خدا حافظ اقوام متحدہ

کیا یہ محض ایک اتفاق تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قائم کردہ بورڈ آف پیس کے واشنگٹن ڈی سی میں اجلاس کے فوری بعد اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہاکبی نے بورڈ آف پیس کو ایک انٹرویو میں اڑا کر رکھ دیا ؟ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس پر سب سے زیادہ اعتراضات امریکا کے اندر اُٹھائے جا رہےتھے کیونکہ غزہ میں امن کے نام پر قائم کئے گئے اس ادارے میں غزہ کا کوئی ایک بھی نمائندہ شامل نہیں ۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق میں امریکا کے سابق نمائندے کر یگ موخیبر نے بورڈ آف پیس کو غزہ میں اسرائیل کے ناجائز قبضے اور فلسطینیوں کے قتل عام کو جاری رکھنے کی گھناؤنی سازش قرار دیا ۔

کریگ موخیبر نے 18 فروری کو ایکس پر جاری کردہ اپنے بیان میں کہا کہ جو فرد بھی اس اجلاس میں شریک ہوگا اُسے غزہ میں جاری سازش کا حصہ سمجھا جائے ۔ گھر کے بھیدی کریگ موخیبر نے بورڈ آف پیس میں شامل ہونے والوں کیلئے انتہائی سخت الفاظ استعمال کئے جن سے پتہ چلتا ہے کہ غزہ میں امن کے نام پر وہ کچھ ہونے والا ہے جسکے بارے میں ہم اور آپ سوچ بھی نہیں سکتے ۔

کریگ موخیبر نے صرف تین سال پہلے اقوام متحدہ کے آفس فار ہیومن رائیٹس میں ڈائریکٹر کے عہدے سے استعفا دیا تھا اور اپنے استعفے میں لکھا کہ اقوام متحدہ غزہ میں قتل عام روکنے میں مکمل طور پر ناکام ہے ۔ آج وہ اس قتل عام کو امریکا اور اسرائیل کی حکومتوں کی مشتر کہ سازش قرار دے رہے ہیں – غزہ میں امن کے نام پر قائم کئے گئے اس بورڈ آف پیس سے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے مستقل ارکان برطانیہ، فرانس ، چین اور روس بھی غائب تھے لیکن حیرت انگیز طور پر پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے بورڈ آف پیس میں شرکت کی ۔ ٹرمپ کی طرف سے اس اجلاس میں شہباز شریف کی جو پذیرائی ہوئی اُسے پاکستان کی بہت ہی بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا گیا لیکن بورڈ آف پیس کے اجلاس کے فوری بعد اسرائیل میں امریکا کے سفیر مائیک ہاکبی نے امریکی صحافی ٹکر کالسن کیساتھ ایک انٹرویو میں گریٹر اسرائیل کی حمایت کردی جس پر مشرق وسطیٰ سے افریقہ تک ہاہا کار مچی ہوئی ہے۔ مائیک ہاکبی نے کہا کہ اسرائیل کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ دریائے فرات سے دریائے نیل کے درمیان تمام عرب علاقوں پر قبضہ کرے ۔

ٹکر کالسن نے پوچھا کہ کیا آپ کہہ رہے ہیں کہ اسرائیل کو اُردن ، شام ، عراق اور سعودی عرب کے کچھ علاقوں پر قبضہ کرنے کا حق ہے تو مائیک ہاکبی نے بائیبل کا حوالہ دیکر کہا کہ وہ ان سب علاقوں پر قبضہ کر سکتے ہیں ۔آگے چل کر امریکی سفیر نے کہا کہ فی الحال تو اسرائیل صرف اُن علاقوں پر اپنا کنٹرول قائم رکھنا چاہتا ہے جن پر اسکا قبضہ ہے ۔ ان علاقوں میں یروشلم بھی شامل ہے ، گولان کی پہاڑیاں بھی شامل ہیں اور غزہ بھی شامل ہے ۔اسکا صاف مطلب یہ ہے کہ اسرائیل بیت المقدس سمیت مشرقی یروشلم کے اُن علاقوں کو خالی نہیں کرئیگاجن پر 1967 ء میں قبضہ کیا گیا اور غزہ پر بھی اسرائیل کا قبضہ برقرار رہے گا۔ مائیک ہاکبی کا انٹرویو ان تمام ممالک کی حکومتوں کے منہ پر زور دار طمانچہ تھا جواقوام متحدہ کی قرار دادوں کی روشنی میں ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتی ہیں ۔

ان ممالک میں صرف پاکستان اور سعودی عرب نہیں بلکہ برطانیہ اور فرانس سمیت کئی یورپی ممالک بھی شامل ہیں ۔ مائیک ہاکبی کے انٹرویو سے عرب ممالک کی سب حکومتیں لرز کر رہ گئیں۔ سعودی عرب ، مصر اور اردن سے لیکر یو اے ای تک تمام اہم عرب ممالک نے اسرائیل میں امریکی سفیر کے انٹرویو کی سخت الفاظ میں مذمت کر دی کیونکہ ہاکبی کوئی عام کیرئر ڈپلومیٹ نہیں بلکہ ٹرمپ کے قریبی دوست اور آرکنساس کے سابق گورنر بھی ہیں۔ مائیک ہاکبی نے پہلی دفعہ گریٹر اسرائیل کی حمائت نہیں کی ۔ وہ 2008 ء سے یہ بار بار کہتے چلے آ رہے ہیں کہ فلسطینی نام کوئی چیز موجود ہی نہیں ہے ۔ 12 نومبر 2024ء کو سی این این نے اُن کے بارے میں ایک تفصیلی رپورٹ نشر کی تھی جس میں بتایا گیا کہ ٹرمپ ایک ایسے شخص کو اسرائیل میں امریکا کا سفیر بنا کر بھیج رہے ہیں جو فلسطین کو مانتا ہی نہیں ۔

ٹرمپ واقعی غزہ میں امن قائم کرنا چاہتے تو مائیک ہاکبی کو اسرائیل میں امریکا کا سفیر نہ بناتے ۔ مائیک ہاکبی کی کوششوں سے ہی فلسطینی باشندوں کو غزہ سے نکال کر صومالی لینڈ میں بسانے کے منصوبے پر کام شروع ہوا اور اسی لئے اسرائیل نے ٹرمپ کی تائید سے صومالی لینڈ کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کر لیا ہے ۔ عرب ممالک کی حکومتیں مائیک ہاکبی کی مذمت سے فارغ نہیں ہوئی تھیں کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے بھارت کے ساتھ مل کر شیعہ انتہا پسندوں اور سنی انتہا پسندوں کے خلاف ایک وسیع تر علاقائی اتحاد قائم کرنے کا اعلان کر دیا ۔ اس اعلان کے بعد بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اسرائیل کے دورے پر تل ابیب پہنچ گئے ہیں ۔

اسرائیل اور بھارت کا گٹھ جوڑ ہمارے لئے کوئی نیا نہیں ہے۔ منگل کو پاکستان کی سینیٹ نے مودی کے دورہ اسرائیل کے تناظر میں اس گٹھ جوڑکے خلاف ایک قرارداد منظور کی ہے ۔ یہ قرارداد پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان نے پیش کی تھی ۔ اس قرارداد کامقصد اس تنقید کا جواب دینا نظر آتا ہے جو شہباز شریف کی طرف سے بورڈ آف پیس کے اجلاس میں شرکت کے بعد سامنے آ رہی ہے ۔ اب قراردادوں سے کچھ نہیں ہو گا۔اب ہمیں صرف غزہ کی نہیں بلکہ جموں و کشمیر کی بھی فکر کرنی چاہئے ۔ امریکا اور اسرائیل ملکرفلسطین پر اقوام متحدہ کی تمام قراردادوں کو ہضم کر چکے ۔ اب بھارت بھی اسرائیل کے ساتھ مل کر یہی کچھ جموں و کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے ساتھ کرنے والا ہے اور کشمیر کو غزہ ماڈل کے تحت کشمیری مسلمانوں کی قتل گاہ بنائے گا ۔

بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے منصوبے پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے ۔ ہمیں تو بتایا گیا تھا کہ شہباز شریف بورڈ آف پیس میں کشمیر کا مسئلہ اٹھائیں گے ۔ کشمیر کا مسئلہ تو نہیں اٹھایا جا سکا اب کم از کم کشمیر کو غزہ بنانے کی کو شش کو روکنے کیلئے آواز اٹھائیں ۔ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس نے اقوام متحدہ کی رہی سہی ساکھ بھی ختم کر دی ہے ۔ ہمارے حکمران اس غلط فہمی سے نکل آئیں کہ ٹرمپ اور مودی کے اختلافات سے پاکستان کوئی فائدہ اٹھا لے گا ۔ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایک ہی سکے کے دورخ ہیں ۔ آج نہیں تو کل نتین یاہو کی کوشش سے مودی اور ٹرمپ پھر سے شیروشکر ہو جائیں گے کیونکہ دونوں ایک دوسرے کے قدرتی اتحادی ہیں ۔ اب ہمیں ایک ایسی دنیا میں زندہ رہنے کا طریقہ سیکھنا ہے جہاں نہ امریکی امداد ہوگی، نہ آئی ایم ایف کا قرضہ ہوگا اور نہ ہی کسی مظلوم کو بچانے کیلئے اقوام متحدہ ہوگی۔
بشکریہ جنگ

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے