار ہیں اور اپنی مدد اپ کے تحت نظام زندگی اسلام آباد جیسے شہر میں بسر کر رہے ہیں ۔ ہماری کچی آبادی کے ادرگرد مہنگا ترین سیکٹر موجود ہیں اور ہماری بستی کے لوگ پینے کے صاف پانی سے بھی محروم ہیں ۔ جی سیون اور ایچ 9 کی کچی آبادی میں گیس کی سہولت ہی موجود نہیں ہے ۔ ملک کے حالات مسیحی برادری کے لیے خطرناک ترین ہوتے جا رہے ہیں، ایسے میں اپنی مسائل کی نشاندہی کرنے سے قاصر ہیں ۔
ورلڈ مینارٹیز الائنس کے کنوینئر، انسانی حقوق کے علمبردار سابق وفاقی وزیر جے سالک نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں کچی آبادیوں کے اندر اقلیتی برادری کی بڑی تعداد موجود ہے حالیہ کوششوں کے بعد اسلام آباد میں گیارہ کچی آبادیوں کو قانونی کرنے اور بنیادی ضروریات زندگی بسر کرنے کے لیے پانی ، گیس اور بجلی کی فراہمی ممکن ہوئی ہے۔
اسلام آباد کے اندر کچی آدبایوں کے حوالے سے عدالتوں میں بھی معاملات چل رہے ہیں مگر انسانی حقوق کی فراہمی ملک کے قانون بھی فراہم کرتا ہے ۔ شہرکے اندر ابھی بہت سی کچی آبادیاں بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ہے اور اپنی مدد آپ کے تحت معاملات چلا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتیوں کو اس ملک کے شہری ہونے کے ناطے ہر سہولت ملنی چاہیے مگر افسوس ملک کے دارلحکومت کے اندر اقلیتی برداری اور کچی آبادی کے رہائشی پانی ، بجلی، گیس ، روزگار تعلیم اور صحت کے مسئلہ سے دوچار ہیں ۔
واصخ رہے کہ اسلام آباد کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے موقف لینے کے لیے بار بار کوشش کے باوجود بھی کوئی بھی جواب دینے سے گریز کیا گیا۔