مزدور اور یومِ مزدور

عالمی یوم مزدور کے موقع پر جب ہم نے دھاڑی دار مزدور محمد رمضان سے بات کی، تو اس نے اپنی حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "آج تو یوم مزدور ہے، پورے ملک میں چھٹی ہے، لیکن ہمیں تو پتہ ہی نہیں کہ آج ہمارا دن ہے۔” اس کی آنکھوں میں محنت کی تھکن اور قربانیوں کی کہانیاں چھپی ہوئی تھیں۔

اس نے بتایا کہ ہم جیسے مزدوروں کی محنت و مشقت اور قربانیوں کی قدر تو صرف ریلیوں اور جشنوں میں کی جاتی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہمیں روزمرہ کی زندگی کے چکر میں اس دن کی اہمیت کا علم نہیں ہوتا۔

محمد رمضان کی لگن اور محنت اس بات کی علامت ہے کہ وہ اپنی زندگی کے لئے کس طرح جدوجہد کر رہے ہیں، جبکہ بہت سے لوگ ان کی جدوجہد کا جشن مناتے ہیں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ مزدور طبقہ آج بھی اپنی حیثیت اور اہمیت سے بے خبر، اپنی روزمرہ کی ضروریات کے حصول میں مصروف ہے۔

یکم مئی کو دنیا بھر میں مزدوروں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ یہ دن صرف ایک تقریب یا جشن کا موقع نہیں بلکہ یہ مزدوروں کی جدوجہد، قربانیوں اور ان کے حقوق کے تحفظ کی علامت ہے۔ اگرچہ یہ دن مزدوروں کی محنت کو سراہنے کا موقع فراہم کرتا ہے، مگر کیا ہم فقط ایک دن کی تقریبات میں قید ہیں؟ یا یہ دن ہمیں مسلسل جدوجہد کی طرف مائل کرتا ہے؟

محمد رمضان نے مرجھائی ہوئی معصومیت کے ساتھ کہا، "جناب، ملک کے حالات اور مہنگائی کا تو آپ کو پتہ ہے۔ اگر آج ہم چھٹی کریں تو ہمارے گھر کے چھولے بچھ جاتے ہیں۔”

اس کی آواز میں ایک درد بھرا ہوا تھا، جب اس نے مزید کہا کہ "بال بچوں کے اخراجات اور معاشی تنگدستی کی بدولت ہمیں یہ زیب نہیں دیتا کہ ہم چھٹی کر لیں۔” اس کا یہ اظہار ہمیں اس تلخ حقیقت کی جانب متوجہ کرتا ہے کہ مزدور طبقے کی زندگی میں خوشیاں اور جشن اس وقت تک دور ہی رہتے ہیں جب تک کہ ان کی بنیادی ضروریات پوری نہیں ہوتیں۔

محنت کشوں کی زندگی کی یہ سچائی ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہمیں ان کی قربانیوں اور محنت کی قدر کرنی چاہیے، کیونکہ یہی محنت انہیں ان کی عزت اور روزی روٹی فراہم کرتی ہے، چاہے اس کے بدلے انہیں کبھی کبھی اپنے خاص دن بھی نظر انداز کرنا پڑے۔

یومِ مزدور ایک دن کی تقاضا نہیں، بلکہ یہ ایک مسلسل جدوجہد کی پکار ہے۔ اگر ہم اس دن کا حقیقی مقصد سمجھیں تو ہم ایک ایسی دنیا کی تشکیل کر سکتے ہیں جہاں مزدوروں کی محنت کی قدر کی جائے، ان کے حقوق کا احترام کیا جائے، اور ان کی زندگیوں میں بہتر معیار فراہم کیا جائے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے