پشتو زبان کے عالمگیر شہرت یافتہ اور منفرد مزاح نگار میراوس کے بارے میں

پشتو زبان کے عالمگیر شہرت یافتہ اور منفرد مزاح نگار میراوس (پ 1955 م 2025) مرحوم کے بارے میں

پشتو زبان کے مشہور زمانہ مزاح نگار میراوس ایک طویل اور تکلیف دہ بیماری کے بعد آج زندگی سے اپنا ناطہ توڑ کر موت کی تاریک وادی میں اتر گئے۔ مرحوم نے ایک منفرد مزاح نگار کی حیثیت سے کئی نسلوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیریں اور جنہوں نے خود کو ایک ایسے معاشرے میں سستی تفریح کے ایک بڑے ذریعے کے طور پر منوایا جہاں عالمی اور علاقائی اسباب سے دہشت گردی، سخت گیری اور کشیدگی کا ایک ایسا مستقل ماحول بنا تھا جس میں تناؤ حاوی رہا۔ یہ اس کی ایک ایسی صلاحیت اور کردار تھا جو مدتوں یاد رکھا جائے گا۔

میرواس 1955ء کو صوبہ خیبر پختون خوا کے ضلع چارسدہ کے مشہور گاؤں تنگی میں پیدا ہوئے تھے۔ آپ کا اصل نام حیات خان تھا لیکن ہمہ وقت طنز و مزاح، شاعری، پیروڈی، لطیفہ گوئی، مزاح نگاری اور گلوکاری کے سبب "میراوس” کے نام سے عالمگیر شہرت پانے لگا۔ آپ جہاں جاتے وہاں انسانوں کا جم غفیر رخ کرتا جو گھٹنوں میراوس کو سنتا اور قہقہے لگاتا۔

میراوس نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا باقاعدہ آغاز 80 کی دہائی میں ریڈیو پاکستان کے پشاور برانچ سے کیا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے اپنی خدا داد صلاحیتوں کے سبب ملک گیر بلکہ عالمگیر شہرت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ یہی وجہ تھی کہ موصوف بچوں، جوانوں، بزرگوں اور خواتین میں یکساں مقبول رہے جو بعد میں چار دہائیوں تک ان کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرتے رہے۔ اب تک ان کی مزاحیہ شاعری، لطیفہ گوئی اور پیروڈیز کی 766 آڈیو کیسٹس ریکارڈ ہوئے ہیں، جو کہ پاکستان میں اس وقت ایک ریکارڈ ہے۔

میراوس نے ٹیلی ویژن پر بھی اپنے فن کا بھرپور مظاہرہ کیا تھا اور کئی برسوں تک پاکستان ٹیلی ویژن پر پیش ہونے والے مقبول عام پروگرام "آباسین” میں بطورِ مہمان شریک ہوتے رہے۔ میراوس اپنی عالمگیر شہرت کے سبب دنیا کے مختلف ممالک میں جاکر اپنے فن کا مظاہرہ کرچکے تھے۔ اسی طرح ان کی مزاحیہ شاعری اور لطیفوں پر مشتمل ایک کتاب "خندا پہ ٹوقو ٹوقو کے” بھی شایع ہو چکی ہے۔

میراوس نے پشتو زبان کے ایک دلچسپ مزاح نگار اور لطیفہ گو کے طور پر دنیا بھر میں ایک خاص مقام حاصل کیا تھا۔ ان کے لطیفہ گوئی میں نہ صرف پشتون معاشرے کی ثقافت، روایات اور روزمرہ زندگی کی عکاسی نظر آتی تھی بلکہ اس میں جا بجا مختلف سماجی اور اخلاقی نوعیت کے مثبت پیغامات بھی پوشیدہ ہوتے مزید برآں سرکاری مشینری کی نااہلی، بے حسی، خود غرضی اور ناانصافی پر بھی پوری توجہ سے طنز کے تیر چلاتے رہتے۔ ایک ہی معاشرے میں بسنے والوں کے درمیان موجود طرح طرح کے تضادات پر بھی دل کھول کر طنز و تنقید کرتے تھے۔

میراوس کے لطیفوں میں پشتون کلچر کی رونق، جذباتی انداز، سادگی اور حاضر جوابی نمایاں نظر آتی تھی۔ ان کے مزاح میں تلخی نہیں بلکہ ایک خاص قسم کی معصومانہ ظرافت اور سماجی جانکاری پائی جاتی تھی، جو سننے والوں کو نہ صرف ہنساتے بلکہ ان کو مختلف طریقوں سے سوچنے سمجھنے پر آمادہ کرتی رہی۔ اجتماعی زندگی میں قدم بہ قدم موجود تضادات کے تناظر میں لوگ ان کی باتوں اور لطیفوں کو بطورِ مثال پیش کرتے ہیں۔

میراوس کے لطیفے زیادہ تر پشتون معاشرے کے روایتی کرداروں جیسا کہ ملا، خان، ڈاکٹر، دیہاتی، ساس اور داماد وغیرہ کے گرد گھومتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک بار میراوس سے پوچھا گیا "آپ کے لطیفے اتنے مشہور کیوں ہیں؟” بے ساختہ جواب دیا "سچ بولتا ہوں، اور سچ ہمیشہ مزاحیہ لگتا ہے”۔

میراوس اکثر و بیشتر اپنے لطیفوں میں معاشرتی برائیوں مثلاً جہالت، اناڑی پن، خود غرضی، لالچ اور خود پسندی پر طنز کرتے رہتے تھے، لیکن ایسے انداز میں کہ اس سے سننے والے کبھی ناراض نہ ہوتے۔ اس طرح ایک بار میراوس سے پوچھا گیا "اگر آپ کو ایک ہی لفظ میں پشتون کلچر بیان کرنا پڑے تو کیا کہیں گے؟”
انہوں نے فوراً جواب دیا:
روٹی اوخرہ (روٹی کھاؤ) اس نکتے میں پشتون مہمان نوازی کو اشارہ کیا گیا۔

میراوس کے لطیفے یوٹیوب اور فیس بک پر بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ ان کے ویڈیوز میں وہ روایتی پشتون لباس (شلوار قمیض اور پکول ٹوپی) میں نظر آتے ہیں جو کہ سامعین کو ہنسانے کے ساتھ ساتھ پشتون اقدار سے بھی روشناس کراتے ہیں۔

میراوس نے اگر چہ مزاح نگاری کے مختلف اصناف میں خوب کام کیا لیکن خاص شہرت پشتو زبان کے لطیفوں کو حاصل ہوئی۔ ان کے لطیفے زیادہ تر پشتون طرزِ زندگی پر مبنی ہوتے ہیں۔ آئیے ان کے چند مشہور لطیفے دہراتے ہیں امید ہے کہ یہ دلچسپی سے خالی نہ ہوں گے۔

ایک بار میراوس ایک دعوت میں ذرا دیر سے پہنچا۔ میزبان نے پوچھا "تمہیں اتنی دیر کیوں لگی؟
میراوس بولا "میری راستے میں ایک گدھے سے لڑائی ہوئی۔
میزبان حیران ہو کر کہنے لگا "لیکن یہاں تو کوئی گدھا نہیں تھا۔
میراوس نے کہا "جی بالکل! وہ بھی یہی کہہ رہا تھا۔”

ایک بار میراوس کے دوست نے ان سے پوچھا "تم رات کو اتنی جلدی کیوں سو جاتے ہو؟
میراوس نے جواب دیا "کیونکہ میرا کوئی دوست نہیں جو مجھے رات بھر فضول کہانیاں سنائے۔
ایک بار استاذ نے میراوس سے پوچھا "اگر تمہارے پاس پانچ سیب ہوں اور میں تم سے پانچوں ہی مانگوں، تو کتنے بچیں گے؟
میراوس بولا پانچ ہی بچیں گے
استاد نے کہا "تم حساب نہیں جانتے؟
میراوس مسکرایا اور کہا "استاد محترم، میں پشتون ہوں کوئی میرا سیب لے ہی نہیں سکتا۔

ایک بار کسی نے میراوس سے پوچھا "تم نے ابھی تک شادی کیوں نہیں کی؟
میراوس بولا "میں نے ایک شرط رکھی ہے کہ لڑکی کو میری بات ماننی ہوگی اب تک کوئی تیار نہیں ہوئی۔

ایک دور تھا کہ پشتون معاشرے میں تفریح کے دو چار بڑے ذرائع ہوتے تھے اور ان میں سے ایک میراوس ہوتا تھا۔ آپ غیر محسوس انداز سے اپنے لطائف، شاعری اور دوسری پیشکشوں میں معاشرتی تقسیم و تفریق اور نفاق و بے عملی کے حوالے سے شعور اجاگر کرتے رہے۔ زندگی کے آخری ماہ و سال انہوں نے بہت ہی تکلیف، بیماریوں اور تنگ دستی میں گزارے لیکن افسوس کہ صاحب ثروت لوگوں نے مدد کی اور نہ ہی حکومت نے کوئی توجہ دی اور یوں وہ سخت اذیتوں میں کئی برس تک رہنے کے بعد داعی اجل کو لبیک کہتے ہوئے دنیا سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آنکھیں پھیر لیئے۔ اللہ تعالیٰ ان کی تکلیفوں اور صدموں کو ان کے نامہ اعمال میں شامل فرمائیں اور آخرت میں انہیں بہترین اجر سے نوازے ،مزید برآں ان کے خاندان کے لیے باوقار ذریعہ معاش پیدا فرمائے۔

یہ دنیا ایک سٹیج کی مانند ہے اور یہاں آنے والا ہر انسان کسی نہ کسی کردار کا حامل ہوتا ہے۔ کسی کا کردار خوش گوار ہوتا ہے اور کسی کا ناگوار، کسی کے قہقہے بلند ہوتے ہیں اور کسی کے آنسو جاری رہتے ہیں، کوئی رلاتا ہے اور کوئی ہنساتا ہے، کوئی فرشتہ صفت قرار پاتا ہے اور کوئی شیطان صفت، کوئی تسلی کا ذریعہ بنتا ہے اور کوئی تشویش کا باعث۔ میراوس بھی دنیا میں آیا تھا، ستر سال پر مشتمل زندگی بسر کر کے خوشیاں بھی دیکھیں اور غم بھی سہہ کر عالم برزخ چلا گیا، بے شمار لطیفیں سنایا، لوگوں کو ہنسایا اور سماج کے گہرے تضادات کو ہلکے پھلکے انداز میں نمایاں کیا اور انسانی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی اپنی تئیں کوشش کی۔ ہماری دعا ہے اللہ تعالیٰ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے اور ان کے حسنات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے جبکہ سیئات سے صرف نظر فرما کر انہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام نصیب فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل بھی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے