رام مندرصرف مذہب کی سیاست ہے

رام مندر عام آدمی کے کسی مسئلے کا حل نہیں ہے یہ صرف مذہب کی سیاست ہے۔ وہی جس کا نہ ہونا ہمارے قومی شاعر کو چنگیزی لگتا تھا۔ ہندوستان میں بابری مسجد کا ہجوم کے ہاتھوں گرنا ہو یا پاکستان میں نیلا گنبد کے سنہری کلس والے مندر کی مسماری یا پھر فیصل آباد میں احمدی عبادت گاہ کا منہدم ہونا۔ یہ سب انسانیت سوز اور شرمناک عمل ہیں، خواہ اس کی کوئی کیا ہی توجیہہ دے۔

کسی مندر کے گرنے ، مسجد کے بننے ، چرچ کے گرنے اور سینیگاگ کے بننے سے نہ انسانیت کا بھلا ہوتا ہے نہ جبر و استحصال میں کمی ہوتی ہے۔ گاؤ کشی پر کوئی جان سے جائے یا توہین مذہب کے جرم میں اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے، سب محض جہالت ، شدت پسندی اور نفرت کے مظاہر ہیں۔ جب آپ ان میں سے کسی ایک جرم کی تائید اور ایک کی مخالفت کرتے ہیں تو آپ کی انسانیت بھی سلیکٹو اور عقیدے سے مشروط ہو جاتی ہے۔ اسی لیے میں سمجھتا ہوں کہ عقیدہ کبھی بھی بلامشروط محبت نہیں سکھا سکتا، ہاں ایک ایسے احساس برتری کا درس ضرور دیتا ہے جہاں ہر مخالف عقیدے والا کمتر، نجس اور غلط دکھائی دیتا ہے۔

مذہب فروشوں سے مجھے مسئلہ نہیں ہے خواہ ان کا تعلق ممبئی سے ہو یا مرید سے، گجرات سے ہو یا ڈیرہ اسماعیل خان سے، ان کے عزائم اور ان کے مقاصد تو اظہر من الشمس ہیں۔ لیکن کچھ شعبے ایسے ہیں، کچھ لوگ ایسے ہیں ،جن سے آپ توقع کرتے ہیں کہ وہ امن کے سفیر رہیں گے، انسانیت کو اپنا مذہب سمجھیں گے، زمین میں کھنچی لکیروں پر نفرت کی باڑ نہیں لگائیں گے۔ یہ انہیں کے دم سے ممکن ہے کہ وحشت کی زمین میں کہیں آشتی کے کچھ پھول کھل سکیں۔ کھلاڑی ہوں ، دانشور ہوں ، مصنف ہوں، اداکار ہوں ، موسیقار ہوں، گلوکار ہوں۔ اگر یہ بھی مذہب اور عقیدے کے یرغمال بن گئے پھر تو بس اندھیرا ہی ہے۔

مجھے یہ تصویریں دیکھ کر دکھ ہوا۔ ان لوگوں سے اگر ان کے فن کے حوالے سے کہیں کوئی محبت تھی تو وہ اب نہیں رہی۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ اور کچھ نہیں تو اس دن یہ خاموشی سے گھر رہتے۔ یہ کیوں ہے کہ ایک جشن ایسا ہے جس میں بھارت کا کوئی مسلمان اداکار نظر نہیں آیا۔مندر کا افتتاح ہند کی مروج سیاست کے لیے ویسا ہی ضروری سہی جیسا پاکستانی سیاست کے لیے اسلام آباد میں مندر کی تعمیر روکنے کا نوٹیفیکیشن ، لیکن مندر کے اس افتتاح کی نیو میں خون کی جو بو ہے اسے حساس سمجھے جانے والے اداکار بھی سونگھنے سے معذور ہوں تو ان کی حساسیت کس کام کی۔

کسی کے دکھ کے ساتھ وابستہ ایک منظر پر اگر ایک فن کار قہقہہ لگا کر سیلفی لے سکتا ہو تو ایسی فن کاری کو چلو بھر پانی میں غرق ہو جانا چاہیے۔ ستم ظریفی سی ستم ظریفی ہے کہ پی کے بنانے والا راجکمار ہیرانی بھی رام مندر پران پرتھتشتا میں سب سے آگے ہے۔ یہ سن کر البتہ اچھا لگا کہ دعوت اور اصرار کے باوجود “ذاتی وجوہات” کی بنا پر ویرات کوہلی اور انوشکا شرما نے اس پرارتھنا میں شامل ہونے سے معذرت کر لی۔

چلتے چلتے لیکن یہ بھی پوچھ لینا چاہیے کہ کیوں ایسے بہت سے موقع ہمارے یہاں بھی مقدر ہیں جن میں کوئی مسیحی، کوئی ہندو اور حد تو یہ کہ کوئی احمدی بھی شامل نہیں ہو پاتا۔ سوالوں کے جواب گریبان میں ڈال کر ڈھونڈیں تو گردن شرم سے جھکانی پڑتی ہے۔ کیا کیجئے۔ بس اندھیرا ہی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے