تعارف صحابی امام حسین ؑ (جناب جون ؑ )

ہر تحریک کو کامیاب ہونے کے لیے دو باتوں کا ہونا بہت ضروری ہے ایک تحریک کا سردار ، لیڈر ، مستقل مزاج بے خوف حق بات پہ ڈٹ جانے والا ہو ،اور میدان میں رہ کر مقابلہ کرنے والا ہو ،،

دوسرا اس کے ساتھ دینے والے بے شک کم ہوں مگر ساتھ دینے والوں میں سے ہوں موت سختی قید کو دیکھ کر بھاگنے والوں میں سے نہ ہوں اور جب بات ہم کربلا کی تحریک کی کرتے ہیں تو سردار بھی لاجواب ہیں تو اصحاب بھی بے مثال ہیں جیسے چمکتے چاند کے اردگرد جگماتے ہوئے تارے ہوں ۔۔۔امام حسینؑ عالی مقام کے اصحاب کی کیا ہی بات ہے امام خود فرماتے تھے میں نے کسی اصحاب کو اپنے اصحاب سے بہتر اور باوفا نہیں ۔۔نو محرم کی رات کو حضرت امام حسین نے اپنے خیمے میں رکھے تمام چراغ بجھا دیے اور کہا۔۔۔میں جنت کی ضمانت دیتا ہوں
‏جو مجھے چھوڑ کر جانا چاہے چلا جائے

جب چراغ جلایا گیا تو سب باوفا وہیں کے وہیں موجود تھے۔ ۔۔۔اتنے پیارے اقا ، امام کو بھلا چھوڑا کر کوئی کیسے جا سکتا تھا جن کے چہرے کی زیارت کر کے دل کو قرار اتا ہو ،

انہی اصحاب میں سے ایک جون بھی تھے وہ افریقہ کے علاقے نوبہ کے رہنے والے تھے۔وہ فضل بن عباس بن عبد المطلب کے غلام تھے جنہیں حضرت علی نے خرید کر حضرت ابوذر کو بخش دیا تھا۔

وہ حضرت ابوذر کے وفات سنہ 32 ہجری تک ان کے ساتھ ربذہ میں رہے پھر اس کے بعد حضرت علی کی خدمت میں آئے اور اہل بیت کے ساتھ رہنے لگے۔روز عاشورہ جون امام عالی مقام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور جنگ کی اجازت طلب کی ۔امام نے فرمایا جون آپ نے ہماری اطاعت میں زندگی گزاری ہے اب آپ کے لیے ہماری اطاعت کرنا ضروری نہیں ہماری طرف سے آپ آزاد ہے، آپ یہاں سے جاسکتے ہیں ،امام کی یہ بات سنتےہی وہ مضطرب ہو کر اما م سے گویا ہوئے۔اے نواسہ رسولﷺ یہ انصاف کا تقاضہ نہیں کہ اچھے اوقات میں آپ کے ساتھ رہے اور مشکل اوقات میں آپ کو چھوڑ کر جدا ہو جاؤں یہ میری لئے ناممکن ہے ۔کچھ مدت گزرنے کے بعد’ جون نہایت محبت اور رقت آمیز لہجے میں دوبارہ امام سے اسطرح التماس کی ،مولا بیشک میرے جسم بدبودار ہے میں پست نسب اور کالے رنگ کا غلام ہوں آپ نے مجھے جنت کی ہوا سے معطر فرمائیں تاکہ میرا جسم خوشبودار ہو سکے۔مولا میرے نسب کو شرف اور بلندی عطا کریں اور میرا چہرہ پر نور بنادیجئے خدا کی قسم اے فرزندِ رسول ﷺ میں آپ سے اس وقت تک جدا نہیں ہوجاؤں گا جب تک میرے کالے جسم میں موجود خون آپ کے خون کے ساتھ مل نہ جائے یعنی شھاد ت حاصل کئے بغیر آپ سے جدا ہونا میرے لئے ناممکن ہے۔امام نے ان کا شوقِ شھادت اوراضطرابی کیفیت دیکھتے ہوئے مقتل کی طرف جانےکیاجازت دی۔جون امام سے اجازت لے کر میدان روانہ ہوئے رجز پڑھا اور 25 یزیدی افرادکو واصل جہنم کرنے کے بعد شہید ہوئے۔

منقول ہوا ہے کہ حضرت امام حسین ان کے جسد مبارک پہنچے اور اس طرح ان کیلئے دعا کی: اَللّهُمَّ بَیِّض وَجهَهُ وَ طَیِّب ریحَهُ وَ احشُرهُ مَعَ الأبرارِ وَ عَرِّف بَینَهُ و بَینَ مُحمدٍ و آلِ مُحمدٍ۔۔۔۔
آپ کا نام زیارت ناحیہ میں آیا ہے : اَلسَّلَامُ عَلَى جَوْنٍ مَوْلَى أَبِي‌ ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ۔۔۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے