پاکستان میں آج بھی محنت کش گولیوں کا نشانہ کیوں ؟

پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہر سال یکم مئی کو محنت کشوں سے اظہار یکجہتی کے لئے مزدوروں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ مزدوروں کی اس تحریک کا آغاز امریکہ کے شہر شکاگو میں مزدوروں کی ایک بڑی ہڑتال کے ساتھ شروع ہوا تھا، جس کا مطالبہ کام کا دورانیہ آٹھ گھنٹے مقرر کرنا تھا۔ اس ہڑتال اور اس کے بعد کے واقعات نے دنیا بھر میں مزدور تحریک کو جنم دیا۔ ہڑتال سے نپٹنے کے لیے جدید اسلحہ سے لیس پولیس کی تعداد شہر میں بڑھا دی گئی۔ یہ اسلحہ اور دیگر سامان بھی پولیس کو مقامی سرمایہ داروں نے مہیا کیا تھا۔ ہڑتال کا آغاز یکم مئی سے ہوا تھا، پہلے روز ہڑتال بہت کامیاب رہی دوسرے دن یعنی 2 مئی کو بھی ہڑتال بہت کامیاب اور پرامن رہی۔ لیکن تیسرے دن ایک فیکٹری کے اندر پولیس نے پر امن اور نہتے مزدوروں پر فائرنگ کر دی، جس کی وجہ سے چار مزدورہلاک اور بہت سے زخمی ہو گئے۔ اس واقعے کے خلاف تحریک کے منتظمین نے اگلے ہی روز 4 مئی کو ایک بڑے احتجاجی جلسے کا اعلان کیا۔ اگلے روز جلسہ پرامن تھا لیکن آخری مقرر کے خطاب کے دوران پولیس نے اچانک فائرنگ شروع کرکے بہت سے مزدور ہلاک اور زخمی کر دیئے۔ پولیس نے یہ الزام لگایا کہ مظاہرین میں سے ان پر گرینیڈ سے حملہ کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے ایک پولیس اہلکار ہلاک اور کئی زخمی ہوگئے ہیں۔

اس حملے کو بہانہ بناکر پولیس نے گھر گھر چھاپے مارے اور بائیں بازو اور مزدور رہنماؤں کو گرفتار کر لیا۔ ایک جعلی مقدمے میں آ ٹھ مزدور رہنماؤں کو سزائے موت دے دی گئی۔ لیکن یہ تحریک ختم ہونے کے بجائے دنیا بھر میں پھیلتی چلی گئی۔ سب سے پہلے 1889ء میں ریمنڈ لیوین کی تجویز پر یکم مئی 1890ء کو یوم مزدور کے طور پر منانے کا اعلان کیا گیا۔ اس دن کی تقریبات بہت کامیاب رہیں۔ اسکے بعد یہ دن ’’عالمی یوم مزدور‘‘ کے طور پر منایا جانے لگا، سوائے امریکہ، کینیڈا اورجنوبی افریقہ کے۔ جنوبی افریقہ میں غالباً نسل پرست حکومت کے خاتمے کے بعد یوم مئی وہاں بھی منایا جانے لگا۔ مزدور اور دیگر استحصال زدہ طبقات کی حکومت لینن کی سربراہی میں اکتوبر انقلاب کے بعد سوویت یونین میں قائم ہوئی۔ اسکے بعد مزدور طبقے کی عالمی تحریک بڑی تیزی سے پھیلی اور چالیس پچاس سالوں میں دنیا کی تقریباً نصف آبادی پر مزدور طبقے کا انقلابی سرخ پرچم لہرانے لگا۔ یقیناً پوری دنیا میں ہر سال یکم مئی کو یہ دن اس عہد کے ساتھ منایا جاتا ہے کہ مزدوروں کے معاشی حالات تبدیل کرنے کیلئے کوششیں تیز کی جائیں اور ان کا استحصال بند کیا جائے۔

پاکستان میں قومی سطح پر یوم مئی منانے کا آغاز 1973ء میں پاکستان کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں ہوا۔ اس دن کی مناسبت سے ملک بھر کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں تقریبات، سیمینار، کانفرنسز اور ریلیوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ جن میں شکاگو کے محنت کشوں کے ساتھ اظہار یکجہتی سمیت مزدوروں اور محنت کشوں کے مسائل کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے حل کے لئے اقدامات کا مطالبہ بھی کیا جاتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود محنت کشوں کے مسائل کے عملی حل کے لیے اس قدر سنجیدہ اقدامات نہیں کیے جاتے جتنے ہونے چاہیے تھے۔

وطن عزیز میں آج کمر توڑ مہنگائی، روزمرہ کی اشیاء میں ہوشربا اضافہ، آئے روز بجلی و گیس کی قیمتوں میں اضافہ، کم اجرت، دہشت گردی، امن کی ناقص صورت حال اور معاشی و سیاسی عدم استحکام نے ایک مزدور کی زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے۔ کیا ہم تصور کر سکتے ہیں کہ کوئی اپنے ہی ملک میں محنت کشوں کو آج بھی گولیوں سے چھلنی کر سکتا ہے؟ چند دن قبل نوشکی، بلوچستان میں ایک درجن مزدوروں کو اس لیے قتل کر دیا گیا کہ ان کا تعلق صوبہ پنجاب سے تھا۔ جب کہ قاتلوں کو ابھی تک قانون کے کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا جا سکا ہے۔ مندرجہ بالا نقائص نااہل بیوروکریسی، سرمایہ دارانہ نظام، نام نہاد لنگڑی جمہوریت، سیاسی عدمِ استحکام اور کئی دیگر وجوہات کی وجہ سے ہے۔ امیر، امیر تر اور غریب، غریب تر ہوتا جا رہا ہے۔ یکم مئی کو بڑے ہوٹلوں، آڈیٹوریم ہالز میں مزدور سے اظہار ہمدردی کے لیے پروگرام ہوتے ہیں، لیکن مزدور اس دن بھی آٹھ سے سولہ گھنٹے تک محنت کر رہے ہوتے ہیں، دنیا بھر کی بڑی بڑی ریاستیں صرف ایک دن کے لیے بھی مزدور کو اس کے گھر کی دہلیز پہ ایک دن کی اجرت ادا کرنے سے قاصر ہیں۔

صنعتی انقلاب کے بعد جہاں مزدوروں کی کھپت میں اضافہ ہوا وہیں سستی لیبر کے لیے مختلف طریقہ ہائے کار اپنائے گئے، ان میں سب سے واہیات طریقہ خواتین کو گھر سے نکال کر صنعت کاری میں مصروف کرنا تھا۔ خواتین چوں کہ سستی لیبر کے طور پر دست یاب تھیں، لہذا انہیں گھر کی پابندیوں اور آزادی کا جھانسا دے کر لیبر کے طور پر بھرتی کیا جاتا، جس سے ایک طرف سستی لیبر مہیا ہوتی، دوسری جانب معاشرے میں خاندانی نظام متاثر ہونا شروع ہوا۔ لیکن افسوس ان مزدور خواتین کی بھی عصمت دری اور عزت کے ساتھ کھلواڑ سرمایہ داروں کا معمول بنتا گیا۔ الغرض مرد ہو یا عورت، ہمارے معاشرے میں مزدور طبقے کے افراد ہمیشہ سے اپنے حقوق کے حصول میں ناکام رہے ہیں۔ یقیناً مزدور کو حقوق صرف اسلام کے عادلانہ نظام کے عملی نفاذ سے ہی مل سکتے ہیں۔ اسلام کے معاشی نظام میں غربت کا خاتمہ اور محنت کشوں و مزدوروں کے دکھ درد کو بانٹنا بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

اسلام کا نظامِ عدل ہر ظالم و جابر کے خلاف تلوار بے نیام اور ہر مظلوم و مزدور اور محنت کشوں کی آواز ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام سوشلزم، کمیونیزم، کپٹیلزم اور اشتراکی نظام نے ہمیشہ محنت کشوں اور مزدوروں کا استحصال کیا ہے۔ آج تک دنیا کے سارے نظام اور تجربے ناکام ثابت ہوچکے ہیں۔ اسلام کا نظام عدل ہی مزدوروں اور محنت کشوں کے حقوق کا ضامن ہے۔ مزدور کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اس کا معاوضہ ادا کرنا یہ اسلام ہی کا سنہری اصول ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے