اگر زندہ رہنا چاہتے ہو۔۔۔!!

آپ کو ایک سنجیدہ مشورہ دوں ؟ اگر آپ زندہ رہنا چاہتے ہیں، تو باہر مت نکلیں۔ جی ہاں، یہ کوئی لطیفہ نہیں، بلکہ ایک سنجیدہ مشورہ ہے جسے سن کر شاید آپ ہنسیں، لیکن جو ہنسے گا وہ بعد میں روئے گا۔ کیونکہ آج کا معاشرہ ایسا بن چکا ہے کہ باہر نکلنا گویا اپنی جان، مال ،عزت، عزتِ نفس سب داؤ پر لگانے کے مترادف ہے۔

آپ ذرا بازار کا رُخ کریں، دکان پر جائیں اور دوکاندار سے کہیں: "بھائی صاحب یہ جوتے دکھا دیں، اور وہ والی قمیض بھی۔” دوکاندار جی جان سے خدمت کرے گا، ڈبے کھولے گا، شیشے کے پیچھے سے مال نکالے گا، آپ کو آئینے کے سامنے کھڑا کرے گا، اور جب آپ شکریہ کہہ کر آگے بڑھیں گے تو وہ پیچھے سے بڑبڑائے گا: لینا وینا ھوتا نھیں کچھ آ جاتے ھیں ٹائم خراب کرنے !” اور اگر آپ پلٹ کر جواب دے بیٹھے تو کیا پتہ وہ دوکاندار صرف "خدمت گار” نہ ہو، بلکہ "اسلحہ بردار” بھی ہو۔

اب سڑک پر آ جائیے۔ آپ اگلی گاڑی کو ہارن دے کر گزارش کریں کہ بھائی صاحب، ذرا سائیڈ دے دیں۔ اگلا بندہ گاڑی روک کر باہر نکلے گا، کالر چڑھائے، آنکھیں لال، اور کہے گا: "تجھے بہت جلدی ہے؟ مرنے جا رہا ہے؟ لے، مروا دوں تجھے ابھی!”

پولیس ناکہ نظر آئے تو سانس روک لیجئے۔ اگر ذرا سا بریک لیٹ لگا تو پولیس والا یہ سمجھے گا کہ آپ بھاگ رہے ہیں۔ اور آپ بھاگے نہیں، بھگتا دیئے گئے۔ پیچھے سے ایک فائر، اور خبرنامے میں بریکنگ نیوز: "مشکوک گاڑی پر پولیس کی فائرنگ، ڈرائیور موقع پر ہی جاں بحق!” اور ساتھ ہی پولیس کا موقف: "ڈرائیور نے رکنے کا اشارہ نظر انداز کیا، ہمیں شبہ ہوا کہ دہشت گرد ہے۔”

بینک چلے جائیں؟ وہاں قطار کا تماشا ہے۔ آپ شرافت سے لائن میں لگے ہیں، ایک صاحب آئے، اور دھڑلے سے سیدھا کاؤنٹر پر جا کھڑے ہوئے۔ آپ نے نرمی سے کہا: "بھائی جان، لائن میں لگ جائیں۔” جواب آیا: "تیرے باپ کا بینک ہے؟” اور اس کے بعد وہی معمول کی رسمِ دشنام طرازی یا پھر مکا بازی۔ کبھی کبھار ساتھ چھری بازی یا فائرنگ بھی مفت کی سہولت میں آ جاتی ہے۔

تعلیم کے میدان کا حال سن لیجیے۔ کالج میں بچوں کی چھوٹی سی تکرار جان لیوا بنتی جا رہی ہے۔ پہلے "تُو نے کیا کہا؟” ہوتا تھا، اب "تُو نے کہا؟ تو تو گیا !” ہو گیا ہے۔ اب والدین بچے کو اسکول بھیجتے وقت بستے کے ساتھ دعا بھی باندھ دیتے ہیں کہ خیر سے شام کو زندہ واپس آ جائے۔

نہیں۔ یہ سب سُن کر گھبرانے کی ضرورت نھیں ھے ۔ ھم بتاتے ھیں اس کا حل ۔ بس گھر میں رہیں! جی ہاں، آج کے پاکستان میں سب سے محفوظ مقام "اپنا گھر” ہے۔ دیواروں کے پیچھے، دروازے بند، کھڑکیاں مقفل، پردے گرا کر، موبائل آف کر کے، باہر کی دنیا سے ناتا توڑ لیجئے۔ کیونکہ جتنی دیر آپ گھر میں ہیں، آپ محفوظ ہیں۔ آپ کی جان محفوظ، آپ کی عزت محفوظ، آپ کی عزت نفس محفوظ۔ اور اگر زیادہ دیر رہے تو شاید آپ کی بیوی کا موڈ بھی محفوظ ہو جائے، یہ الگ بات ہے کہ وہ بھی کب اچانک اشتعال میں آ جائے، یہ کسی کو خبر نہیں۔

اب کوئی پوچھے، کیا یہ ملک ہے یا جنگل؟ ہم کہیں گے، جنگل کم از کم اپنی حدود میں رہتے ہیں۔ وہاں شیر بھی وقت پر شکار کرتا ہے۔ یہاں تو انسان شیر بن چکا ہے، اور شکار کبھی بھی، کہیں بھی، کسی بھی وجہ کے بغیر ہو سکتا ہے۔

سچ پوچھیں تو آج کل کا شہری ایک چلتا پھرتا بارود ہے۔ بس کسی نے چنگاری دکھا دی، باقی دھماکہ خود بخود ہو جائے گا۔ عدم برداشت، غصہ، زبان کی بدتمیزی اور ہاتھ کی بے ادبی نے مل کر ایک ایسا معاشرہ تخلیق کر دیا ہے جہاں شریف آدمی یا تو پاگل ہو جائے یا مردہ ۔۔۔

یہی وجہ ہے کہ اب نیا خواب "آزاد ملک” کا نہیں، "محفوظ کمرے” کا ہے۔ آزادی تو مل گئی، اب سلامتی کا مسئلہ ہے۔ پچھلے زمانے میں لوگ آزادی کے لیے گھر سے نکلتے تھے، اب سلامتی کے لیے گھر میں چھپتے ہیں۔ پچھلے وقتوں میں قیدی آزادی کے خواب دیکھتے تھے، آج آزاد لوگ قیدی بننا چاہتے ہیں . بس اپنا قید خانہ خود چن لیتے ہیں جسے "گھر” کہا جاتا ہے۔

تو جناب ھماری تو آپ کو یہی نصیحت اور وصیت ھے کہ باہر مت نکلیں۔ باہر وحشی انسان ہیں، مشتعل جذبات ہیں، زخمی انا ہے، اور بھری ہوئی بندوقیں ہیں۔ گھر میں رہیے، آن لائن شاپنگ کیجئے، فون پر بات کیجئے، کھڑکی سے جھانک لیجئے، مگر دروازہ مت کھولئیے۔

یہ زمانہ "زندہ رہنے” کا ہے، جینے کا نہیں۔ اور زندہ رہنے کا راز ہے:
"Stay home, stay safe”۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے