معاشرتی زوال اور آسان پیسہ

یوٹیوب اور سوشل میڈیا کی دنیا میں آج وہ کچھ ہو رہا ہے جس کا چند سال پہلے تک تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ لوگ اپنے نجی زندگی کے لمحات، اپنے خاندان، بیویوں اور ماؤں کو کیمرے کے سامنے لا کر دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ ایسے ہی ایک یوٹیوبر کے الفاظ یاد آتے ہیں جو اپنی ویڈیو میں کہتا ہے:

"آئیے، میں آپ کو آپ کی بھابھی دکھاتا ہوں۔” اور پھر کیمرہ اپنی بیوی کی طرف موڑ کر اسے سر سے پاؤں تک دکھاتا ہے۔ اس کے بولنے کا انداز اور لہجہ سن کر لگتا ہے کہ شاید وہ پانچویں جماعت بھی پاس نہ ہو، لیکن چند گھنٹوں میں اس کی ویڈیو پر لاکھوں ویوز اور لائکس آ جاتے ہیں۔

کیا یہ رجحان صرف ہمارے خطے کا مسئلہ ہے؟ یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ کیا ایسی ویڈیوز صرف پاکستان اور بھارت میں بنتی ہیں، یا یورپ، امریکہ، اور آسٹریلیا جیسے ممالک میں بھی لوگ ایسی ہی حرکتیں کرتے ہیں؟ تحقیق کیے بغیر اس کا درست جواب دینا مشکل ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسی ویڈیوز بنانے والے اور دیکھنے والے دونوں اپنی اقدار سے دور ہو چکے ہیں۔

یہ رویہ چند وجوہات کی وجہ سے پروان چڑھ رہا ہے:

1. دینی تعلیم کی کمی: جو لوگ اپنے دین سے دور ہوں، ان کے لیے حرام اور حلال کا فرق بے معنی ہو جاتا ہے۔

2. شرم و حیا کا فقدان: خاندانوں میں شرم و غیرت کا کوئی تصور باقی نہیں رہا، اور یہ رویہ نسل در نسل منتقل ہو رہا ہے۔

3. مالی مشکلات: بعض لوگ غربت اور مسائل سے تنگ آ کر یوٹیوب کو پیسہ کمانے کا آسان ذریعہ سمجھتے ہیں، چاہے اس کے لیے انہیں اپنی عزت اور اقدار کا سودا کیوں نہ کرنا پڑے۔

4. فوری شہرت کا جنون: آج کے دور میں لوگ چند لمحوں کی شہرت کے لیے اپنی زندگی کی ہر حد کو پار کر جاتے ہیں۔

یہ بات بھی حیرت انگیز ہے کہ ایسی ویڈیوز کو دیکھنے والے لوگ کون ہیں؟ لاکھوں کی تعداد میں ویوز اور لائکس یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں فرسٹریشن اور اخلاقی گراوٹ کس حد تک بڑھ چکی ہے۔ دنیا بھر میں تحقیقاتی رپورٹس، ڈاکیومنٹریز، اور علمی مواد کی بھرمار ہے، لیکن لوگ ایسے سطحی اور غیر اخلاقی مواد کو ترجیح کیوں دیتے ہیں؟

پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں انٹرنیٹ پر غیر اخلاقی مواد دیکھنے کے اعداد و شمار سب سے زیادہ ہیں۔ اس کی وجوہات میں دینی شعور کی کمی، حکومتی عدم توجہی، اور والدین کی جانب سے بچوں کی تربیت میں لاپرواہی شامل ہیں۔

ہمارا ملک اس وقت ایک ایسے دور سے گزر رہا ہے جہاں حکومت اور ادارے اپنی توجہ صرف سیاسی مفادات اور طاقت کے حصول پر مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ پی ٹی اے اور دیگر ادارے سارا زور اس بات پر لگا رہے ہیں کہ حکومت یا فوج کے خلاف کوئی بات نہ ہو، جبکہ معاشرتی بے راہ روی کا سدباب ان کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں۔

ان حالات میں جو والدین دین کی تعلیم اور شعور رکھتے ہیں، وہ موجودہ نسل اور آنے والے بچوں کے مستقبل کے لیے شدید پریشان ہیں۔ یہ فتنے کا دور ہے، اور اس سے بچنے کے لیے والدین کو غیر روایتی طریقوں سے اپنی اولاد کی تربیت کرنا ہوگی۔

1. بچوں کے دوست بنیں: بچوں سے کھل کر بات کریں تاکہ وہ اپنی بات آپ کے سامنے رکھ سکیں۔

2. گھر کا ماحول ٹھیک کریں: فلموں اور ڈراموں کے بجائے دینی تعلیم کو ترجیح دیں۔

3. قرآن اور حدیث کی تعلیم دیں: بچوں کو حلال اور حرام کا فرق واضح کریں اور یہ بات ان کے ذہنوں میں بٹھائیں۔

4. تربیت میں مستقل مزاجی: یہ ایک مسلسل عمل ہے، اور والدین کو اپنی 100 فیصد کوشش کرنی ہوگی۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ ہماری حکومت اور ادارے معاشرتی اصلاح میں سنجیدہ نہیں۔ ہمیں اپنے پیروں پر کھڑا ہونا ہوگا اور اپنی نسلوں کی حفاظت خود کرنی ہوگی۔ اگر ہم اپنی اولاد کی دینی اور اخلاقی بنیادیں مضبوط کریں، تو یہ ممکن ہے کہ وہ معاشرے کے برے اثرات سے محفوظ رہ سکیں۔

یہ دور واقعی ایک آزمائش کا دور ہے، لیکن ہمیں امید نہیں چھوڑنی چاہیے۔ اگر ہم اپنی تمام تر توانائیاں اپنی نسلوں کی تربیت پر لگائیں، تو ان کے لیے ایک بہتر مستقبل ممکن ہے۔ یاد رکھیں، معاشرتی اصلاح کا سفر مشکل ضرور ہے، لیکن نا ممکن نہیں۔

"جب تک ہم اپنی ذمہ داری کا احساس نہیں کریں گے، ہمارے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ اپنے گھروں سے اصلاح کا آغاز کریں، تاکہ آنے والی نسلیں بہتر معاشرہ تشکیل دے سکیں۔”

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے